BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 January, 2006, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ ایجنسی میں بمباری پر احتجاج
باجوڑ ایجنسی میں افغانستان میں متعین امریکی افواج کی طرف سے ہونے والی بمباری پر پاکستان نے احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ معاملہ سہ فریقی کمیشن میں اٹھایا جائے گا۔ اس حملے میں بچوں اور خواتین سمیت سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کی حکومت کی جانب سے باجوڑ ایجنسی میں امریکی بمباری پر کئے جانے والے احتجاج کو کچھ تجزیہ نگار ’نرم احتجاج‘ اور محض ’خانہ پری‘ قرار دے رہے ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جب حکومت مبینہ ’بغاوت‘ کے نام پر بلوچستان میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف بمباری کرسکتی ہے کہ اس سے اس کا ’ریاستی اختیار‘ متاثر ہوتا ہے تو کیا باجوڑ ایجنسی پر غیرملکی حملے سے پاکستان ریاست کا ’اختیار‘ متاثر نہیں ہوتا؟ آپ کا اس پر کیا ردِ عمل ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

احمد علی گُل، ہری پور، پاکستان:
یہ وقت ضائع کرنے کا موقع نہیں ہے۔ ہماری حکومت پر پہلے ہی تنقید جاری ہے۔ ہم کو اس حملے کے خلاف ایکشن لینا ہوگا۔ حکومت کو کچھ کرنا ہوگا کیونکہ اس قسم کے واقعات سے حکومت کے خلاف منفی سوچ پیدا ہوگی۔ ہماری افواج کو حملہ روکنا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں ہوا جو کہ ایک سوال ہے؟

محّمد آصف انوار، فیصل آباد، پاکستان:
میرے خیال میں یہ صدر مشرف کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور ان کو امریکہ کا ساتھ دینے کے فیصلے پر شرم آنی چاہیے۔

اظہر خان، سعودی عرب:
مشرف صاحب کے اپنے بیوی بچے اُس گھر میں ہوتے جہاں لوگ مرے ہیں تب شاید مشرف امریکہ سے احتجاج کرتے۔ کیا پروا کہ اٹھارہ لوگ مُر گئے۔ ان سے کوئی تعلق تھوڑی تھا۔

جہانگیر مغل، پاکستانی زیر انتظام کشمیر:
میرے خیال میں پاکستان ابھی تک آزاد ملک نہیں ہے کیونکہ 1947 میں آزادی کے بعد سے حکومت نے ہمیشہ امریکہ سے ڈیکٹیشن لیا ہے۔ لہٰذا ہمارے اصل صدر مسٹر بش ہیں نہ کہ مشرف۔ ہمیں ان بائیس خاندانوں سے آزادی کی جنگ لڑنی ہوگی جو کسی نہ کسی طرح ہمیشہ سے حکومت میں رہتے ہیں۔ امریکہ کہتا ہے کہ اسُامہ دہشت گرد ہے، میرے خیال میں امریکہ سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔

شہزاد گمان، گجرات، پاکستان:
کیا ہم اپنے ملک میں رہ رہے ہیں؟ اگر ہاں تو پھر ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔

محمد یوسف، ملتان، پاکستان:
میں تو اس بات کا انتظار کر رہا ہوں کہ پاکستان کو امریکہ کی نوآبادی کا درجہ کب ملے گا۔ باقی سب فضول ہے۔ کیا ہوگا ہڑتال سے اور سب کچھ کرنے سے اور اس وقت میں اکبر بگٹی کے ساتھ ہوں جو حق پر ہے۔

اسد، کراچی، پاکستان:
امریکہ جو کر رہا ہے صحیح کر رہا ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ کمزور اور بزدل قوموں کے ساتھ ہمیشہ یہ ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ جو قوم خوداری اور عزّت سے جینا نہیں جانتی وہ ہمیشہ ظلم کا شکار رہتی ہے۔

گُل فراز اعوان، کراچی، پاکستان:
امریکہ کی بدمعاشی کی انتہا ہے۔ اور ہمارے حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا ہے۔

رضوان خان، کراچی:
جو کچھ بھی ہوا اس کا بہت افسوس ہوا لیکن اب حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لے اور امریکہ سے سخت احتجاج کرے۔ کہیں ایسا دوبارہ واقع رونما نہ ہو۔ اللہ خیر کرے ہم سب پر اور پاکستان پر۔

افتخار احمد کشمیری، لندن، برطانیہ:
ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں۔۔۔تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں۔۔۔۔
خدا مرحومین کی مغفرت کرے۔

طارق علی شاہ، برطانیہ:
جب ملک کا کرتا دھرتا ایک آدمی ہے جس کو ایم ایم اے نے بھی قبول کیا۔ اب قاضی کس بارے میں احتجاج کرتے ہیں؟ اب جب ملک غلام ہے تو غلام کی کیا زندگی ہوتی ہے ۔۔۔۔ جیسا آقا چاہے۔

خان محمد، کینیڈا:
ارے بھائی باپ سے بھی کوئی شکایت کرتا ہے۔ وہ مارتا ہے تو پیار بھی تو کرتا ہے اور آج کل پاکستان کی معیشت اسی کے اوپر تو چل رہی ہے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان:
کہاں ہیں شیخ رشید اور آئی ایس پی آر کے ترجمان شوکت سلطان صاحب جو پاکستانیوں کو قتل کرتے ہوئے ان ہی کو دہشت گرد کہتے ہیں اور جب پاکستان پر امریکہ یا کوئی اور حملہ کرے تو چپ رہا جاتا ہے۔ کیا یہ غیرت مند صرف پاکستانیوں کے لیے ہی ہیں۔

اظفر خان، کینیڈا:
حکومت کے اہلکار متضاد باتیں کر رہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ برا ہوا کبھی کہتے ہیں کہ غیر ملکیوں پر نشانہ خطا ہوا۔ جان کیری نے، جو کہ اس وقت پاکستان میں ہی تھے کھڑے کھڑے کہہ دیا کہ یہ جمہوریت نہیں ہے۔ فوج اور اس کے حواری جمہوریت جمہوریت کی رٹ لگا رہے ہیں۔ اب جب فوج کو واپس بیرکوں میں بھیجا جائے گا تو وہ عوام کا ہی خون بہائے گی۔

اسماء حکیم، نامعلوم:
احتجاج ان لوگوں کے خلاف بھی ہونا چاہیے جو دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں۔ پاکستانی حکومت احتجاج کا صرف رسمی حق رکھتی ہے کیونکہ ان علاقوں میں عملی طور پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

یوسف عثمانی، کراچی، پاکستان:
جو مرے وہ پاکستانی تھے، کیا فرق پڑتا ہے؟ پاکستانیوں کی زندگی کی کیا قدر، وہ تو شاید جانوروں سے بھی زیادہ سستی ہے۔ شاید کوئی اٹھے اور ہماری حفاظت کرے۔ ہم بھی ایک عزت دار، غیور قوم کہلائیں، کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں۔

عثمان خان، سعودی عرب:
افسوس بھی ہے اور اپنے حکمرانوں پر غصہ اور شرم بھی۔ اگر یہی حملہ امریکہ پر ہوتا تو وہ حملہ کرنے والے کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے۔ لیکن شاید ہماری قسمت میں بھی اسی طرح ذلت کی موت ہے۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
ایک چودھری صاحب نے امریکہ کا چمچہ بنتے ہوئے موجودہ حکومت کی بے غیرتی اور بزدلی کا دفاع کیا ہے۔ میں چودھری صاحب پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت پاکستان کی حالت عراق اور افغانستان سے بھی خراب ہے۔ وہاں اب بھی غیرت اور ہمت کا لفظ بولا جا سکتا ہے مگر یہاں اس حکومت میں یہ لفظ ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔

سعید احمد، نامعلوم:
باجوڑ میں جو ہوا وہ قابل مذمت ہے لیکن یارو دوستو کیا یہ سچ نہیں ہے کہ وہاں ہم نے طالبان کو پالا ہے؟ ہمیں پیار محبت، اخوت اور بھائی چارے کی زبان نہیں آتی۔ ہم مولویوں کی تلوار کو ہر چیز کا حل تصور کر بیٹھے ہیں۔ ہم مولویوں کے ڈسے ہوئے ہیں۔ اسلام امن کا مذہب ہے۔ ہمیں بھی امن سے رہنا چاہیے اور دوسروں کو بھی امن سے رہنے دیا جائے۔ کیا یہ ہمارے لیے مشکل ہے؟ ہم کیوں طالبان کی حمایت کرتے آرہے ہیں؟ صدر مشرف پاکستان کے لیے اچھا کر رہے ہیں۔ میں ان کو سلام پیش کرتاہوں۔

دانی، برطانیہ:
مشرف پاکستان کے ساتھ ہوں یا امریکہ کے، انھوں نے امریکی ہونے کا ثبوت تو دے دیا ہے۔ صحافت پر پابندی کس کے کہنے پر لگائی ہے۔ مجھے آرمی بہت پسند ہے مگر اب جو کچھ ہوا ہے اس سے مجھے مشرف بہت برے لگے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے نہ صرف مشرف کو مشکل ہوگی بلکہ امریکہ بھی لگتا ہے اب۔۔۔۔۔۔اگر بلوچستان میں گولی کا جواب گولی ہے تو باجوڑ میں میزائل کا جواب میزائل کیوں نہیں؟ کیا صرف اپنے ہی برے ہیں۔

عثمان نصیر، جرمنی:
جب ہمارے معاشرے میں انصاف ہی اٹھ جائے تو یہی کچھ ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں انصاف نہیں ہے اس لیے قدرت کی طرف سے ظالم حکمران مسلط ہوگئے ہیں۔ اللہ ہمارے ملک کو ایسے بندوں سے بچائے۔

عاطف بشیر، اسلام آباد، پاکستان:
یہ ہماری سالمیت پر حملے کے مترادف ہے اور ہم اس پر بھرپور احتجاج کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بھی اس کا اظہار بھرپور طریقے سے کرے۔

اکرام چودہری، نامعلوم:
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ حکومت کے حلاف تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن جن لوگوں نے بن لادن کو پناہ دے رکھی ہے ان کے بارے میں کچھ نہیں کہتے، آج پاکستان جس موڑ سے گزر رہا ہے وہ سب القائدہ اور طالبان کا دیا ہوا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کا حال عراق یا افغانستان جیسا نہیں ہے۔

وصی اللہ بھمبھرو، سندھ، پاکستان:
یہ سب صرف خانہ پری ہے۔ ایم کیو ایم جو کہ حکومت کی اتحادی جماعت ہے اس نے بھی ایم ایم اے کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف ریلی نکالی ہے مگر اس بات کا عوام کو علم نہیں ہے کہ انہوں نے کسی اور بات پت حکومت کے سامنے احتجاج کیا۔ سندھی نیوز پیپر ڈیلی کاوش کے دس جنوری کے اخبار میں لکھا گیا ہے کہ ایم کیو ایم نے الٹیمیٹم صرف بلوچستان کے مسئلے پر دیا۔۔۔

عدیل، لاہور، پاکستان:
اب وہ وقت آنے والا ہے کہ امریکہ بغیر پوچھے حملے کرے گا اور ان کا حدف پاکستان کا کوئی بھی شہری ہوسکتا ہے۔

علی اعوان، اسلام آباد، پاکستان:
کیا پاکستانی لیڈر شپ کو امریکہ کا اتحادی ہونے پر شرم نہیں آتی۔ ہمارا دفاع کہاں ہے جو معصوم لوگوں کی حفاظت نہیں کرسکتا۔

صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان:
جس ملک کے نام نہاد صدر ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرتے ہوں، چاہے وہ کالاباغ ڈیم ہو یا کسی ایسی عورت کا ملک میں رہنے یا باہر جانے کا مسئلہ ہو، جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو۔ لیکن جب امریکہ سے احتجاج کرنا ہو تو ان کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکل رہا۔ راکیٹ، میزائل اور بارود کیا صرف اپنے عوام پر چلانے کے لیے ہیں؟

