BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافہ
برطانوی مسلمان
پولیس نے بتایا ہے کہ مسلمانوں پر حملوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے
برطانیہ میں پولیس نے بتایا ہے کہ سات جولائی کے حملوں کے بعد مسلمانوں سے نفرت کی بنا پر حملوں میں تشویش ناک اضافہ ہو گیا ہے۔

سات جولائی کے ان حملوں میں پچاس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ مسلمانوں پر حملوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور پولیس کے مطابق دو سو ستر وارداتیں ہو چکی ہیں جن میں گالی گلوچ کے علاوہ معمولی مار پیٹ اور گھروں اور مسجدوں کو نقصان پہنچانے تک سبھی باتیں شامل ہیں۔

لندن کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر طارق غفور نے بتایا ہے کہ سات جولائی کے حملوں کے بعد صرف پہلے تین روز میں مسلمانوں کے خلاف اڑسٹھ ایسے حملے ہوئے۔

پولیس نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ان حملوں کی وجہ سے مسلمان کہیں معاشرے سے کٹ نہ جائیں اور پولیس کے ساتھ عدم تعاون کا رویہ اپنا لیں جب کہ ان کے تعاون کی سخت ضرورت ہے۔

آپ کو کیا لگتا ہے کہ سات جولائی کو ہونے والے حملوں کے بعد برطانیہ میں مسلمانوں کو درپیش مسائل میں اضافہ ہوا ہے؟ کیا آپ کے یا آپ کے کسی جاننے والے کے ساتھ اس قسم کا کوئی واقعہ پیش آیا ہے؟ برطانیہ میں ایشیائی یا افریقی نژاد مسلمانوں کا مستقبل کیا ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


قیصر، بیجنگ، چین:
ایک طرف تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تو دوسری طرف اس طرح کے دھماکوں کے بعد ہرطرف مسلمانوں کےخلاف شور ہو جاتا ہے۔ تاہم ہمیں تہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ بعض مسلمان ہیں ہی اسی قابل۔

میاں آصف، لاہور:
میرے خیال میں یہ دن اسلام دشمن طاقتوں کی کامیاب پالیسی کے سبب
دیکھنے میں آیا کیونکہ نہ تو اسلام کا یہ سبق ہے نہ ہی مسلمانوں کا یہ طریقہ۔

محمد سلیم ، یواےای:
کیا زمانہ آگیا ہے کہ گولیاں بھی ہم لوگ کھائیں اور دہشت گرد بھی ہمیں ہی کہا جائے۔

عادل سید، ٹورانٹو، کینیڈا:
دنیا بھر میں مسلمانوں پر حملے ہوں اور اس کے بدلے میں اگر کچھ کیا جائے تو دہشت گردی ہوتا ہے اور اخبارات مسلمانوں کے خلاف بڑی بڑی سرخیاں لگاتے ہیں۔

مجتبی انور ہزاروی، کراچی، پاکستان:
برطانیہ نے جو’شوٹ ٹو کل‘ کا قانون بنایا ہے اس نے وہاں کے شدت پسند عوام کو مذید حوصلہ دیا ہے کہ وہ مسلمانوں پر حملے کریں۔

رانا حفیظ رمضان، پاکستان:
دہشت گردی کے خلاف ہم سب متحد ہیں۔ اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔

علی معاویہ:
اگر اس طرح کا کوئی ردعمل لوگوں کی طرف سےاجتماعی طور پر آتا ہے تو مشرق اور مغرب میں یہ ایک عام بات ہے۔ ذرائع ابلاغ نے اسے غلط طریقے سے بیان کیا ہے۔

اسد اقبال، پاکستان:
7/7 کا واقعہ ہم سب کے لیے ناقابل فراموش ہے۔ ہم سب اس کی مذمت کرتےہیں۔

عمر ناگی، لندن، برطانیہ:
برطانوی لوگ بنیادی طور پر نسل پرست ہیں۔ یہ لوگ سیاہ فام اور ایشیائی لوگوں کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ اب ان کے پاس 7/7 کا مناسب بہانہ آگیا ہے۔ پہلے ہی مسلمان تنگ نظر تصور کیے جاتے تھے اور اب ان پر تشدد کا الزام بھی لگ گیا ہے۔

مقصود عبداللہ، کویت:
کوئی شخص لندن میں ہونے والی صورت حال کو اچھا نہیں کہے گا اور حملوں کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی کچھ خوش آئند نہیں ہے۔ ہمیں اس ملک کو برا نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اس ملک نے یہاں آنے والوں کو کاروبار، ملازمت، غرض ہر طرح کے مواقع فراہم کیے۔

لیاقت خان، اسلام آباد:
اگر انگلینڈ کے لوگوں کے ردعمل کا موازنہ کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اتحادی فوجوں نے کابل، فلسطین اور عراق کے معصوم لوگوں کو قتل کیا۔ لیکن مغرب مسلمانوں کے جذبات کو نہیں سمجھےگا کہ مسلمان بھی اس ہی طرح کےردعمل کا اظہار کریں گےجس طرح انگلینڈ میں رہنے والے اپنے ردعمل کا اظہار کرر ہے ہیں۔

فواد فراز نیو جرسی، امریکہ:
ہمارے لیے یہ کہنا تو آسان ہوتا ہے کہ ہم مظلوم ہیں اور ہم پہ ذیادتی ہو رہی ہے مگر کبھی ہم نے خود کو سامنے والے کی جگہ رکھ کر سوچا؟ اگر پاکستان میں اس طرح کے حملے عیسائی یا ہندو کردیں تو ہم تو ان کا ملک میں جانا حرام کردیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں مسلمانوں کو جو آزادی ملی ہے اس کی قدر بھی کرنی چاہیے۔

سید اسد، پاکستان:
میرا خیال ہے کہ یہ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے کہ کیونکہ جن لوگوں نے حملے کیے وہ مسلمان نہیں تھے کیونکہ اسلام دہشت گردی کی نہیں امن کی تعلیم دیتا ہے۔

راجہ یونس، سعودی عرب:
7/7 کے بعد یقیناً کچھ تبدیل ہو گیا۔ میرے خیال میں یہ صورت حال زیادہ دیر تک نہیں رہے گی کیوں کہ برطانوی معاشرہ ایک میچور معاشرہ ہے اور شاید وہ ایسی کسی صورت حال کے لیے تیار نہ تھے۔ چونکہ برطانیہ کا تہذیبی سفر کافی طویل ہے اس لیے وہاں سنـجیدہ لوگوں کی کافی تعداد ہے وہ اس مسئلہ کو حل کر لیں گے۔ دنیا میں ہر جگہ یہ عمل اور درعمل فطری چیز ہے اور پھر گزشتہ کچھ عرصے میں دنیا بھر میں ایسے واقع ہوئے اور ذرائع ابلاغ نے اس کی اس طرح تصویر کشی کی کہ اس سے تشدد بہت نمایاں ہوا اور میں سمجھتا ہوں کہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد ردعمل ایک فطری عمل تھا۔

ناصر بلوچ، پاکستان:
میرے خیال میں مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں کیوں کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور مسلمان ایک مذہب رکھتے ہیں وہ ہے اسلام اور اسلام میں دہشت گردی حرام ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے برطانیہ بھی امریکہ بننا چاہتا ہے۔ یہ سب ان ہی سیاست دانوں کی چال ہے۔

گوہر گھانگھرو، اسلام آباد:
میرے خیال میں خودکش حملے حرام ہیں۔ جس غصے میں حملہ آور حملہ کرتا ہے اس سے عام آدمی کو واسطہ نہیں ہوتا۔ عام آدمی تو معصوم ہوتا ہے ان کے دلوں میں تو سوائے دعا کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہزاروں لوگوں کو بم بلاسٹ میں مارا جاتا ہے اور انہیں اپنا جرم بھی معلوم نہیں ہوتا۔

سید علی، امریکہ:
جی ہاں یہ وقت ہے کہ ہم اپنی تصحیح کریں اور اسلام کو ایک پرامن مذہب کے طور پر پیش کریں۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
یہ تو تھے جو کہتے پھرتے تھے اپنے ملکوں میں جا کر کہ انگریز کا ملک کتنا اچھا ہے، اب یہ کہیں جا کر سنائیں اپنے ملکوں میں کے کتنا اچھا تھا۔۔۔

امتیاز کرامت، کراچی، پاکستان:
میرے خیال میں یہ ایک ایسا موقع ہے کہ مغرب کے مہذب ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ یہ قوم انصاف اور عدل کے دو مختلف پیمانے رکھتی ہے۔ اسرائیل اور اس جیسے ملکوں کے لیے ایک اور مسلمانوں کے لیے دوسرا۔ اسلام میں اس طرح کی کوئی بھی دہشت گردی جائز نہیں بلکہ حرام ہے اور ایسی باتوں کو اسلام کا صحیح علم رکھنے والوں نے پہلے ہی سے منع کیا تھا۔ اب اس کے چنگل میں ہم پوری طرح پھنس چکے ہیں۔ ویسے اس بارے میں لندن کے میئر کا بیان سو فیصد صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن کیا کہنا ان لوگوں کا جو خود اس قسم کی فضا بناتے ہیں اور پھر بعد میں اپنا نقصان ہونے پر چیختے ہیں۔ ابھی وقت ہے کہ دنیا سے غربت اور ناانصافی کا خاتمہ کر کے ایک پرامن فضا کی بنیاد رکھی جائے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو ورنہ میری رائے میں دنیا ایک ایٹمی جنگ کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ساحل خان، پاکستان:
دہشت گردی پاکستانی اور گولڈ میڈلسٹ برتٹس ۔۔۔ کیا دوغلی پولیسی ہے انگلینڈ کی؟ان لوگوں کو کیوں سمجھ نہیں آتا کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور کہاں ہے۔۔ ان کو سوچنا چاہئیے کہ کیا وجہ ہے کہ بائیس اور تئیس سال کے نوجوان دھماکوں پر تل گئے ہیں؟ اور جو بم بلاسٹ کرتے ہیں وہ لوگ اسلامی مدارس میں نہیں ترقی یافتہ ملکوں کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔

شاہد خان، پاکستان:
جناب مسلمانوں پہ حملے کو کوئی درست نہیں بول سکتا لیکن ہم مسلمانوں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ان بیچارے معصوم لندن والوں پر حملے جائز ہیں؟ کیا اسلام اور ہمارے مولانا اس قدم کوجائز سمجھتے ہیں تو یقیناً مسلمانوں پر بھی حملے جائز ہیں۔ امید کرتے ہیں آپ ہماری رائے ضرور سمجھیں گے۔۔۔

علی رضا، پاکستان:
یہ حملے بہت غلط ہیں اور ان سے مسلمانوں کا بہت ہی غلط تصور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے سامنے پیش ہوتا ہے۔ ہم سب آدم کی اولاد ہیں۔

فیصل انام، دبئی:
اب ان لوگوں کو نظر نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہ سب انگلینڈ میں ہو رہا ہے۔۔۔اگر یہی سب کچھ کسی اور ملک میں ہوتا تو یہ لوگ اب تک اپنی فوج وہاں اتار چکے ہوتے۔۔۔یہ کہہ کر کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔۔۔اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے۔۔۔

ذیشان ذوالفقار، پاکستان:
دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی ہو مسلمانوں کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ آخر کیوں؟ کیا مسلمان دہشت گرد ہیں؟ ہرگز نہیں، کبھی نہیں۔ مسلمان ایک پر امن قوم ہیں اور برطانیہ میں روز بروز مسلمانوں پر حملوں میں جو اضافہ ہو رہا ہے یہ سراسر زیادتی ہے، نا انصافی ہے۔ ان چیزوں کو روکنا چاہیئے ورنہ مسلمان بھی ایک بہادر قوم ہے۔ پھر دنیا اپنا انجام خود ہی دیکھ لے گی۔

سلمان علی، پاکستان:
حملہ کرنے والوں کو شاید یہ نہیں پتہ کہ مسلمان ان سے کہیں زیادہ جذباتی قوم ہے۔ اگر یہ اپنی انا میں آ گئے تو پوری دنیا کو تباہ کر کے رکھ دیں گے۔ ان کو چاہیئے کہ پہلے وہ یہ سوچیں کے حملہ یا نقصان پہنچانے والے کون لوگ ہیں؟ وہ مسلمان ہیں یا وہ دہشت گرد ہیں۔۔۔اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

عاصف اچکزئی، چمن، پاکستان:
مسلمانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح یہ لوگ اپنے ملکوں سے نکال دیں گے اور کہیں گے کہ دہشت گرد تھے۔ کوئی ہے ان کو جواب دینے والا؟

جمال اختر خان، پاکستان:
شاید غیر مسلمانوں کو یہ نہیں پتہ کہ مسلمان ایک مہذب اور امن پسند قوم ہے اور مسلمانوں کا اسلام بھی یہی درس دیتا ہے۔ اسلام میں لڑائی، جھگڑے اور دنگا فصاد، خون خرابے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اس لیے ان غیر مسلمانوں کو چاہئیے کہ اس بات کو سمجھ لیں اور مسلمانوں کو ایک پر امن قوم مانیں۔

بیجل سندھی، لاڑکانہ، پاکستان:
پوسٹ ماڈرن مغربی معاشرے میں رہنے والے مسلمانوں کی سوچ اب تک قدامت پسند ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی مذہبی شناخت کو نہیں چھوڑتے۔ اپنے نئے ملک کا شکر گزار ہونے کی بجائے وہ نا شکرے بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ رہتے وہاں ہیں، کماتے وہاں ہیں اور وہاں کے پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے بیچین رہتے ہیں لیکن پھر بھی اس معاشرے کی آزادی سے نفرت کرتے ہیں اور اس پر اسلام نافظ کرنا چاہتے ہیں۔ حزب تحریر اور المحاجرون جیسی تنظیمیں جو کچھ کر رہی ہیں وہ بالکل غلط ہے۔ اس معاشرے میں رہنے والے افراد کو وہاں کے قانون اور سوشل نارمز کا خیال رکھنا چاہیئے۔

ابو ارسلان، اسلام آباد، پاکستان:
یہ سب جھوٹ ہے کہ مسلمان شدت پسند اور دہشت گرد ہیں۔ آج کی اس مہذب دنیا میں جتنا ظلم مسلمانوں پر ہو رہا ہے کسی اور قوم پر نہیں ہو رہا۔ جو کچھ اس وقت ڈینمارک، برطانیہ اور امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف گورے کر رہے ہیں، کیا وہ شدت پسندی اور دہشت گردی نہیں ہے؟ کیا ان مسلمانوں کے کوئی انسانی حقوق نہیں؟

محمد سلیم، دبئی
مسلمانوں کو چاہیئے کہ اپنے مذہب کو امن کے مذہب کے طور پر لیش کریں۔ اس وقت دنیا میں اسلام کا نام بہت بد نام ہو گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے آپ کو درست کیا جائے۔ مسلمان اس وقت دنیا میں سب سے بری حالت میں ہیں۔

فرحان احمد، انڈیا
اللہ تمام مسلمانوں کو اپنی امان میں رکھے۔ مسلمان تو ویسے بھی ہر جگہ پس رہے ہیں۔

فیاض محمد خان، پاکستان
جی ہاں بالکل اینٹی مسلم کیمپین میں شدت آ گئی ہے۔ اور آنی بھی چایئے، کیونکہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ مسلمانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں جب تک مسلمان اسلامی تعلیمات پر پوری طرح عمل نہیں کریں گے اسی طرح ہم لوگ خوار ہوتے رہیں گے اور امریکہ اور انگلینڈ ہمیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے رہیں گے۔

امین اللہ شاہ، پاکستان
برطانیہ میں ایشائی یا افریقی نژاد مسلمانوں کا مستقبل انتہائی مخدوش ہے۔ ان کو چاہیئے کہ عزت کے ساتھ اپنے ملک واپس جا کر، اپنے ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں اور اپنے ملک کی تقدیر سنواریں۔

66آپ کی رائے
ترک وطن -- آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
66آپ کی رائے
کیا پاکستان کی نظریاتی بنیاد سیکولر ہے؟
66آپ کی رائے
’خود کش حملے حرام ہیں‘:علماء کا فتوٰی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد