صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگتی میں فوج اور قبائل کے درمیان فائرنگ ہورہی ہے اور اس میں بھاری اسلحے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ فرنٹیئر کور کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ایف سی کے چالیس اہلکار قبائلیوں کے گھیرے میں ہیں اور ان کی رہائی کے لیے باقاعدہ فوج کی مدد طلب کی گئی ہے جن کے ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹر بھی اس آپریشن میں موجود ہیں تاہم فائرنگ کی وجہ سے وہاں ابھی تک کارروائی نہیں کی جاسکی۔ جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگتی نے کہا ہے کہ باقاعدہ فوجی آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری آبادی پر فائرنگ سے بڑی تعداد میں خواتین بچے اور مرد ہلاک ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر ان ہلاکتوں کو تصدیق نہیں ہو سکی۔ کیا یہ جھڑپ بلوچستان میں بغاوت کو مزید بھڑکانے کے مترادف ہیں؟ آخر گفت وشنید کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں کیوں ناکام ہوتی نظر آتی ہیں؟ بلوچوں کے احساسِ محرومی کی ذمہ دار فوج ہے، مرکز یا خود بلوچ سردار؟ کیا یہ مسئلہ پنجاب اور سندھ میں بھی پھیل سکتا ہے جہاں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے؟ آپ کا اس کے متعلق کیا نقطِ نظر ہے؟ ہمیں لکھ بھیجیے۔ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی رائے سے ایک انتخاب نیچے درج ہے۔
حسنین رضا، ملبورن، آسٹریلیا: اگر سردار بلوچستان کا مسئلہ ہیں تو میرا سوال یہ ہے کہ فوج اور انٹیلیجنس والے اس وقت کہاں تھے جب سرداروں کے پاس کھانے کونہیں تھا؟ ان سرداروں کو کس نے مضبوط کیا؟ اگر ایک شخص کے پاس اسلحہ آ جائے تو وہ اسے گھر میں سجا کر نہیں رکھےگا۔ آج حکومت انہیں سرداروں پر الزام لگا رہی ہے جو حکومت کے پروں تلے جوان ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک میں اکثر مسئلوں کی وجہ یہ ہے کہ انہیں وقت پر حل نہیں کیا جاتا۔ماجد خان، امریکہ: بلوچ لوگ بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کی پاس اکبر بگتی جیسے رہنما ہیں جو ان کے حقوق کے لیے لڑنے کو تیار ہیں۔  | بات اتنی ہے!  بات ہے صرف بگتی قبیلے کو اس رقم کی فراہمی کی جو وہ سوئی پلانٹ کی حفاظت کے لیے لیتے ہیں۔ بگتیوں کو رقم مل جائے گی اور لوگ ریپ کیس اور بلوچی عوام کو پھر سے بھول جائیں گے۔  علی نقوی، آسٹریلیا |
علی نقوی، سڈنی، آسٹریلیا: موجودہ صورت حال کا جنسی زیادتی کے واقعہ یا بلوچستان کے عام لوگوں کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بات ہے صرف بگتی قبیلے کو اس رقم کی فراہمی کی جو وہ سوئی پلانٹ کی حفاظت کے لیے لیتے ہیں۔ بگتیوں کو رقم مل جائے گی اور لوگ ریپ کیس اور بلوچی عوام کو پھر سے بھول جائیں گے۔ندیم الطاف، کیلگری، کینیڈا: نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مشرف صاحب اور بگتی صاحب میں سے کوئی ایک ضروراس ملک کو ٹوٹنے کی طرف لے جا رہا ہے۔افسوس ہے ان پاکستانیوں پر جو ملک کوسنبھال نہیں رہے۔ آفتاب احمد شیخ، کراچی: ہم نہیں سمجھتے یہ بغاوت پھیل سکتی ہے کیونکہ پاکستان رہنے کے لیے قائم ہوا ہے۔ پاکستان کو توڑنے کا خواب دیکھنے والے سردار منہ کی کھائیں گے۔ صدر مشرف نے جس طرح اللہ کی مدد سے باقی مسائل حل کیے ہیں یہ مسئلہ بھی حل کر لیں گے۔ ہمیں قبائلی نظام ختم کرکے ترقی کے ثمرات عام بلوچی تک پہنچانے چاہئیں۔ ڈاکٹر مقصود علی آرائیں، خیرپور: مانا یہ سب کچھ بگتی صاحب کا کیا دھرا ہے لیکن کیا اکیلے مشرف اس مسئلہ کو حل کر سکتے ہیں؟ ہر گزنہیں۔ ملک میں ایسے حالات صرف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب جمہوری حکومت نہیں ہوتی۔ مشرف صاحب کو چاہیے کہ وہ حکومت ان کے حوالے کریں جن کو لوگ چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر ناصر حمید، اسلام آباد: ان سب حالات کی ذمہ داری فوج ہے جو آج بلوچ بھائیوں کو طاقت کے استعمال کی دھمکی دے رہی ہے۔ کوئی جنرل مشرف سے پوچھے کہ کارگل کے وقت ان کی بہادری کو کیا ہوا تھا؟ جبران حسنین، کراچی: جب تک حکومت پاکستان بلوچستان کواس کے حقوق نہیں دیتی ڈیرا بگتی جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ گیس نکلتی بلوچستان سے ہے لیکن وہاں کے لوگوں کس نہیں ملتی! عمران، کینیڈا: مانا کہ بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے اور اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا لیکن جاگیردار اور سردار بھی عام آدمی کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ یہ لوگ صرف اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ فریحہ قریشی، ورجینیا، امریکہ: بات بلوچوں کے احساس محرومی کی نہیں بلکہ بات ہے سرداروں کی اجارہ داری کی۔ حکومت بلوچستان کی ترقی کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے وہ کسی سےڈھکے چھپے نہیں۔ سوئی میں گیس پلانٹ ہو، گوادر کی بندرگاہ یا ایران انڈیاگیس پائپ لائن۔۔ہرجگہ بلوچی لوگوں کو روزگار ملے گا۔ جہاں تک حقوق کی بات ہے تو پاکستان کے کس صوبے کو جائز حقوق مل رہے ہیں؟ بگتی صاحب کو ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے کی بجائے مفاحمت سے کام لینا چاہیے۔
 | محب وطن یا مظلوم؟  بہت سے لوگوں کے لیے بلوچ اگر اس ظلم میں خاموشی سے پستے ہوئے مارے جاتے ہیں تو وہ محبِ وطن ہیں ورنہ نہیں۔ باقی جہاں تک سرداروں کا تعلق ہے تو مرکز اور ان کا گٹھ جوڑ کس کو معلوم نہیں۔  حسیب خان، ملتان |
حسیب خان، ملتان: دلچسپ بات اس فورم پر یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ جو پنجاب یا باہر سے آراء بھیج رہے ہیں وہ صرف الزام سرداروں پر دھر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بلوچستان میں مرکز اور فوج مسئلہ نہیں سردار مسئلہ ہیں۔ جو بلوچستان کے رہنے والے ہیں انہیں کچھ اور نظر آرہا ہے۔ جناب اگر بلوچستان میں تین فوجی آپریشن ، صوبائی حکومتوں کی معطلی اور مرکز کی مسلسل مداخلت کے باوجود سردار مضبوط ہیں تو قصور کس کا ہے۔ مجھے ڈر یہ ہے کہ ہم سقوطِ ڈھاکہ سے پہلے بھی اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے۔ دیکھیے یہ معاملہ اٹھانے کا مطلب خطرے کی گھنٹی بجانا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے بلوچ اگر اس ظلم میں خاموشی سے پستے ہوئے مارے جاتے ہیں تو وہ محبِ وطن ہیں ورنہ نہیں۔ باقی جہاں تک سرداروں کا تعلق ہے تو مرکز اور ان کا گٹھ جوڑ کس کو معلوم نہیں۔ بلکہ مرکز تو اکبر بگٹی کے گناہ دھو کر انہیں ہیرو بنانے کے چکر میں ہے۔ پرویز بلوچ، سویڈن: بلوچوں کو حقوق دینے کی بجائے ان کاقتل عام کیا جا رہا ہے۔ سرداروں کی آواز بلوچ قوم کی آواز ہے۔ ارسلان اقبال، وہاڑی: بلوچستان کا مسئلہ تو جو ہے وہ ہے لیکن بی بی سی کا کردار بھی کچھ کم برا نہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ آپ سرداری نظام اور سرداروں کی پرائیویٹ آرمی اور پرائیویٹ جیلوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ راہ ہموار کر رہے ہیں بلوچستان کی علیحدگی کی۔ عبدالحق کیپٹن، چاغی: فوجی آپریشن ایک کھلی دہشت گردی ہے اس لیے اس کی مذاحمت ہونا ایک فطری عمل ہے۔ پرویز اختر، مسقط: صدر مشرف اور بگتی صاحب کو ملاقات کرنا چاہیے اور دونوں کو چاہیے کہ اس بات کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ اللہ ان کو ہدایت دے۔
 | بلوچ کیا کریں؟  آپ خود بلوچستان جا کر دیکھیں۔۔نہ کام ہے، نہ تعلیم کی سہولیات۔ پہلے بلوچ خلیج کی ریاستوں میں جاکر اپنا پیٹ پال لیتے تھے اب کئی سالوں سے یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے۔بلوچ کیا کریں؟  اسکنی بلوچ، سویڈن |
فیصل رضا، لاہور: اگر قیام پاکستان کے فوراً بعد بلوچستان میں تعلیم کو عام کیا جاتا تو آج لوگوں کواچھا برا خود نظر آتا۔ ہماری حکومتوں نے بلوچستان میں تعلیم نہ پھیلا کر ایک ایسے طبقے کوزندہ رکھا جو کہ جدید تہذیب کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ صوبے کےقبائلی علاقوں میں کوئی بھی اپنی زندگی کا فیصلہ خـود نہیں کر سکتا۔ ہم لوگ ان غریبوں کی زندگی کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔کیا یہ لوگ اس قید سے نکل سکیں گے یا سرداروں کی سیاست کا چارہ بنتے رہیں گے؟ بلوچ مینگل: صدر مشرف کا یہ کہنا کہ یہ ایک معمولی مسئلہ ہے اور آپریشن سے حل ہو جائے گا غلط ہے۔ ایک بلوچ ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ یہ صرف حقوق کی لڑائی نہیں بلکہ بلوچستان کی آزادی کا مسئلہ ہے۔ منور شہوانی، کوئٹہ: اس سب کی ذمہ دار فوج اور پرویز مشرف ہیں۔ فاروق مسن، کراچی: بلوچستان ایک طویل عرصے سے غلامی اور محرومی کی زندگی گزار رہا ہے اور وہاں کا ظالمانہ سرداری نظام ترقی میں حائل ہے۔ سن ستر میں اگر ذوالفقارعلی بھٹو اپنا غیر ملکی دورہ ترک کر کے کوئٹہ نہ آتے، جلسئہ عام سے خطاب نہ کرتے، صوبائی حکومت کو برطرف کرکے سردار اکبر بگتی اوراختر مینگل کو ساتھ اسلام آباد نہ لے جاتے تو روس اور افغانستان ایک آزاد بلوچستان کو تسلیم کر چکے ہوتے۔ اس طرح آج ساری خلیجی ریاستیں روس کے قبضے میں ہوتیں۔ آج پھر ویسی ہی صورتحال ہے لیکن اس دفعہ بلوچستان کےسردار کسی دوسری سپر پاور کے کہنے پر حکومت سے جنگ پر تیار ہیں۔ اسکنی بلوچ، سویڈن: یہ جنگ بلوچوں کی کئی سالوں کی تباہ حالی کا نتیجہ ہے۔ ان کا غصہ لاوے کی طرح دبا ہوا تھا۔ آپ خود بلوچستان جا کر دیکھیں۔۔نہ کام ہے، نہ تعلیم کی سہولیات۔ پہلے بلوچ خلیج کی ریاستوں میں جاکر اپنا پیٹ پال لیتے تھے اب کئی سالوں سے یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے۔بلوچ کیا کریں؟ جبل درویش، میرپورخاص: آپ نے میری رائے شامل نہیں کی کیونکہ آپ کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں جو بلوچوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ عثمان بھٹی، پیرس: جب مشرف صاحب میانہ روی(ماڈریشن) کی بات کرتے ہیں تو انہیں ہر معاملے میں میانہ روی دکھانا چاہیے، چاہے یہ معاملات سیاسی ہوں، مذہبی ہوں۔ میانہ روی کا سبق صرف اس وقت نہیں دینا چاہیے جب آپ کو مناسب لگے۔ بلوچستان کی صورت حال مشرف صاحب کی سیاسی مہم جوئی کا نتیجہ ہے۔ خدارا سیاسی عمل کو چلنے دیں کیونکہ معاملے کی نزاکت کا تقاضہ ہے کہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اشفاق بلوچ، جرمنی: بھارت سے صلح اور مظلوم بلوچوں سے جنگ؟ بلوچوں کو ان کے حقوق دے دیے جائیں تو تمام مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ اور اگر آپریشن کیا گیا تو پھر تباہی ہو کر رہے گی۔ شکیل بلوچ، کوئٹہ: پاکستانی حکومت کبھی بھی بلوچیوں کے حقوق کےلیے سنجیدہ نہیں رہی ہے۔ اسے بلوچ لوگوں سے زیادہ ان کے وسائل سے دلچسپی رہی ہے۔اگر بلوچستان میں کوئی آپریشن ہوتا ہے تو ہر بلوچی اس کو خود پر حملہ تصور کرےگا۔ میرا خیال ہے ہر بےروزگار بلوچی کے یہی خیالات ہیں۔ بلوچانی اسکنی، بلوچستان: اگر آپریشن ہوا تو اس سے حالات بہترہونے کی بجائے مذید بگڑجائیں گے۔ فرازعلی: میرا خیال ہے اب یہ مسئلہ ہوجاناچاہیے۔ یہ صرف تین سرداروں کی بات ہے، خاص طور پر بگتی صاحب کی۔ مشرف صاحب کا شکریہ کہ وہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 | قبائلی نظام!  یہ مسئلہ صرف بلوچستان کا نہیں کیونکہ پاکستان کے دوسرے قبائل بھی خود کو ملکی قانون سے بالا سمجھتے ہیں۔  عبدالرحمٰن آزاد |
فیصل محمود، سرگودھا: احساس محرومی بلوچ عوام سے زیادہ سرداروں کو ہے۔ انہیں اپنی سرداری ختم ہونے کا خطرہ ہے۔محمدخان، کوئٹہ: بلوچستان کی صورت حال بہت خراب ہے کیونکہ بگتی قبیلے کے لوگ مارے جائیں یا ایف سی کے جوان، مر تو پاکستانی رہے ہیں۔ اگر حکومت واقعی مسئلے کوحل کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ اسے بات چیت کے ذریعے حل کرے۔ سید عمیرشاہ، امریکہ: مجھے تو لگتا ہے کہ بڑی طاقتیں علاقے میں کوئی بڑا کھیل کھیل رہی ہیں۔ بات بلوچ سرداروں کے ہاتھ سے نکل چکی ہے کیونکہ وہ پاکستان کے خلاف نہیں ہیں۔بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کل جب گوادر کی بندرگاہ بن جائے تو انہیں پاکستان کی حکومت کی بجائے مقامی قبائل سے معاملات طے کرنے پڑیں۔ یہ مسئلہ یا تو اب حل ہوسکتا ہے یا کبھی نہیں۔ شاہر مرزا، کراچی: جو سردار اپنے علاقے میں سکول نہیں کھولنے دیتا وہ بلوچستان کو کیا حق دلوائے گا۔ احمد خان سندرانی، لسبیلہ: بلوچستان کے لوگ بلوچستان پر پاکستانی سامراجیت کے خلاف ہیں۔ اصغرنیازی، جڑانوالہ: سردار چاہتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دے اور انہیں ماضی کی طرح اب بھی بھاری رقوم دے۔ ڈیرہ بگتی پاکستان کا حصہ ہے، اس لیے وہاں پر بھی قانون کی بالادستی ہونا چاہیے۔
 | پسماندگی کی سیاست!  بلوچستان میں تعلیم، صحت اور صنعتی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ بگتی صاحب جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں اور باقی لوگوں کو بھی بھڑکا رہے ہیں۔  محمد فیاض، امریکہ | محمد فیاض، امریکہ: ہماری اکثر حکومتوں نے چھوٹے صوبوں کی ترقی کے لیے کچھ نہیں بلکہ اپنی جیبیں ہی بھری ہیں۔ بلوچستان میں تعلیم، صحت اور صنعتی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔بگتی صاحب جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں اور باقی لوگوں کو بھی بھڑکا رہے ہیں۔شاہد ارشد، خان پور: یہ مسئلہ بلوچ سرداروں اور مرکزی حکومت کا پیدا کردہ ہے اور دونوں فریق عوام کو بےوقوف بنا رہے ہیں۔ آپریشن سے سوائے غریب آدمی کی موت کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ حاتم بلوچ، کوئٹہ: بلوچستان کا مسئلہ پورے ملک میں پھیل سکتا ہے۔ ارسلان رشید: بلوچ سردار بلوچستان میں ترقی نہیں دیکھ سکتے جبکہ بلوچستان کے لوگ اس سرداری نظام سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ محمد عابد انصاری،: اس مسئلے کو فوج سے زیادہ بلوچ سردار بڑھا رہے ہیں۔ آصف بلوچ، نصیرآباد: بلوچ ایک الگ ملک چاہتے ہیں۔ عبدالرحمٰن آزاد، مظفرآباد: یہ مسئلہ صرف بلوچستان کا نہیں کیونکہ پاکستان کے دوسرے قبائل بھی خود کو ملکی قانون سے بالا سمجھتے ہیں۔ یہ قبائل یہ بھی چاہتے ہیں لوگ تعلیم نہ حاصل کریں تاکہ ان کی سرادری قائم رہے۔ اسلم اقبال، وہاڑی: ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بی بی سی کس منظم انداز میں پراپیگنڈہ کر رہی ہے۔ لگتا ہے آپ کو اکبر بگتی کا موقف پیش کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ خدارا اس آگ کو ٹھنڈا ہونے دیں اور حق اور سچ بات شائع کریں۔ لبنیٰ ندیم، دبئی: بلوچ سردار چاہتے ہی نہیں کہ ان کے علاقے میں ترقی ہو کیونکہ اس سے ان کی سرداری کو خطرہ ہے۔ جاوید زمان، جاپان حکومت اور قبائلی سرداروں کے جھگڑے میں عام آدمی ہی قربانی کا بکرا بن رہا ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ ذاتی مفادات کی خاطر کھڑا کیا گیا ہے۔ سردار ہوں یا سیاستدان سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ ریاض فاروقی، کراچی: یہ حقوق سے زیادہ مفادات کی جنگ ہے۔ سردار قوم پرستی کا نعرہ تو لگاتے ہیں لیکن صرف کھوکھلے نعروں سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ معظم خواجہ، امریکہ: کسی فرد یا گروہ کو ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ریحانہ سردار، پاکستان: بلوچ عوام نہایت پسماندہ ہیں اور ان کے سردار اس پسماندگی کو وجہ بنا کر انہیں بغاوت پر اکساتے ہیں۔ رحمان آزاد، جیکب آباد: بلوچستان پر ملٹری آپریشن کوئی نئی بات نہیں۔ حکومت ہمسایوں سے مذاکرات کرتی ہے لیکن اپنے عوام سے گولی کی زبان میں بات کرتی ہے۔ ضیا اللہ خان، کینیڈا: بلوچ عوام اپنے سرداروں کے مفادات کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ جہانزیب سلیم، لاہور: جب کوئی بھی حکومت بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو بلوچ اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ اس وقت یہ مسئلہ ڈیڈ لاک کا شکار ہو چکا ہے اور اس وقت اس کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا ہے۔ بلوچی سردار اس مسئلے کی بنیادی وجہ ہیں۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو بقیہ صوبوں میں بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ مبشر حسین، سعودیہ: خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا محمود بشیر، وہاڑی: جب تک بلوچ عوام تعلیم حاصل نہیں کرتے اور اپنے ذہن کو کشادہ نہیں کرتے وہ اپنے سرداروں کے ہاتھوں یونہی بے وقوف بنتے رہیں گے۔ زاہد رانا، گوجرانوالہ: یہ آپریشن بلوچوں کو مشتعل کرنے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس کا اصل مقصد بلوچستان میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام کو جائز ثابت کرنا ہے۔ محمد اکرم بلوچ، تربت: بلوچستان کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک بلوچوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جائیں گے۔ حکومت بلوچوں کو پاکستانی سمجھنے پر تیار نہیں اور یہی چیز بلوچوں میں نفرت پیدا کرتی ہے۔ اشتیاق احمد، یو اے ای: جب گھر میں ہمارے آگ لگی سامان بچا تھا جلنے سے اور وہ بھی ان کے ہاتھ لگا جو آگ بجھانے آئے تھے۔ محمد عارف، ڈھورو نارو سندھ بلوچستان میں جو ہوا اور جو ہو رہا ہے وہ صحیح نہیں۔ یہ مسئلہ بات چیت سے حل ہونا چاہیے۔ طاقت کے استعمال سے بلوچوں میں احساسِ محرومی پیدا ہو رہا ہے جو ملکی سالمیت کے لیے بہتر نہیں۔ سیف اللہ، امریکہ یہ سب بگتی کا ڈرامہ ہے۔ بلوچوں کو اب بیدار ہو جانا چاہیے ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔ آمنہ میمن، سکھر: یہ مسائل قبائلی رہنماؤں کے پیدا کردہ ہیں۔ نوید اشرف: حکومت کو جلد بازی نہیں دکھانی چاہیے اور بلوچ سرداروں کو بھی جو بالکل ایک غصے میں آجانے والے لڑکے کی طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں۔ ان دونوں کو اس عوام کی طرف توجہ دینی چاہیے جن کے پاس کوئی سہولیاتِ زندگی نہیں ہیں۔ عارف حسین، سویڈن: پاکستان کی فوج نے جو آگ بلوچستان میں لگائی ہے اسے سالوں تک نہیں بجھایا جا سکے گا اور یہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ندیم مرزا، فیصل آباد: یہ اچھا نہیں ہورہا۔ گل انقلابی سندھی، دادو: یہ بلوچستان کے غیور عوام کے خلاف پاکستانی فوج کا چوتھا اور شاید آخری آپریشن ثابت ہوگا۔ آخر پاکستان کی فوج اپنے ہی عوام کو کیوں مارتی ہے؟ سید حیدر رضا رضوی، کینیڈا: بلوچ سردار اس کے ذمہ دار ہیں جو حکومت سے بہت کچھ حاصل کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ہتھیار مہیا کرتے ہیں مگر تعلیم نہیں دیتے۔ ان کا خیال ہے کہ بلوچستان کے تمام قدرتی وسائل ان کے لیے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب سرداری نظام کا خاتمہ ہوجانا چاہیے۔  | روپ کئی مگر شکاری ایک  عام بلوچ صدیوں سے پس رہا ہے۔ مرکز، فوج اور سردار مختلف لباسوں میں ایک ہی شکاری ہیں۔  ایاز مزاری، رحیم یار خان |
ایاز مزاری، رحیم یار خان: 1- جی ہاں، اس سے بغاوت پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ 2- گفتگو کی ناکامی کی وجہ خود فوج اور نواب اکبر بگتی کی انا ہے۔ دونوں فریق بظاہر ہار ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ 3- ایک عام بلوچ صدیوں سے پس رہا ہے۔ مرکز، فوج اور سردار مختلف لباسوں میں ایک ہی شکاری ہیں۔ 4- پنجاب اور سندھ کے بلوچ اس سے ضرور متاثر ہوں گے جب انہیں بلوچستان کا راگ سنایا جائے گا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ حکومت نواب اکبر بگتی کو مار کر خواہ مخواہ ہیرو کا درجہ دلوا دے گی اور وہ اماد بلوچستان کے پہلے شہید کہلائیں گے۔ ایم آئی، کینیڈا: ہماری فوج ایک سر کٹے دیو کا نام ہے جس میں طاقت تو ہے مگر ایسی جس نے پورے ملک کو ایک آسیب کی طرح گھیر لیا ہے۔ یہ سب امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ حاتم بلوچ، پنجگور: بنگلہ دیش جیسا حال ہو گا۔ |