سالار بلوچ، کوئٹہ، پاکستان:
یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ خود کو بچانے کے لیے ہمارے حکمران اپنے ہی لوگوں کے قتل کے بارے میں خاموش ہیں۔ مشرف تو بش انتظامیہ کو خوش کرنے اور اپنی کرسی بچائے رکھنے میں ہی مصروف ہیں۔۔۔

اسد ملک، فن لینڈ:
ایک ہفتے بعد احتجاج کرنے والے بھی بھول جائیں گے۔ اسی طرح ہوتا رہا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔

یاسر سعید، برطانیہ:
مجھے ان ہلاکتوں سے بہت زیادہ افسوس ہوا ہے اور میری ہم دردی ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں کے ساتھ ہے۔ میں یہ بھی کہنا چاہوں گا ہمارے بےغیرت حکمرانوں کو چاہیے کہ ملک کی بھاگ دوڑ عوام کے ہاتھ میں دے دیں۔

یاسر مختار، اسلام آباد، پاکستان:
اگر مشرف پاکستانی اور مسلم ہے تو آج ہی اس کا جواب دیں گے۔۔۔

فتح عالم، فرانس:
مشرف امریکہ کے دوست ہیں جبکہ فیڈل کاسٹرو، احمدی نژاد، شمالی کوریا کے صدر وغریرہ امریکہ کے دشمن۔۔۔کیا خوب ہے کہ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھ ڈالنے والوں کی قوم محفوظ ہے، جبکہ جی حضوری کرنے والے۔۔۔کیا ہمیں سمجھنے کو مزید ’اشارے‘ چاہئیں؟

ہارون، نامعلوم:
یہاں جو بھی ہوا ہے ظلم ہوا ہے اور یہ مشرف کی تباہی کا آغاز ہے۔ میں اس واقعہ سے پہلے مشرف کا حامی تھا مگر اب نہیں۔

خالد کوہات، پاکستان:
اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ یہ پاکستانی حکمران ہی ہیں جن کے وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ یہ کیسے احتجاج کر سکتے ہیں؟

امتیاز صادق، پاکستان:
ابتدائے عشق ہے روتا ہے
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہےکیا۔۔۔

فاروق خان، نامعلوم:
امریکی حمایت کی وجہ سے ہی مشرف حکرانی کر رہے ہیں۔ انہیں ہر نازک موقع پر امریکی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب زلزلے کے لیے دی گئی امداد کے پیسوں کا مسئلہ پیدا ہوا تو بلوچستان کا مسئلہ شروع کر دیا گیا۔ اب جب بلوچستان کا مسئلہ زیادہ سنگین ہو گیا ہے تو وہاں سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ کیا گیا ہے۔

مجیب، اسلام آباد:
میں اس واقعہ پر صرف افسوس کر سکتا ہوں اور اپنے حکمرانوں سے صرف یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ خدا کے لیے تم ایک اسلامی ملک کے سربراہ ہو۔۔۔

احمد خان رانا، لاہور، پاکستان:
مشرف صاحب ’رِٹ‘ کی بات کرتے ہیں۔ اب امریکی فوجیوں کی بمباری کرنے پر ان کی ’رِٹ‘ کہاں گئی؟ میزائل کا جواب میزائل سے دیا جائے۔ کیا یہ میزائل صرف اپنوں کو مارنے کے لیے بنائے گئے ہیں؟

عامر رفیق، لندن، برطانیہ:
برائے مہربانی امریکہ یا بُش کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں ورنہ ہمارے صدر جناب پرویز مشرف کو اچھا نہیں لگے گا۔۔۔

محمد فیصل، جرمنی:
مشرف جیسے حکمرانوں کی وجہ سے ہی ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے اور ہماری حکومت کچھ نہیں کر پاتی۔ کیا فائدہ ان ہتھیاروں کا جن کے لیے پیسے عوام ہر سال اپنا پیٹ کاٹ کر فوج کو دیتی ہے، اور یہ حکمران اسے اپنے ہی لوگوں پر بم برسانے پر لگا دیتے ہیں۔۔۔

لطف اسلام، برطانیہ:
ہمیں پاکستانی قبائلیوں سے پوچھنا ہے کہ کیا وہ خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں یا نہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ ان کی نظر میں القاعدہ اور طالبان ان کے دوست ہیں اور وہ ہر موقع پر ان کی حمایت کرتے ہیں۔۔۔

شہزاد میاں، امریکہ:
یہ صرف محض ’خانہ پری‘ ہے۔ یہی اگر کسی مقامی گروپ نے کیا ہوتا تو مشرف صاحب خود بم ممار دیتے۔۔۔تو احتجاج کا فائدہ۔۔۔؟

علی آفریدی خان، پشاور:
مٹا دے اپنی ہستی کو، اگر انتقام لینا ہے تو۔۔۔احتجاج تھوڑا ہو یا بہت اقوام عالم کے لیے کافی ہے، یہ دکھانے کے لیے کہ امریکہ کیا کر رہا ہے۔

اسد خان، اسلام آباد:
اکہتر کے بعد سے ہمارا ایک ہی دشمن (انڈیا) اور ایک ہی دوست (امریکہ) ہے۔ اتنا ہمیں دشمن نے ذلیل نہیں کیا جتنا دوست نے۔ آپ صرف یہ سوچیں کہ اگر یہی کام انڈیا نے کیا ہوتا تو ہمارا کیا جواب ہوتا؟ ہمارے صدر کا لہجہ اپنے عوام کے لئے کیسا ہے اور امریکہ کے لئے کیسا؟ ہمیں تو اپنے صدر کے دانت بھی امریکہ ہی کے دورے پر دکھائی دیتے ہیں۔ دیکھ لیں کہ ابھی تک ان کی طرف سے کوئی مذمتی بیان نہیں آیا۔ ع:
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

عدیل، نیویارک:
مجھے اپنے حکمرانوں سے شدید نفرت ہے۔ معذرت کے ساتھ میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ان میں کوئی غیرت و حمیت نہیں۔

علی خان، دوبئی:
امریکہ کے خلاف کوئی کچھ نہیں کرسکتا حتیٰ کہ بی بی سی اور اقوامِ متحدہ بھی۔ آخر ان لوگوں کا قصور کیا تھا۔

افضل حق مجاہد، راوالپنڈی:
باجوڑ ایجنسی پر امریکی حملہ موجودہ حکومت کی یہ خوش فہمی ختم کرنے کے لئے کافی ہے کہ امریکہ کبھی ہمارا دوست ہوسکتا ہے اور یہ کہ امریکہ کے نزدیک پرانی دوستی یا وفاداری کی کوئی اہمیت ہے۔ اصل میں یہ امریکہ کا کلچر ہی نہیں۔ حہ حملہ دراصل اس غلامی کا تسلسل ہے جو ہم نے نائن الیون کے بعد اپنی آزادی اور غیرت خرید کر خود خریدی۔ ایک غلام کا کیسا احتجاج؟ اختیار صرف آزاد قوموں کو ہوتا ہے۔ رہی ہماری حکومت اور فوج تو وہ تو بس اب اپنے ہی لوگوں کا خون بہا سکتی ہے۔ دشمن نے پاکستان کی زمین پر کب کوئی کارروائی کی اس بات کا پتہ بھی اسے دشمن سے ہی چلتا ہے۔

بابر راجہ، جاپان:
ہماری حکومت پر بیرونی دباؤ بہت ہے، یہ صرف اپنے عوام کو تسلی دینے کے لیے اور کرسی بچانے کے لئے بیان بازی اور خانہ پری کررہی ہے۔

اویس خان، فیصل آباد:
پاکستان کے حکمران جنس فروخت ہیں جنہیں صرف اپنے مفاد سے غرص ہے اور وہ مفاد ہے ملک پر غاصبانہ قبضہ تاکہ ملک کو بھنبھوڑ کھائیں۔ یہ احتجاج صرف پردہ ڈالنے کے لئے ہے اور ’ان‘ کی اجازت سے ہی ہوا ہے۔

سعید احمد بیگانہ، جاپان:
ہم تو ہلکی سی آہ یا کراہ بھی نہیں نکال سکتے، احتجاج کی ہمت کیسے کرسکتے ہیں، اتحادی جو ٹہرے۔

عبید اللہ صفی، سعودی عرب:
مشرف نے تو پاکستان کو امریکہ کی کالونی بنا دیا ہے، نجانے ہم کب آزاد ہوں گے۔

مصور حسین، سپین:
سِخت سے سخت احتجاج کیا جائے اور جواب اگر کچھ اور ممکن ہے تو وہ بھی کیا جائے۔

آئی ایم ویری سوری
 حکومت اس مرتبہ بھی کوئی بہانہ بنالے گی، امریکی حکومت سوری کرلے گی اور دو دن میں احتجاج ختم ہوجائے گا۔
وقار عباسی، فیصل آباد

وقار عباسی، فیصل آباد:
حکومت اس مرتبہ بھی کوئی بہانہ بنالے گی، امریکی حکومت سوری کرلے گی اور دو دن میں احتجاج ختم ہوجائے گا۔ جو بھی ہوا غلط ہوا لیکن چپ رہنے میں ہی ہماری حکومت کی بہتری ہے ورنہ امریکہ بہادر کہیں افغانستان اور عراق کے بعد۔۔۔۔

وسیع اللہ شنواری، برطانیہ:
یہ ایک ملک کے لئے شرم کی بات ہے کہ اس کے شہری اس بے دردی سے ہلاک کردیئے جائیں۔ پاکستانی حکومت اتنی بے رحم ہے کہ وہ امریکہ سے اتنے ظالمانہ فعل پر کھل کر احتجاج بھی نہیں کرسکتی۔ اس طرح کی حکومت سے پاکستان کے متحد رہنے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

محمد کبیر، کراچی:
اس بمباری کے بعد پاکستان انتہائی بری صورتِ حال سے دوچار ہے۔ یہ ایک آزاد ملک کے معاملات میں مداخلت کے برابر ہے۔ امریکہ کو متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنا چاہئے۔

محمد فیصل، سرگودھا:
یہ ایک انتہائی بیہودہ حرکت ہے۔ پاکستان کے لوگ اتنی بڑی فوج کو اسی لئے پال رہے ہیں کہ وہ بیرونی جارحیت سے ان کی حفاظت کرے۔ اگر فوج یہ نہیں کرسکتی تو کیا صرف مارشل لگانا جاتی ہے۔

ساہمرید بلوچ، کینیڈا:
احتجاج صرف ایک جمہوری ملک کرتا ہے، پاکستان میں کوئی جمہوریت ہے ہی نہیں تو احتجاج کیسا۔ پاکستان میں پشتون، بلوچ یا سندھی کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔

دلدار اسلم راجہ، دبئی:
امریکہ پاکستان میں جو چاہے کرسکتا ہے، پاکستان کی کیا جرات ہے کہ امریکہ کے خلاف بولے۔

عمیر خان، دہران:
میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان بے گناہ لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے اور کسے سزا دی جائے گی۔

فرخ ممتاز، قطر:
افغانستان کے میزائل حملے کا جواب میزائلوں سے ہی دیا جائے اور یہ حملہ امریکی اور الائیڈ فورسز کے ہیڈکوارٹر پر کیا جائے۔

قبائلی علاقوں میں فوج کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہےآپ کی رائے
قبائیلی علاقوں میں ہونے والی لڑائی کااثر کیاہوگا؟
بلوچوں کے احساسِ محرومی کا ذمہ دار کون ہے؟بلوچ، فوج اور مرکز
بلوچوں کے احساسِ محرومی کا ذمہ دار کون؟
برطانوی مسلمانوںمشکلات میں اضافہ؟
برطانوی مسلمانوں کے خلاف حملے: آپ کی رائے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد