ڈمہ ڈولا میں مُلا فقیر محمد سے ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ روز جب ہم باجوڑ ایجنسی کے گاؤں ڈمہ ڈولا پہنچے تو وہاں عام خیال یہ تھا کہ امریکی حملے کا اصل نشانہ مُلا فقیر محمد کا گھر تھا لیکن نشانہ خطا گیا اور بے گناہ لوگ مارے گئے۔ مُلا فقیر محمد کالعدم تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے ایک اہم رہنما ہیں اور غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے سلسلے میں حکومت کو مطلوب ہیں۔ ان کے ایک بھائی افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ امریکیوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ان کے دوسرے بھائی حکومت کی قید میں ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ اس سے پہلے بھی ڈمہ ڈولا میں ان کے گھر پر چھاپہ پڑ چکا ہے جس کے دوران وہاں سے ایک ازبک باشندے کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ہم ابھی ڈمہ ڈولا میں ان کے بارے میں معلومات حاصل کر ہی رہے تھے کہ لمبے بالوں والا ایک جوان شخص اپنے تین چار مسلح محافظوں کے ساتھ وہاں آیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہی مُلا فقیر محمد ہیں۔ ہمیں اس بات پر بہت تعجب ہوا کہ حکومت کو مطلوب یہ شخص یوں کھلے بندوں گھوم رہا ہے۔ ہمیں یہ جان کر اور بھی حیرانی ہوئی کہ انہوں نے نہ صرف امریکی حملے میں ہلاک ہونے والوں کے جنازے میں شرکت کی بلکہ ان کے لیے قبریں کھودنے میں بھی مدد کی۔ میں نے مُلافقیر محمد سے پوچھا کہ ان کے خیال میں اس امریکی حملے کا اصل ہدف کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ حملے کا اصل مقصد لوگوں کو ڈرانا تھا تاکہ وہ مجاہدین کے ساتھ تعاون نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی خارجی (غیرملکی) نہیں جس کا بہانہ بنا کر حملہ کیا گیا ہو۔ ’امریکی ایسے حملوں سے جو بھی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہوں انہیں حاصل نہیں ہو سکتے۔ ایسے حملوں سے لوگوں کی غیرت بیدار ہوتی ہے، مجاہدین کی تعداد بڑھتی ہے اور ان کی قوت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ وزیرستان ہو یا عراق ایسے حملوں کا نقصان الٹا امریکہ کو ہی ہوا ہے۔‘ ’اگر حملے کا مقصد میرے گھر کو نشانہ بنانا تھا تو بھی یہ ایک غلطی تھی۔ خود مجھے پتا نہیں کہ میں رات کہاں گزاروں گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ میرے گھر کو نشانہ کیوں بنائیں گے؟ اگر حملے کا مقصد مجھے ہلاک کرنا ہے تو میں تو میدان میں ہوں۔ میں کسی حملے سے نہیں ڈرتا۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے کبھی القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو پناہ دی ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کی تو کبھی ایمن الظواہری سے ملاقات تک نہیں ہوئی۔ ’میری ایمن الظواہری سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن دِلی تمنا ہے کہ اِن سے ملاقات ہو۔ مجھے اس بات پر فخر ہوگا۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر القاعدہ کا کوئی رہنما ان کے پاس آئے تو کیا وہ اُسے پناہ دیں گے تو انہوں نے کہا کہ اگر مُلا عمر، اسامہ بن لادن یا ایمن الظواہری ان کے گھر آئیں تو پختون روایات کے مطابق انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ ’اگر مجاہد ہے اور پکا مومن ہے تو اُسے ضرور خوش آمدید کہیں گے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||