 |  بلوچستان کی ستر فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے رہ رہی ہے |
ایسا کیوں ہے کہ پچھلے اٹھاون برس کے دوران بلوچستان میں چار بغاوتیں ہو چکی ہیں۔کیا وجہ ہے کہ جو صوبہ پاکستان کی گیس کی زیادہ تر ضروریات پوری کرتا ہے اس صوبے کا بیشتر حصہ اس سہولت سے محروم ہے ۔ وہ صوبہ جو کوئلے کی ساٹھ فیصد ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ نوے فیصد اونیکس پتھر کی پیداوار دیتا ہے، جہاں لاکھوں ٹن تانبا زمین میں دبا ہوا ہے، جو سب سے طویل ساحلی صوبہ ہے وہاں کی ستر لاکھ کی مختصر سی آبادی کا ستر فیصد حصہ زمین سے ذرا سا اوپر مگرخطِ غربت سے کہیں نیچے رہ رہا ہے؟ بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے؟ کیا بلوچ قوم کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات درست ہیں یا بلوچ قوم پرستوں پر لگنے والے الزامات؟ گوادر کی بندرگاہ سے فائدہ کسےمل رہا ہے مقامی بلوچوں کو یا کہ باہر سے آنے والوں کو؟صوبے کو مزید فوجی چھاؤنیوں کی ضرورت ہے یا نہیں؟ آپ کے خیال میں بلوچستان کا بنیادی مسئلہ کیا ہے اور اس کا حل کیسے ممکن ہے؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
جاوید حیدر، نیدرلینڈ: بلوچ لوگوں کو چاہئے کہ وہ تعلیم، صحت اور دیگر وسائل کی بہتری کے لئے جدوجہد کریں، نہ کہ گوادر میں چند عہدوں کے لئے۔ کیونکہ اس کوشش میں ہوگا یہ کہ عام آدمی کو عہدے ملنے کے بجائے، سردار کے چند دوستوں کو عہدے مل جائیں گے۔ پاکستان میں سردار، ملک، چودھری، ایسٹیبلِشمنٹ اور سیاست دان غریبوں کے حقوق پر قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ دانش احمد، امریکہ: سندھ میں کئی بار ملٹری آپریشن ہوا، صوبہ سرحد میں آپریشن ہوا اور اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ بلوچستان میں بھی فوجی آپریشن ہورہا ہے۔ لیکن بلوچستان میں یہ پہلی بار نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پنجاب میں ملٹری آپریشن کبھی نہیں ہوا۔ میرے خیال میں اب اسلام آباد میں آرمی کے اندر آپریشن کی ضرورت ہے۔ فیصل غازی زئی، کراچی: بلوچستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں پچاس سالوں سے محرومی ہے۔ گوادر پورٹ تو بن سکتا ہے مگر کوئی پالی ٹیکنک سنٹر نہیں بن سکتا۔ پورے بلوچستان میں کتنے کالج ہیں، کتنی یونیورسٹیاں ہیں؟ کیا اللہ نے صرف کراچی اور پنجاب کی ماؤں کو ذہین بچے پیدا کرنے کی صلاحیت دی ہے۔۔۔۔ شکیل اختر، پاکستان: میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ بی بی سی صرف ایسے ہی موضوع کیوں سیلیکٹ کرتی ہے، جس میں پاکستان آرمی کی کھینچائی ہوسکے۔ میں نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ کوئی ایسا ٹاپِک زیربحث آئے جس میں جنرل مشرف یا آرمی کو کریڈِٹ جاتا ہو، مثال کے طور پر ساؤتھ امریکہ سے قریبی تعلقات، بگلیہار ڈیم جرات مندانہ موقف، وغیرہ۔ بینیش صدیقہ، ناظم آباد: بلوچستان میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ فوج کی وجہ سے ہورہا ہے۔ اس فوج نے ہی پاکستان کے دو ٹکڑے کرائے تھے اور اب تین کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔ آج سب مانتے ہیں کہ بنگالی غدار نہیں تھے، انہیں ان کا حق نہیں ملا تھا تو انہوں نے گھی ٹیڑھی انگلیوں سے نکال لیا۔ یہ بات اس وقت کیوں فوج کی سمجھ میں نہیں آئی۔ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔۔۔۔  | بلوچوں کے وسائل بلوچوں کےلئے  گیہوں کی طرح جو پہلے پنجاب میں تقسیم کی جاتی ہے اور پھر دوسرے صوبوں کو مہیا کی جاتی ہے، بلوچستان کے وسائل پہلے بلوچوں کے استعمال میں آنے چاہئیں اور اس کے بعد ہی دوسروں کو ملنے چاہئیں، گیس کی طرح نہیں جو پہلے سبھی کو مل جاتی ہے اور بعد میں بلوچوں تک پہنچتی ہے۔  نسیم الدین، کینیڈا |
نسیم الدین، کینیڈا: گیہوں کی طرح جو پہلے پنجاب میں تقسیم کی جاتی ہے اور پھر دوسرے صوبوں کو مہیا کی جاتی ہے، بلوچستان کے وسائل پہلے بلوچوں کے استعمال میں آنے چاہئیں اور اس کے بعد ہی دوسروں کو ملنے چاہئیں، گیس کی طرح نہیں جو پہلے سبھی کو مل جاتی ہے اور بعد میں بلوچوں تک پہنچتی ہے۔ مسئلہ آسان ہے، حل بھی آسان ہے۔ اس پر عمل کون کرے گا؟ آرمی مافیا پاکستان میں لوٹ اور بےانصافی کی ذمہ دار ہے۔عمران خان مینگل، نوشکی: ستاون سالوں کی آزادی کے بعد بھی ہم تمام بلوچ اسلام آباد اور پاکستانی فورسز کے غلام ہیں۔ ہمارے حالات کشمیریوں، عراقیوں اور فلسطینیوں کی طرح ہیں۔ ریاض فاروقی، کراچی: بلوچستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ جیسے برِٹِشرز نے پورے ہندوستان پر حکومت کی اور چند لوگوں کو خان بہادر اور رائے بہادر کہہ کر بھولی بھالی عوام پر بٹھادیا، وہی طریقہ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کی حکومتوں نے اختیار کیا۔ چند سرداروں جن سے جس حکومت کی بھی بنتی ہے ان کو وزیراعلیٰ اور گورنر بنادیا جاتا ہے اور باقی کو انگوٹھا دکھا دیا جاتا ہے جس سے ان سرداروں میں بےچینی پیدا ہوجاتی ہے اور پھر وہ غلط ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ محمد نثار خان، امریکہ: یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اسلام کی پیروی نہیں کر رہا اور یہ مسائل تب تک درپیش رہیں گے جب تک ہم صحیح طریقے سے اسلام کی پیروی نہیں کرتے۔ عامر مستوئی، پاکستان: جب تک آپ انہیں پاکستانی کے بجائے بلوچی کہتے رہیں گے یہ سب کچھ ہوتا رہے گا۔ حکومت کو ان کی جائز ضروریات پوری کرنی چاہیے۔ محبت کی ضرورت ہے ، تمام مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے۔ عبدالسلام بلوچ، جرمنی: سب سی پہلے میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کا شکرگزار ہوں کہ وہ میڈیا کی ذریعہ بلوچ قوم کے مسائل سامنے لے کر آئے ہیں۔ ماضی میں بھی اس قسم کے بہت سے واقعات ہوئے ہیں لیکن میڈیا کی کوریج نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ دفن ہو جاتے تھے۔میں خبردار کرتا ہوں پاکستان آرمی، پنجاب اور صاحب اقتدار لوگوں کو کہ بلوچ قوم کو اس طرح کی دھمکیاں دینا بند کریں اور ہمیں ہمارا ماضی یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلوچ قوم کے ہر فرد کو سب کچھ یاد ہے اور آج کا بلوچ بہت پختہ، ذہین اور معیار پر پورا اُترنے والا انسان ہے اور ہر قسم کی کارروائی کا بھرپور جواب دینے کے قابل ہے۔ شمس لطیف خان، کویت: سب سے پہلے حکومت کو وہاں کے مقامی لوگوں کو قدرتی وسائل، کانوں اور گیس سے ہونے والے فوائد پہچانے چاہیے اور بعد میں دوسرے صارفین کو ان کی فروخت کرنی چاہیے۔ مبشر عزیز، جرمنی: اگر بلوچستان میں سرداروں کو ختم کر دیا جائے تو نوے فیصد مسائل تو ختم ہو جائیں گے۔ بلوچستان کے حقوق کے نام پر اپنی سرداری کو چمکانے والے ان بدمعاشوں کو فوج کے ذریعہ ختم کر دیں تو تب ہی غریب آدمی کو فائدہ ہوگا ورنہ بلوچستان کے غریب عوام ہمیشہ غریب ہی رہیں گے اور سردار اس چھوٹے صوبے کے حقوق کے نام پر کبھی روئیلٹی کھائیں گے اور کبھی عہدے حاصل کریں گے۔ سید حسین، امریکہ: بلوچستان کے سرداروں کو اس صوبے میں ترقی نہیں چاہیے کیوں کہ اس سے وہ اپنی ریاست اور حکومت کھو دیں گے۔ یہ لوگ بلوچستان میں آرمی چھاؤنیوں کے خلاف ہیں۔ یہاں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اگر وہ وہاں کچھ غلط نہیں کر رہے تو انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں آرمی کی چھاؤنیاں ہیں اور لوگوں کو کوئی شکایت نہیں ہے تو پھر صرف ان لوگوں کو مسئلہ کیوں ہے؟ جواب آسان ہے کہ وہ سردار نہیں چاہتے کہ وہاں کے عوام ترقی کریں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ لوگ بھی اپنے آباؤاجداد کی طرح ہمیشہ ان کی غلامی کریں۔ ذیشان طارق، سیالکوٹ، پاکستان: بلوچستان کے سردار صرف اپنے فائدے کے لیے غریب عوام کی جانوں سے کھیلتے ہیں اور اپنے مالی مفاد کے لیے انہوں نے وہاں کے عوام کو ایک ایسے قوم میں تبدیل کر دیا ہے جو باقی کی دنیا سے بلکل کٹ کر رہ گئے ہیں اور وہ وہی دیکھتے اور کرتے ہیں جو ان کے سردار ان سے کہتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران بھی اپنی کرسی کے لالچ میں ان سرداروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔  | بلوچ حکمران ذمہ دار ہیں  بلوچستان کے حکمرانوں نے وہاں کے عوام کو اپنا محکوم رکھنے کے لیے تعلیم اور دوسری سہولیات کو ان سے دور رکھا اور اس طرح سے انہوں نے دوہرا فائدہ حاصل کیا وہ یہ کہ عوام بھی جاہل رہی اور اپنے حق کو پہچان نہ سکے۔  شیراز، پاکستان |
شیراز، پاکستان: بلوچستان کے حکمرانوں نے وہاں کے عوام کو اپنا محکوم رکھنے کے لیے تعلیم اور دوسری سہولیات کو ان سے دور رکھا اور اس طرح سے انہوں نے دوہرا فائدہ حاصل کیا وہ یہ کہ عوام بھی جاہل رہی اور اپنے حق کو پہچان نہ سکے۔ دوسری جانب حکومت پر یہ دباؤ رکھا کہ وہ وہاں کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کر رہے۔ جب کہ یہ ان سرداروں کا فرض تھا کہ وہ اپنے علاقے کی عوام کے لیے حکومت سے گرانٹ حاصل کریں۔ ناصر علی جعفری، کوئٹہ، پاکستان: بلوچستان کے سردار بہت امیر ہیں اور بادشاہوں جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ اگر بلوچ تعلیم حاصل کر لیں گے تو ان کی بادشاہت ختم ہو جائے گی۔ اس لیے وہ اپنے علاقے میں ترقی نہیں ہونے دیتے اور اُلٹا علاقے میں امن و امان کو درہم برہم کر کے حکومت کو دھمکاتے ہیں۔ حکومت ان کی اس چال سے واقف ہے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ علاقے میں امن اور خوشحالی لانے کے لیے ان مجرم سرداروں کو سرِعام پھانسی دے دی جائے۔ فیصل ڈاھری، نواب شاہ، پاکستان: مسئلہ عوام کی مفلسی اور حکمرانوں کی بے بسی ہے۔ جاوید اقبال، پاکستان: بلوچوں کےمطالبات درست ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ سے باہر کے لوگوں کو فائدہ ملے گا اور بلوچ اقلیت میں بدل جائیں گے۔ صوبے کو کسی چھاونی کی ضرورت نہیں ہے۔ بلوچوں کو خودمختاری دے دیں اور ان کو ان کے حقوق دے دیں تو سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ رائے عمران، فیصل آباد، پاکستان: بلوچستان کے سرداروں کو عوام کی ترقی نہیں چاہیے۔ انہیں تو صرف ہر منصوبے اور تمام وسائل میں اپنا حصہ چاہیے اور بس۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے قیام سے ہی بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کو بہتر بنانے کے لیے انہیں تعلیم دیں اور ان میں ہنر پیدا کریں تاکہ وہ بلوچستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ناصر خان، کوئٹہ، پاکستان: یہ سب امریکہ کی سازش ہے جو گوادر پر قبضہ کرنے کے چکر میں ہیں جس میں پرویز مشرف برابر کے شریک ہیں۔ نوید نقوی، کراچی، پاکستان: سچ بات یہ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ بلکل کراچی کے مسئلے کی طرح ہے۔ جس طرح سے بڑے صوبے سے آنے والوں نے کراچی کو یرغمال بنا لیا ہے ایسے ہی وہ بلوچستان کو بھی یرغمال بنانا چاہتے ہیں۔ کراچی کا حشر دیکھ کر اب بلوچستان ہی نہیں بلکہ پاکستان کا ہر صوبہ ایسا ہی کرے گا جیسا بلوچ کر رہے ہیں۔ ہر صوبے کے لوگوں کو ان کے صوبے میں روزگار دیا جائے اور ان کو ان کے صوبے تک محدود رکھا جائے۔ سرور کھوکھر، پاکستان: پاکستان ایک گھر ہے جس کے چار دروازے ہیں۔ آپ کسی بھی دروازے کو استعمال کر لیں اک ہی گھر میں داخل ہوں گے۔ یہ ساری صورتحال سیاست دانوں کی پیدا کردہ ہے جن کو اس سے ذاتی مفادات پہنچتے ہیں۔ اسد نظامانی، پاکستان: انصاف کی کمی اور دوسری وجہ تعلیم کی کمی ہے جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ انعام اللہ حسن، مالاکنڈ، پاکستان: مجھے بی بی سی اس لیے پسند ہے کہ یہ ہر موضوع پر بات کرنے کے لیے ایک فورم کا آغاز ضرور کرتے ہیں۔ اس طری کے موضوع اگر ہماری حکومت شروع کرے تو بہت اچھا ہوگا۔ بات آج جس موضوع پر ہے تو یہ حقیقت ہے کہ حکومت ہر صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں کی طرح سلوک کر رہی ہے۔ تین صوبے وفاق سے ناراض رہتے ہیں اور ایک صوبہ خوش ہے۔ خود ہمارے صوبےکو دیکھ لیں کبھی آٹا نہیں ملتا تو کبھی بجلی نہیں ملتی۔ وفاق کو چاہیے کہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کریں تو انشااللہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا نہیں تو پھر سے 1971 جیسے حالات ہوں گے۔ میں بی بی سی کے ذریعہ وفاقی حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ سب کو توجہ دیں۔ طارق سعید، پاکستان: ایک طرف تو بلوچ سردار ترقی پسند بن کر عوام کے حق کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود عوام کے حقوق غصب کیے بیٹھے ہیں۔ وہ گیس کے نام پر لوگوں کو غصہ دلا رہے ہیں لیکن انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ کل کو اگر کھیوڑہ کے لوگ کہیں کہ وہ کسی کو نمک نہیں دیں گے تو کیا ہو گا؟ کیا سوئی گیس پورے ملک کے لیے نہیں ہے جو یہ لوگ اتنا شور مچا رہے ہیں۔ خدا کے لیے بلوچستان کی نہیں پورے ملک کی بات کیجیے۔ غیر ملکی ایجنٹ نہ بنیں اسی میں سب کا فائدہ ہے۔ محمد احمد مفتی، کینیڈا: میرے خیال میں بلوچستان کا بنیادی مسئلہ تعلیمی پسماندگی ہے۔ گزشتہ اور موجودہ حکومتوں نے کبھی اس صوبے کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی طرف توجہ نہیں دی۔ اب پچاس سال بعد بلوچ نوجوان بےروزگاری کا شکار ہیں اور ان میں اتنی قابلیت بھی نہیں کہ انہیں کوئی روزگار مل سکے۔ جب تک بلوچستان اور ملک کے تعلیمی نظام کی بنیاد مقابلے پر نہیں رکھی جاتی اسے بلند نہیں کیا جا سکتا اور بلوچ ہی کیا کسی بھی پسماندہ علاقے کے نوجوان کو اس علاقے کی ترقی سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ نور الامین، دبئی: اگر بلوچستان والے کوئی مطالبہ کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے اور حکومت پر لازم ہے کہ ان کا مطالبہ پورا کریں۔ مگر احتجاج کا یہ طریقہ سراسر غلط اور ملک دشمنی ہے۔ شہزاد حسن، جرمنی: میرے خیال میں مسئلہ بلوچ عوام کا نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا ہے۔ عبداللطیف، پاکستان: بلوچستان کا مسئلہ آزادی ہے۔ جی ہاں بلوچوں کی جانب سے کیا جانے والا مطالبہ بلکل درست ہے۔ گوادر کی بندرگاہ سے پنجاب اور چین کا فائدہ ہے اور بلوچوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اگر بلوچوں کو آزادی دی جائے تو یہ مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔  | جدھر دیکھو فوج ہی فوج  یوں تو فوج ہر ملک کی ہوتی ہے لیکن یہ ملک تو شاید بنا ہی فوج کے لیے تھا۔  محمد شفیق، پاکستان |
محمد شفیق، پاکستان: یوں تو فوج ہر ملک کی ہوتی ہے لیکن یہ ملک تو شاید بنا ہی فوج کے لیے تھا۔ ہر طرف فوج ہی فوج نظر آتی ہے۔ بلاشبہ قبائلی سردار بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ سارا مسئلہ فوج کا ہی پیدا کردہ ہے جس کی بھوک مٹنے میں نہیں آرہی۔عابد راجپوت، کینیڈا: یہاں ہم پاکستانی چاہے وہ جو بھی زبان بولتے ہوں اس صورتحال پر افسردہ ہیں۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جو سیاست دانوں نے کیا وہ غلط تھا اور اب جو حکومت کر رہی ہے وہ اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ تمام وسائل پر پہلا حق بلوچوں کا ہے۔ ایک دوسرے کو مارنا بند کرو اور انہیں ان کا حق دیا جائے۔ کامران منور، لاہور: میرے خیال میں اصل مسئلہ وہ نواب اور سردار ہیں جو ہر ترقی کی راہ میں رکاوٹ حائل کرتے ہیں۔اگر بلوچ عوام پڑھے لکھے ہوتے تو انہیں ان کا حق آسانی سے مل جاتا۔ امجد خان،امریکہ : بلوچ مسئلہ وہی ہے جو بنگلہ دیش کا تھا۔ اگر بلوچستان کو اس کا حق نہ دیا گیا تو پاکستان کو ایک اور حصہ کھونا پڑے گا۔ یہ سب پاکستان کے سب سی بڑے صوبے پنجاب کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہو رہا ہے جو بنگلہ دیش کے معاملے میں بھی ہوا تھا۔ امجد خان، پاکستان: بلوچستان کا اصل مسئلہ احساس محرومی ہے۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن اسے اس کا حق نہیں مل رہا۔ اس پر بلوچ بھائی آواز اُٹھاتے ہیں تو انہیں غدار کہا جاتا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ سے بلوچوں کو فائدہ ملنا چاہیے۔ مسئلے کا حل مذاکرات ہیں کیوں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں۔ اللہ ہماری حالت پر رحم کرے۔ فرخ بٹ، لاہور: میرے خیال میں بلوچستان کا مسئلہ تعلیم ہے۔ چند قبائلی سرداروں نے اپنے لوگوں کو غلام بنایا ہوا ہے اور لوگ بھی جہالت کی وجہ سے انہیں اپنا آقا مانتے ہیں۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ کیا گولیاں اور راکٹ چلانے سے ان کا معیار زندگی بلند ہوگا یا پھر تعلیم سے یہ انقلاب آئے گا؟ جنید، کراچی : حکومت بلوچ عوام کو ان کے حقوق نہیں دینا چاہتی اور دوسری طرف نہ ہے سردار اپنی عوام کے لیے یہ حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں جانب کوئی بھی مخلص نہیں۔ عفاف اظہر،کینیڈا : بلوچستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کی حق تلفی اور ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ ان سے فائدہ تو سب لے رہے ہیں اور لیتے آئے ہیں مگر ان کی ترقی کو اور اس صوبے کے فوائد کا کسی نے نہ تو سوچا ہے اور نہ ہی آج تک کوئی قدم اٹھایا ہے۔ ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ہی ان سب حالات کی وجہ ہے۔  | حق، حقدار کا  بلوچ عوام پر لگنے والے الزامات ٹھیک نہیں۔ یہ کمزور کو دبانے کی کوشش ہے اور اس مسئلہ کا بہترین حل یہ ہے کہ اس قوم کو اس کا حق ملنا چاہیے۔  فاطمہ شیخ، کینیڈا |
فاطمہ شیخ، کینیڈا : میرا خیال ہے کہ جس کی جو چیز ہے اسے اس کا معاوضہ ملنا چاہیے۔ پاکستان کو گیس اور قدرتی ذخائر سی جتنا فائدہ ہو رہا ہے اس خطے کے عوام کو خوشحال ہونا چاہیے۔ وہاں کی آبادی بھی بہت کم ہے۔ بلوچ عوام پر لگنے والے الزامات ٹھیک نہیں۔ یہ کمزور کو دبانے کی کوشش ہے اور اس مسئلہ کا بہترین حل یہ ہے کہ اس قوم کو اس کا حق ملنا چاہیے۔جبران خلیل، لاہور : بلوچستان کی غربت ہی ان سب مسائل کی وجہ ہے ایک ایسا صوبہ جو قدرتی وسائل سے بھرپور ہو اور خود ہی ان وسائل کو استعمال میں نہ لاسکتا ہو تو کیا یہ المیہ نہیں ؟ جب ہم ان کے صوبے سے اتنا کچھ حاصل کر رہے ہیں تو انہیں کیوں نہیں دے رہے۔ کرن احمد، کینیڈا : بلوچستان پاکستان کا دل ہے اور ان کو اس بات کا یقین کروانا ضروری ہے کیوں کہ ایسے مسائل وہاں ہی ہوتے ہیں جہاں پر یقین اور اعتماد کی کمی ہو۔ جاوید منائی، جاپان : اسلام کی تعلیم ہے کہ ہر انسان برابر ہے۔ پاکستان میں یہ حکومت اور سردار عوام کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔ جس دن یہ لوگ غریبوں کو بھی انسان سمجھنے لگیں گی تو بلوچستان کا ہی کیا بلکہ ہر مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ طیبہ چودہری، کینیڈا : مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان کے لیڈر اپنی طاقت کو جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ انہیں پتہ ہے کہ اگر غریب عوام تعلیم حاصل کر لیں گے تو وہ ان کا کہا نہیں مانیں گے۔ وہ سردار اپنی حکومت قائم رکھنے کے لیے تمام صوبائی وسائل پر قابض رہنا چاہتے ہیں۔ علی حسن، جنوبی افریقہ: پاکستانی حکمرانوں نے بلوچستان کو ہمیشہ ایک مقبوضہ اور بلوچوں کو اپنا غلام بنا کے رکھا ہے۔ دنیا میں کون سا ایسا ملک ہے جس نے اپنے ہی باشندوں پر ہیلی کاپٹروں اور جیٹ ہوائی جہازوں سے بم برسائے ہوں۔اگر کسی قوم پر کوئی بھی ظلم کی انتہا کر دے تو ظاہر ہے اس قوم میں رفتہ رفتہ شعور بیدار ہو جائے گا اور وہ حکمرانوں کے ظلم اور زیادتیوں کے خلاف بندوق اُٹھا لیں گے۔ بلوچستان کے ساتھ بھی پاکستانی حکمرانوں نے گزشتہ نصف صدی سے ظلم و جبر کے سوا کچھ نہیں کیا۔ بلوچستان کے عوام اب ان حکمرانوں سے تنگ آچکے ہیں کیوں کہ انہوں نے ہمیشہ انہیں دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ واضح رہے کہ بلوچستان کا پاکستان کے ساتھ الحاق بھی زبردستی کیا گیا تھا۔ رحیم بخش بلوچ، جاپان: ہمیں پاکستان سے اپنا حق چاہیے۔ ہمیں روزگار، صحت اور تعلیم چاہیے۔ لیکن جب ہم اپنے حق کی بات کرتے ہیں تو ہماری سنتا کون ہے؟ اور حکومت کہتی ہے کہ بلوچ عوام کو آزادی چاہیے۔ حکومت کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ اس ملٹری حکومت کو بلوچستان کے عوام کے لیے کچھ بہتر کرنا چاہیے اور بنگال والی غلطی کو دوبارہ نہیں دہرانا چاہیے۔ زیب شاوانی، پاکستان: بلوچستان کے مطالبات درست ہیں۔ منور خان، امریکہ: اگر وہ سرداری نظام کو پر امن طریقے سےختم کردیں تو ان کے حالات پاکستان کے دوسرے حصوں کی طرح ہو سکتے ہیں۔ مدثر چودہری، جنوبی افریقہ: 1971 میں فوجی حکومت نہیں تھی۔ بھٹو صاحب کا عوامی دور تھا اور اس دور میں نواب اکبر بگٹی اس آپریشن کے انچارج تھے۔ آج وہ اپوزیشن میں ہیں اور آپریشن کے خلاف بول رہے ہیں۔ یہ صرف اور صرف پیسے کا کھیل ہے۔ مینگل صاحب گوادر سے آٹھ سو کلومیٹر دور ہیں اور غریب گوادر والوں کی پریشانی میں مر رہے ہیں۔ اصل میں وہ تو بلوچ ہیں ہی نہیں۔ یہ تمام پروپگنڈا ملک کو توڑنے کی غیر ملکی سازش کا ایک حصہ ہے۔ بلوچ سردار صرف پیسے کے بھوکے ہیں اور انھیں بلوچوں کی ترقی دل سے قبول نہیں ہے۔ یہ لوگ بلوچستان کو ہمیشہ پسماندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ سمی بلوچ، بلوچستان: ہم اس آپریشن سے اتفاق نہیں کرتے۔ صحیح مسئلے کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔ ہم بلوچستان اور گوادر میں ترقی کے حامی ہیں اور ہم اس کی مخالفت نہیں کر سکتے۔ یہ آپریشن نہ کیا جائے۔  | جو بویا سو کاٹا  ہے۔ہر حکومت نے سرداروں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا اور اب وہ عوام کو استعمال کر رہے ہیں۔  احسان بٹ، پاکستان |
احسان بٹ، پاکستان: اتنے سالوں میں کس نے ان کے حقوق کا خیال رکھا؟ بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ان کا بھی حق تھا اور ہے۔ہر حکومت نے سرداروں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا اور اب وہ عوام کو استعمال کر رہے ہیں۔مصطفٰی، دبئی: میں اپنے بلوچ بھائیوں سے اپیل کرتا ہون کہ خدارا اس ملک کو ترقی کرنے دیں۔ سردار کبھی بھی آپ کو ترقی کرنے نہیں دیں گے۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، پاکستان نہیں تو کوئی بھی نہیں۔ میں خود بلوچستان سے تعلق رکھتا ہوں۔ غفور کلدانی، بلوچستان: آزادی ہی بلوچستان کے مسئلے کا حل ہے۔ سردار صحیح ہیں اور حکومت غلط ہے۔ محمد آصف، پاکستان: میرے خیال سے بلوچستان کی پسماندگی میں جتنا قصور وفاق کا ہے اتنا ہی سرداروں اور نوابوں کا بھی ہے اور بلوچستان میں صرف بلوچ ہی نہیں رہتے بلکہ پختون بھی رہتے ہیں۔ سعید نواز، سویڈن: جب تک سردار رہے گا بلوچ بیمار رہے گا۔ شاہدہ اکرام، عرب امارات: ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سےغیر جانبداری سے ایک بات کہتی ہوں کہ کسی کو کبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے اور جو جس کا حق ہے اسے ملنا چاہیے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہمارا یہ صوبہ جو ہر طرح سے قدرتی دولت سے مالا مال ہے اس دولت میں ان کا کوئی حق ہی نہ ہو۔ میرے خیال میں بلوچ قوم کا اصل مسئلہ ان کی غربت ہے جس سے نکلنے کے لیے کوئی بہت زیادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ جو کچھ ان کی حدود میں ہے انھیں ملنا ہی چاہیے۔ وہ جو بھی مطالبہ کریں میری نظر میں وہ جائز ہے۔ بلوچ قوم ایک بہادر قوم ہے۔ پاکستان پر اور پاک فوج پر ان کے بہت احسانات ہیں۔ بلوچ ریجمینٹ آرمی کی بہادر ریجمینٹ اور ملک کی خاطر قربانیاں دینے والی ریجمینٹ ہے۔ ہمیں ان کی اور ان کی قوم کی قربانیوں کی قدر کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر عامر فاروقی، ملیشیا: بلوچستان کا مسئلہ وہاں کے قبائل کے وہ سردار ہیں جو نہیں چاہتے کہ ان کے ماتحت ترقی کریں۔ اپنے ذاتی مفادات کے لیے انھوں نے دوسرے صوبوں کے لوگوں کے لیے بلوچوں میں نفرت پیدا کر دی ہے۔ ڈاکٹر الطاف حسین، اٹلی: یہ ایک حقیقت ہے کہ نہ حکومت مخلص ہے عوام کے ساتھ اور نہ ہی بلوچ لیڈر مخلصں ہیں اپنی قوم کے ساتھ۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی یہی ہے کہ کوئی بھی اپنے پیشے سے مخلص نہیں۔ بس مل کر دُعا کریں کہ لوگوں کی عزت محفوظ رہے۔ باقی ہمارے اعمال تو ایسے نہیں کہ اللہ ہم پر اپنا فضل کرے۔ وقاص احمد، ریاض، سعودی عرب: ہمیں بلوچ سرداروں کی سختی سے مزاحمت کرنی چاہیے۔ حصوصاً نواب اکبر بگٹی کی۔ اگر پاکستانی فوج ان سرداروں کے خلاف آپریشن کرتی ہے تو میرے خیال سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ علی چشتی، کراچی: میرے خیال میں سردار اور حکومت دونوں قصوروار ہیں۔ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ طاقت کے حصول کے لیے ہو رہا ہے کہ کون قدرتی گیس اور دوسرے قدرتی ذخائر کو کنٹرول کرے گا۔  | پاکستان میں کچھ نہیں ہوگا۔۔  پاکستان میں کچھ نہیں ہوگا کیوں کہ عام عوام کو درپیش مسائل کے حل میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔  غلام حسین، کینیڈا |
غلام حسین، کینیڈا: دنیا میں ہر جگہ ذخائر کی تقسیم کا مسئلہ ہے۔ اس سے ایک مختلف مسئلہ جو بلوچستان میں درپیش ہے وہ ہے قبائلی نظام۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ بلوچستان کو اس کا حق دیا جائے تاکہ غربت کا خاتمہ کیا جا سکےاور اس قبائلی نظام کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس کی ضرورت صرف بلوچستان میں ہی نہیں بلکہ سندھ میں بھی ہے۔ لیکن پاکستان میں کچھ نہیں ہوگا کیوں کہ عام عوام کو درپیش مسائل کے حل میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔حافظ جان، لندن: بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ صدیوں سے پرانا سرداری نظام ہے جس نے اپنے مفادات کی خاطر عوام کو تعلیم سے محروم رکھا ہے۔ جو بھی سردار اقتدار میں آیا اس نے اپنی جیب گرم کی اور عوام کو پسماندہ رکھا۔ اگر بلوچستان میں تعلیم عام کر دی جائے اور عوام میں شعور بیدار کیا جائے تو ایسے مسائل کبھی بھی جنم نہیں لیں گے۔ اختر، کینیڈا: پاکستانی فوج کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پچھلے پچاس سال سے براہ راست یا کسی نہ کسی طرح حکومت کر رہی ہے۔ جمہوریت نہیں ہے۔ |