BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 January, 2006, 16:45 GMT 21:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ بمباری پر پاکستان کا احتجاج

امریکی فوجی
پاکستان کے رد عمل کو کچھ تجزیہ نگار ’نرم احتجاج‘ قرار دے رہے ہیں
پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر سے باجوڑ ایجنسی میں ہونے والے حملے پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ پر مشتمل سہ فریقی کمیشن کے آئندہ اجلاس میں بھی اٹھایا جائے گا۔

افغانستان میں موجود امریکہ اور اس کی اتحادی افواج نے باجوڑ ایجنسی میں یہ حملہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا تھا جس کے مطابق القائدہ کے سرکردہ رہنما ایمن الظواہری مبینہ طور پر اس علاقے میں روپوش تھے۔

اس حملے میں بچوں اور خواتین سمیت سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں ہلاک شدگان کی تعداد یا حملے کی تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں البتہ اس کارروائی میں عام شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی گئی ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان ابھی تفصیلی تحقیقات کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق ابتدائی جانچ سے معلوم ہوا تھا کہ باجوڑ ایجنسی میں غیر ملکی موجود تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امکان ہے کہ علاقے میں موجود ان غیرملکیوں کو افغانستان سے نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان کے مطابق ابھی تحقیقات جاری ہیں اور یہ معاملہ سہ فریقی کمیشن کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ یہ کمیشن پاکستان، امریکہ اور افغانستان نے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد قائم کیا تھا تاکہ باہمی امور آپس کی مشاورت سے طے کیے جاسکیں۔

دفتر خارجہ نے کہا ’ہماری مسلح افواج نے بڑے پیمانے پر غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور آئندہ بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے لوگوں اور علاقے کا بیرونی مداخلت سے تحفظ کریں‘۔

ادھر وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس میں اپنا مختصر تحریری بیان پڑھتے ہوئے اس واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔ البتہ انہوں نے ایمن الظواہری اور ملا عمر کی باجوڑ ایجنسی میں موجودگی یا ہلاکت کے متعلق خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

پاکستان کی حکومت کی جانب سے اس واقعہ پر ظاہر کردہ رد عمل کو کچھ تجزیہ نگار ’نرم احتجاج‘ اور محض ’خانہ پری‘ قرار دے رہے ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اپنے شہریوں کے خلاف بمباری کرنے کے لیے جب حکومت کی ’رِٹ‘ کا سوال اٹھایا جاسکتا ہے تو کیا باجوڑ ایجنسی پر مبینہ امریکی حملے سے پاکستان ریاست کی ’رِٹ‘ متاثر نہیں ہوتی؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد