BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 20 June, 2005, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترک وطن -- آپ کے تجربات
 نو ملین افراد رفیوجی ہیں
نو ملین افراد رفیوجی ہیں
بیس جون ورلڈ رفیوجی ڈے کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں رفیوجیوں کی تعداد نو ملین سے زائد ہے۔ لیکن اگر آپ ان لوگوں کی تعداد بھی شمار کریں جواپنے ملک کے اندر ہی رفیوجی ہیں یا جن کا کسی ’ریاست‘ سے تعلق نہیں ہے، تو یہ تعداد بیس ملین سے تجاوز کرجاتی ہے۔ رفیوجی کئی وجوہات سے نقل مکانی کرتے ہیں۔ ایسے وجوہات داخلی سیاست، اقلیتوں کے ساتھ تعصبانہ برتاؤ، خانہ جنگی، کسی برادری کا قتل عام، وغیرہ ہوسکتے ہیں۔

اس موقع پر ہم آپ سے جاننا چاہیں گے کہ آپ نے نقل مکانی کیوں کی؟ کوئی ضروری نہیں ہے کہ آپ رفیوجی ہوں، لیکن لکھئے کہ جب آپ ایک نئے معاشرے میں بسنے کے لئے آئے تو آپ کو کن مشکلات کا سامنا رہا؟ یہ بھی لکھیں کہ کے بچوں کو ایک نئے معاشرے میں ایڈجسٹ کرنے میں کیا پریشانیاں پیش آئیں۔

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

عدنان عثمانی، کراچی:
میں شِپ پر جاب کرتا ہوں، پوری دنیا دیکھی ہے، رہنے کے لئے اپنے ملک سے زیادہ اچھی جگہ کوئی نہیں اور اب تو لوگ کینیڈا اور یو کے سے بھی واپس آرہے ہیں۔ خیر معاش کے لئے ملک چھوڑنا بڑی بات نہیں ہے، اصل بات اللہ اور اس کے رسول اور دین کے لئے ہجرت کریں۔ ایک شعر پر بات ختم کرتا ہوں:

بیٹھ جاتا ہوں جہاں ساون گھنی ہوتی ہے
ہے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے۔

رضوان الحق، پیرس:
ہجرت انسان کے اس دنیا میں آنے کے وقت سے شروع ہے، اور اس کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ قیامت تک جاری رہے گا، آپ نے موضوع ہی ایسا سیلیکٹ کیا ہے کہ اس پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے، ویل، ہجرت کی بنیادی وجوہات کسی معاشرے میں ناانصافی، بےروزگاری، بنیادی ہیلتھ کی فیسیلیٹیز کا نہ ہونا اور سب سے بڑھ کر اچھی تعلیم کا نہ ہونا، وغیرہ وغیرہ۔ ہجرت کسی بھی وجہ سے کی جائے، اپنے وطن کو چھوڑنے کا مطلب اپنی روٹس سے ناطہ توڑنا ہوتا ہے اور جس کنٹری میں آپ جارہے ہوتے ہیں وہاں کے لوگوں کے لئے آپ کو ایکسیپٹ کرنا کافی مشکل ہوتا ہے، اس بات کا اندازہ آپ صرف اسی بات سے لگاسکتے ہیں کہ اگر دو بھائی بھی ایک ساتھ ایک گھر میں رہ رہے ہوں تو ان کو بھی کئی دفعہ علیحدہ ہونا پرتا ہے۔ کسی دوسری جگہ پر جانا آپ کی اپنی مجبوری ہوتی ہے، اور کیا کہتے ہیں ایسا تو ہوتا ہے ایسے کاموں میں، ہر چیز کی کوئی نہ کوئی قیمت تو ادا کرنا ہی پڑتی ہے۔

ساجد علی، مانٹریال:
ایسٹ ٹو ویسٹ، پاکستان از دی بیسٹ۔

شاد خان، امریکہ:
میرے خیال سے وطن کی طرح کوئی دوسرا ملک نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ مجھے امریکہ میں سیٹل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور میں یہاں اچھا بھی کررہا ہوں، تاہم میں وِش کرتا ہوں روزانہ کہ میں پاکستان جاکر اپنی ماں، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ رہ سکتا ۔

اشرف شاہ، ٹورانٹو:
میں ایک سِول انجینیئر ہوں، پاکستان چھوڑ کر کینیڈا صرف روزگار اور بہتر زندگی کی تلاش میں آیا۔اندازہ نہیں تھا کہ یہاں نہ بلوچی سجی ملتی ہے، نہ دوستوں کی وفا اور نہ وہ رشتے جو ہر پل محبتیں بکھیرتی ہیں۔ البتہ ذاتی طور پر میں اللہ کا مشکور ہوں کہ مجھے یہاں ایک پرماننٹ اور اچھی نوکری ملی ہے اور ساتھ میں یہ کہوں کہ یہاں روز دھماکے نہیں ہوتے، ڈاکے نہیں ڈالے جاتے، ۔۔۔ میرا تعلق چونکہ بلوچستان سے ہے سو وہاں کی قبائلی درندگی سے کوسوں دور ہوں۔ صاف ستھرا ماحول، پولیس کی کارکردگی اور قانون کی پاسداری ور حقوق ملنے کی کشش البتہ موجود ہے۔

فیاض احمد، لیسٹر، یو کے:
ہم نے سوچا تھا کہ یورپ میں رہیں گے جاکر بال بچوں کو پڑھاؤں گا، سکھاؤں گا ہنر جینے کا، سارے وہ خواب جو دیکھے تھے کبھی ہم نے راحت و عیش کے بہت ڈھیر سی دولت کے، جیسے پہنچوں گا وہاں سارے پورے ہوجائیں گے۔ یہ شعر:

آکےلیکن میں بہت سخت مشقت میں پڑا،
رات دن میں تو فقط کام کے چکر میں پڑا۔
رفتہ رفتہ ہی فراموش ہوئیں اعلیٰ قدریں،
زندگی جن سے حسین ہوتی ہے،
آدمیت کی امین ہوتی ہے۔

نعمان رشید، کوپن ہاگین:
میں جب اٹھارہ سال کا تھا تو پاکستان چھوڑ دیا۔ پھر آسٹریلیا میں رہا، اب میں ڈنمارک میں ایک معروف آئی ٹی کمپنی کے لئے کام کررہا ہوں۔ پاکستان رہنے کے لئے سب سے اچھی جگہ ہے لیکن وہاں ہمارے اندر انسانیت کی کمی ہے۔ یہاں ہم دوسرے درجے کے شہری ہیں لیکن سلوک اچھا ہوتاہے۔ مجھے کسی سفارش یا رشوت کے بغیر نوکری مل گئی۔ کیا یہ میرے مادر وطن میں ہوتا؟ ڈنمارک میں رہتے ہوئے مجھے مفت تعلیم ملی پاکستانی پاسپورٹ رکھتے ہوئے بھی، مجھے اسٹوڈنٹ الاؤنس ملا۔ میرا اپنا ملک پاکستان بھی مجھے یہ نہیں دے گا۔

شہلا، ہیوسٹن، امریکہ:
کہتے ہیں سفر وسیلۂ ظفر ہوتا ہے، نقل مکانی میرے خیال میں اچھی چیز ہے کیوں کہ اس طرح آپ کو نیو ایکسپیریئنسز ہوتے ہیں اور آپ بہت کچھ لرن کرتے ہیں۔ مگر کہیں بھی جاکر انسان کو اپنے آپ کو نہیں بھولنا چاہئے اور اپنی روٹس کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے، نقل مکانی ایک اچھا تجربہ ہے۔

کلیم شیخ، امریکہ:
قیدغم، قید انا، قید تنہائی
پائی ہے اتنی عمر نہ تھی جتنی، سزا پائی ہے۔

شہزاد قیصر، مکہ مکرمہ:
ویسے تو ’اپنا دیس اپنا‘ ہی ہوتا ہے لیکن آج کل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کا ہر دوسرا آدمی ملک سے باہر جانا چاہتا ہے۔ اس کی وجہ مہنگائی ہے، پردیس میں آدمی کو ہر قسم کے حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ آدمی کے قوت برداشت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جو آدمی اپنے ملک میں پانی کا ایک گلاس بھی خود بھر کر نہ پیتا ہو اسے پردیس میں برتن بھی اور کپڑے بھی دھونے پڑتے ہیں اور کھانا بھی خود پکانا پڑتا ہے۔ وہ یہاں ہر قسم کے حالات سے سامنا کرتا ہے۔ لیکن وہ سب کیوں کرتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ خود یہاں کچھ تکلیف میں بھی ہے تو کیا ہوا اس کی پوری فیملی اپنے ملک میں بڑے اچھے اور باعزت طریقے سے رہ رہی ہے۔ میں خود بھی اپنے ماں باپ کا بڑا بیٹا ہوں، چھوٹی عمر میں ہی سعودیہ میں آگیا، سیٹنگ ہونے میں کچھ وقت لگا، شروع میں کافی پریشانیاں بھی اٹھائی اور دوستوں اور وطن کی بہت یاد آئی۔ مگر مجبوری کیوں کہ وطن میں بھی مشکل وقت میں سب اپنے بھی پرائے ہوجاتے ہیں۔۔۔

ارم ریاض، کینیڈا:
میں دو سال سے کینیڈا میں رہ رہی ہوں اور ایک کالج میں زیرتعلیم ہوں۔ یہاں میرے پاس اب کچھ ہے، ایک اچھا گھر، پیسہ، ضرورت کی ہر چیز۔ پر اس کے باوجود میرا یہاں کبھی دل نہیں لگا۔ ہر لمحہ اپنے وطن کو یاد کرتی ہوں، حالانکہ میری ساری فیملی پاس ہے، پر پھر بھی وہ اپنے پن کا احساس نہیں ہوتا جو پاکستان میں تھا۔ سچ ہے پردیسی بننا ایک تلخ حقیقت ہے۔

خان محمد، ٹورانٹو:
میں نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی ملک سے باہر گزار دی۔ جرمنی، انگلینڈ، سعودی عرب اور اب کینیڈا۔ نتیجہ نکالوں تو یہ نکلتا ہے کہ میرے پاس تجربات کا خزانہ ہے، نگر نگر کی مسافتیں، مالی طور پر اور نفسیاتی طور پر کچھ مفید نہیں۔ پاکستانیوں کو چاہئے کہ اپنی پرواز زیادہ سے زیادہ گلف تک ہی رکھیں۔ کینیڈا نے پڑھے لکھے لوگوں کا یہ حال کیا ہے کہ اگر وہ کوئی تھرڈ ورلڈ کا کنٹری ہوتا تو اس پہ تھو تھو ہوتی۔ افسوس یہ ہے کہ کینیڈا کی حکومت امیگرینٹس کو ناکام ہونے پر پروگرام کرتی ہے۔ مختاراں مائی کو کہیں اگر پاکستان چھوڑنا ہی ہو تو کینیڈا کی شہریت کبھی نہ لے۔

سید رحمان، کینیڈا:
پاکستان چھوڑنے کے بعد یہ میرا تیسرا ملک ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں، تجربہ اچھا رہا۔ میں سعودی عرب میں تھا، پھر امریکہ اور اب کینیڈا۔ پاکستان میں مڈل کلاس کے لئے کوئی مستقبل نہیں ہے اگر آپ کرپشن کے لئے تیار نہیں ہے۔ لیکن امریکہ یا دوسرے ممالک میں آپ بغیر کرپشن کے رہ سکتے ہیں۔۔۔

اصغر بہاری، کراچی:
کاش کہ فقیر آف سہوان شریف تاریخ کے وہ باب پڑھ لیتے کہ جہاں پہ ہندوستان سے پاکستان آنے والوں کی تاریخ رقم ہے! میرے تو یہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ کتنی ٹرینیں جب تک پاکستان پہنچیں تو سب کے سب مسافروں کو کاٹا جا چکا تھا۔۔۔ یا رب نہ وہ سمجھیں ہیں نہ سمجھیں گے میری بات، دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور۔

اویس بابری، لاہور:
اگر پیسہ ایک ایشو نہیں ہوتا تو میں اپنا ملک کبھی نہیں چھوڑتا۔۔۔

محمد ابوبکر ہاشمی، آک لینڈ، نیوزی لینڈ:
میری عمر تئیس سال ہے اور جب میں آک لینڈ آیا تھا میری عمر بیس سال تھی۔ یہاں پہنچنے پر یہ جگہ مجھے زمین پر جنت سی محسوس ہوئی۔ تمام برائیاں جیسے کرپشن، غیرخواندگی، دولت کی غیرمساوی تقسیم وغیرہ یہاں نیوزی لینڈ میں دکھائی نہیں دیتیں۔ سب کو یہاں ایک معیاری زندگی نصیب ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں، کوئی نیسن نہیں۔ ہر شخص کو وہ ملتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ وہ تعلیم حاصل کرسکتا ہے، ہیلتھ کی سہولیات میسر ہیں، اور خصوصی طور پر یہ بات کہ یہاں دولت، مذہب، رنگ، نسل وغیرہ کی بنیاد پر تعصب نہیں ہے۔ آپ جو چاہیں کرسکتے ہیں، پولیس کا نظام کافی فعال ہے۔ آپ دوسروں کو پریشان نہیں کرسکتے، غلط نہیں کرسکتے۔ سڑکوں پر مکانیں خوبصورت ہیں، چاروں طرف بیچ ہیں۔ ہم عبادت کے لئے مسجد جاسکتے ہیں۔ سب کے پاس کار ہے۔ زندگی بہتر ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں یہ جنت ہے۔ کاش میرا ملک بھی ایسا ہی ہوتا۔ اگر پرویز مشرف دس سال اور اقتدار میں رہے تو پاکستان یقینا ایک ماڈل کنٹری ہوگا۔

عاطف مرزا، آسٹریلیا:
میں آسٹریلیا میں آٹھ برسوں سے ہوں۔ یہاں رہنا اچھا لگا اور میں خوش ہوں۔ یہ پوری دنیا اللہ نے ہمارے لئے بنائی ہے۔ یہ ہمارا گھر ہے، اپنے حدود محدود نہ کریں۔ سفر کرتے رہیں۔۔۔

لیاقت علی، نیویارک:
مہاجرات میں فیض اور غالب نے بہت سہارا دیا۔۔۔

محمد علی فاروق، بریمپٹن:
میں بہت خوش ہوں، کینیڈا میں تمام مشکل اوقات کے بعد، اب میں ایک کینیڈین ہوکر خوش ہوں اور یہاں کی زندگی کا مزہ لے رہا ہوں۔

ریاض فاروقی، دوبئی:
مجھ کو پاکستان سے آئے ہوئے دس مہینے ہوگئے ہیں اور اس دوران میں ایک بار گیا ہوں واپس پاکستان جب میری بیٹی پیدا ہوئی تھی۔ مجھ کو کوئی خاص دقت نہیں پیش آئی کیوں کہ مجھ کو یہاں سے جو جاب آفر ہوئی تھی وہ بہت اچھی تھی، پے اسکیل بھی اچھا تھا، اس لئے یہاں ایڈجسٹ ہونے میں زیادہ پرابلم نہیں ہوئی، بس یہاں پروپرٹیز کی ویلو بہت زیادہ ہے، خرید تو سکتے نہیں ہیں یہاں پے، لیکن رینٹ بھی ایسا ہی ہے جیسے کے خرید رہے ہیں اور دوسرا ٹریفک یہاں بہت زیادہ ہے، ہر روڈ جام رہتی ہے، میری بیوی اور بچی ابھی کراچی میں ہیں، اس لئے یہ ان کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کیا مشکل ہوسکتی ہے۔۔۔

کاشف علی شیخ، کراچی:
سب سے پہلے تو فقیر آف سہوان کی بات کا جواب دوں گا، کہ کتنا تعصب ہے آپ میں کہ وہ ہندوستانی مہاجر جنہوں نے اپنے ساٹھ لاکھ پیاروں کا خون دیکر آپ کو ملک دیا، آپ ان کے بارے میں ہی ایسے خیال رکھتے ہیں، ورنہ آپ لوگ تو اس قابل بھی نہیں ہو کہ کما کر کھا سکو۔

عثمان خان، بریڈفورڈ:
بچپن سے ایک کہاوت سنتے رہتے تھے کہ دور کا ڈھول سہانا۔ اور اس کا احساس جب اپنا پیارا وطن چھوڑا تو ہوا۔ میں کہتا تھا کہ وہ لوگ بہت ہی خوش نصیب ہیں جو اپنے ملک میں اپنے پیاروں کے ساتھ رہ کر رزق حلال کما رہے ہیں۔

ارسلان احمد قریشی، جدہ:
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب میرے ابو مجھے کراچی ایئرپورٹ پر لیکر آئے۔ کراچی سے سعودی عرب تک میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں سعودی عرب بہتر سروس کی وجہ سے آیا تھا۔ مگر یہاں پر دھکے کھاکر سب کچھ بھول گیا۔ اس دوران میری دادی کا انتقال ہوگیا مگر میں ان کی شکل تک نہیں دیکھ سکا۔ میرے پاس رونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ مگر یہ سوچ کر اپنے دل کو تسلی دی کہ اسی کا نام زندگی ہے۔

منور، فیصل آباد:
میں بیرون ملک نہیں گیا ہوں لیکن جانا چاہتا ہوں۔ کوئی اپنے مادر وطن سے نہیں جانا چاہتا ہے لیکن ہمارے ملک کی جو سنگین حالت ہے، بڑھتی ہوئی بےروزگاری اور بےایمانداری ہے، اس سب سے تعلیم یافتہ لوگ بیرون ملک جانے کے لئے مجبور ہوجاتے ہیں۔۔۔۔

محمد علی، جدہ:
میں دو سال پہلے سعودی عرب آیا تھا۔ سب سے پہلی چیز تو یہ پتہ چلی کہ لوگ سعودی عرب کے بارے میں جو سوچتے ہیں یہ ویسا ہے نہیں، لوگوں کو طرح طرح کی شدید مشکلات فیس کرتے ہوئے دیکھا۔ کفیل سیسٹم کے متاثرین، یہاں کے لوگوں کا غرور، معاشرے میں پھیلی ہوئی بےراہ روی، ہر زبان میں تبلیغ کے نام پر پھیلایا جانے والا تعصب اور دیگر اخلاقی برائیاں دیکھ کر شدید دکھ ہوا۔ پاکستانی ایمبیسی بھی لوگوں کی مشکلات زیادہ کرنے میں مدد کرتی ہے۔

عبدالعزیز سید، جدہ:
میں گزشتہ دو سال سے سعودی عرب میں ہوں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو میری حالت ہے۔ بس یوں سمجھئے کہ میں زندہ درگور ہوں۔ ایک قید سے مسلسل ایک زنجیر ہے جو کٹ نہیں رہی۔ یہاں زبان کا مسئلہ، کھانے کا، اپنوں سے دوری کا، دوستوں اور بھائیوں سے ۔۔۔۔ میری جاب بھی نہیں لگی تھی، مجھے اپنی والدہ کے قریب المرگ ہونے کی اطلاع ملی اور میرے انڈیا جانے کے تین دن بعد ان کا انتقال ہوا، میں ان سے بات بھی نہیں کرسکا۔ شاید کوئی جان لے کہ پردیسی ہونا قیامت سے کم نہیں، میرا ایک شعر بی بی سی کی نظر ہے: قیامت کو جیسے دیدار ہوجائے، پردیس میں گر کوئی بیمار ہوجائے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
میرے ایک کلوز فرینڈ نے بتایا تھا کہ وہ جب انگلینڈ اپنے چچا کے، جو سگے تھے، گھر گیا تو ان کے چچا نے ان سے یہ تک نہیں کہا کہ اندر آؤ، باہر سے ہی ان سے لایا ہوا سامان لیا اور اللہ حافظ، جبکہ میرا دوست یتیم ہے۔

رِز خان، ہیلسِنکی:
میں عرصہ پانچ سال سے یہاں مقیم ہوں، یہاں گھر سے دور آکر پتہ چلتا ہے پریکٹیکل لائیف کیا ہوتی ہے۔ والدین کی کمائی کو اڑاتے ہوئے یہ احساس نہ تھا کہ پیسہ کمانا کتنا مشکل ہے۔ آج اپنے کمائے ہوئے پیسے کو خرچ کرتے ہزار بار سوچتے ہیں۔ ایک بات کا احساس رہ رہ کر آتا ہے کہ اپنے ہم وطنوں نے اپنی پاکستانیت یہاں بھی نہیں چھوڑی، خود کمائیں یا نہ کمائیں مگر دوسروں کی کمائی کیسے چھین لیں ہر پاکستانیوں کے دماغ میں یہ ہی سمایا ہوتا ہے۔ افسوس کے پاکستانیوں سے مدد کے طلبگار ہوں تو وہ فرد پر کمربستہ ہو جاتے ہیں، جبکہ انڈین نہ صرف منظم ہیں بلکہ اپنوں کی مدد کے علاوہ دوسروں کے بھی بےغرض مدد پر ہر وقت آمادہ ہوتے ہیں۔ کاش ہم پاکستانی اگر پاکستان میں نہیں تو کم از کم دیارِ غیر میں ہی ان سے سبق سیکھ لیں۔ پاکستان زندہ آباد۔

خواجہ محمد واصف، اسٹاک ہوم:
سلام ٹو آل۔ وطن سے نکل تو آئے مگر کب واپس لوٹیں گے ہم نہیں جانتے۔ ہمارے ملک پاکستان کو ہمارے سیاست دانوں اور مولویوں نے جہنم بنادیا ہے۔ میں سائنس میں ماسٹر ہوں اور یہاں پریشانی میں گھر سے دور وقت گزار رہا ہوں۔ میں کس کے ہاتھ پے اپنا لہو تلاش کروں۔۔۔۔

راجہ یونس، دمام:
شاید ہماری پہلی ہجرت انیس سو اکہتر میں ہوئی جب پاک بھارت جنگ ہوئی۔ ہم اپنے گھر جلتے ہوئے دیکھتے رہے جب بھارتی آرمی نے رات کو ریڈ کرکے آگ لگادی۔ یوں تو کشمیر میں رہنے والا ہر فرد ہی ہجرت کی لذت سے آشنا ہے مگر ہم جو ایک بار کوئے یار سے نکلے تو اب تک واپسی کی کوئی راہ نہیں آتی۔ کراچی سے ایک نئی ہجرت انیس سو اسی میں ہوئی جب روزگار کے سلسلے میں عراق کا سفر کرنا پڑا۔ ہم صرف اٹھارہ ماہ کے کنٹریکٹ پر گئے اور پانچ سال کے بعد بھی آنے پر راضی نہ تھے۔ وہاں پر لوگ بہت اچھے تھے اور اچھا وقت گزرا، ہمیں بالکل بھی پریشانی نہ ہوئی اور بہت محبت ملی وہاں۔ پھر انیس سو نوے میں سعودی عرب کی طرف ہجرت کی اچھی فیوچر کی تلاش میں۔ یہاں پہ اسٹارٹنگ میں کچھ مشکل پیش آئی، پھر آہستہ آہستہ اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرلیا اور سولہ سال ہوگئے۔۔۔۔

علادین احمدزی، بیلجیئم:
کسی کا دل نہیں کرتا کہ وہ اپنا ملک چھوڑ دے لیکن افغانستان کے حالات کسی سے چھپے نہیں ہیں، اور اب میرا تو وہاں کوئی نہیں ہے۔۔۔

احمد علی، کراچی:
میں تین سال ہانگ کانگ میں رہا۔ میں ایک پاکستانی مارکیٹنگ منیجر کے ساتھ کام کررہا تھا۔ وہ کافی سنگ دل آدمی تھا، میں صبح اور دوپہر آفس میں کام کرتا تھا اس کے بچوں کو پڑھانے کے لئے۔ مجھے ہانگ کانگ کے چار ہزار ڈالر ملتے تھے، جبکہ وہ ایک چینی کو دس ہزار ڈالر دیتا تھا۔ مجھے کم سیلری ملتی تھی کیوں کہ میں پاکستانی تھی۔۔۔۔۔

محمد اسلم نجف، یو اے ای:
میں اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے ملک سے چلا آیا۔ مِڈایسٹ میں تیس سال رہنے کے بعد ہمارے بچے اب پاکستان میں سیٹل نہیں ہورہے ہیں، کیوں کہ وہاں کے معاشرے کے لئے وہ اجنبی ہیں۔ دوسری جانب مڈل ایسٹرن ممالک شہریت نہیں دیتے، چاہے آپ برسوں سے رہتے رہے ہوں۔ اب میرے بچے حقیقت میں رفیوجی ہیں کیوں کہ انہیں یہاں رہنے کی اجازت نہیں، اور وہ پاکستان میں ایڈجسٹ نہیں کرسکتے۔

شیر یار خان، سنگاپور:
میں کوئی سولہ سال سے سنگاپور میں قیام پزیر ہوں۔ جب میں پہلے پہل آیا تھا تو یہاں کا ماحول بڑا عجیب سا لگا، اپنے ماحول کے مقابلے میں لوگوں کے چہرے اور ان کے تاثرات سے لیکر کھانے پینے تلک ہر چیز۔ ہر شخص بڑے ہی نظم و ضبط کی تصویر، صاف ستھرے کپڑے اور کھلتے چہرے، نہ کوئی فکر اور پرشانی، حتیٰ کہ درخت اور پودے بھی نہایت ساکت اور خاموش۔ ہر عمارت ایسی کہ بالکل نئی اور صاف ستھری۔ اپنے ملک کے آزاد ماحول سے نکل کر ایک نئے ماحول میں قیام کرنا، بہت ہی مشکل لگا مگر ایسے معاشرے میں جہاں کہیں بھی بےانصافی، بدعنوانی اور بےلگام سرکری مشکلات نہ ہوں تو پھر نئے ماحول قیام پزیر ہونا مشکل نہیں لگتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ زندگی کی بنیادی ضروریات اگر کسی بھی معاشرے میں بہ آسانی میسر ہوں تو ۔۔۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
میں نے مظفرآباد میں کئی بےبس کشمیریوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، ان کی زندگی انتہائی مشکل اور صبرآزما ہوتی ہے۔ ہر وقت موت کے منہ میں ہوتے ہیں، ضروریات زندگی بھی نہیں ہوتی، کھانے اور پینے کے لئے اگر کوئی ویلفیئر ایسوسی ایشن کچھ بھیج دے تو ٹھیک ہے ورنہ کئی کئی دن فاقوں پر گزارا ہوتا ہے، کِڈز کو تعلیم اور بنیادی سہولیات نہیں ہوتیں۔ اللہ رفیوجیوں کی زندگی سے بچائے، اور حقیقت تو یہ کہ ’آزادی‘ کی اصل قیمت ان سے پوچھیں۔ ہمیں تو ’بغیر جدوجہد کے‘ پاکستان ملک گیا۔۔۔۔

ندیم ملک، پیرس:
کسی کا دل نہیں کرتا اپنا دیش چھوڑے، لیکن حالات ایسے مسائل کھڑے کردیتے ہیں کہ انسان نقل مکانی پر مجبور ہوجاتا ہے۔ نقل مکانی کی کئی صورتیں ہوتی ہیں پر ہم پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ بےروزگاری ہے۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ہمیں نوکری نہیں ملتی، اور بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنا ملک چھوڑتے ہیں لیکن یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم جس جگہ جارہے ہیں وہ معاشرہ ہمیں قبول کرتا ہے یا نہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہوتا ہے، آدمی پڑھا لکھا ہو کر بھی انپڑھ ہوجاتا ہے۔۔۔

عبدالعلیم، ناگویا، جاپان:
اپنے ملک کی اہمیت کا اندازہ ادھر سے نکل کر ہی ہوتا ہے۔ آج سے تقریبا دس سال پہلے میں اسلام آباد میں ایک زیرتعمیر پلازہ کے پاس سے گزر رہا تھا کہ وہاں میں نے ایک پاکستانی اور ایک افغانی کا جھگڑا دیکھا جس میں پاکستانی بہت ہی گھٹیا زبان استعمال کررہا تھا لیکن افغانی بےچارہ سن رہا تھا اور اس نے آخر میں صرف یہ کہا کہ ’میں مہاجر ہوں تم جو چاہے مجھے کہہ سکتے ہو۔‘ اس طرح کے جذبات سے ہر تارک وطن کو گزرنا پڑتا ہے۔ یہاں پردیس میں انتہائی سخت محنت کرنی پڑتی ہے لیکن اس محنت کا پورا معاوضہ ہر شخص کو ملتا ہے۔ اس لئے ترک وطن پر کوئی افسوس نہیں ہے۔

محمد اساویر، ٹورانٹو:
لوگ کہتے ہیں کہ کینیڈا مواقع کی سرزمین ہے۔ اس لئے میں نے کینیڈا کے لئے ترک وطن کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ بہتر مواقع مل سکیں۔ گزشتہ پانچ برسوں سے میں کینیڈا میں ہوں اور ابھی بھی بہتر مواقع کا منتظر ہوں۔ اب میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کینیڈا خوابوں کی سرزمین ہے، مواقع کی نہیں۔ پلیز کینیڈا کے لئے کوچ کرنے سے پہلے سو بار سوچیں۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
زندگی میں ہر ایک کو ہر طرح کے حالات پیش آتے ہیں۔ وقت کے ساتھ عمر بڑھتی ہے اور تجربات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ سو انہی تجربات میں کسی وجہ سے بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کا تجربہ شامل ہوتا ہے۔ کبھی کبھار یہ نقل مکانی خوشی خوشی ہوتی ہے اور کبھی کبھار مجبوری کے تحت۔ شادی سے پہلے اپنے ہی ملک میں ایک شہر سے دوسرے شہر منتقلی ابو کی نوکری کی وجہ سے، اس وقت کی ہماری منزل ہے۔ ظاہر ہے یہ سب حصول معاش کے سلسلے کی ایک کڑی تھی یا یوں کہیں کہ بہتر حصول معاش کی۔ یہ ہر ایک کا حق ہے بہتر سے بہتر نوکری تلاش کرنا اور بچوں کو بہتر مستقبل دینا۔۔۔۔

علی محمد، فرانس:
نہ خدا ہی ملا، نہ وصال صنم۔ نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہم۔

فقیر آف سہوان شریف، سندھ:
کاش، دنیا میں ہر پناہگیر کا وہ حال ہوتا جو آج کل ہندوستانی مہاجروں کا سندھ میں ہے۔ میرا مطلب ہے وہ مقامی لوگوں سے بھی زیادہ موج میں ہیں۔

فرخ بٹ، لاہور:
میں پچھلے سال تقریبا تین مہینے یو کے میں رہا۔۔۔ ارادہ تو وہاں سیٹ ہونے کا تھا لیکن تین مہینے بھی پورے نہ کرسکا۔ مجھ جیسا انسان جس کا بچپن لاہور میں گزرا ہو، جو کھانے کے لئے جیتا ہو، وہ انسان یو کے میں ابلی ہوئی سبزی کیسے کھا سکتا ہے۔ پہلے تو کھانے کا مسئلہ تھا، پھر سنا تھا کہ وہاں کا پانی ایسا ہوتا ہے کہ اپنے بھی پرائے ہوجاتے ہیں۔ یہاں بھی میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ غرض یہ کہ آپ کا ملک وہ ہی ہے جہاں آپ اور آپ کے پیرنٹس پیدا ہوئے۔ اللہ کسی کو پردیس نہ بھیجے۔

عمران سیال، کراچی:
ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے میں جانا بڑا ہی مشکل کام ہے۔

کریم خان، ایڈمنٹن، کینیڈا:
مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب اسلام آباد ایئرپورٹ سے ہمارا جہاز ٹورانٹو کے لئے روانہ ہوا۔ اسلام آباد سے لیکر ٹورانٹو تک میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ جب ٹورانٹو پہنچا تو یار دوستوں کو اتنا مصروف پایا کہ خود پر یتیم ہونے کا شک گزرا۔ میں نے بھی نوکری کی تلاش شروع کی اور آخر کار ایک معمولی سی نوکری مل گئی۔ پاکستان میں میری نوکری اچھی تھی لیکن زیادہ پیسہ بنانے کے چکر میں یہاں پہنچا۔ معمولی نوکری کی وجہ سے میری سیلف ڈیولمپمنٹ کیا رکی کہ الٹا احساس کمتری کا شکار ہوگیا۔ چونکہ میری ساری زندگی یعنی چالیس سال پاکستان میں گزرے ہیں لہذا مجھے خود کو یہاں ایڈجسٹ کرنے میں ہمیشہ مسئلہ رہتا ہے۔ زبان، ثقافت، مذہب، کلچر، رنگ و نسل، یہاں سب کچھ وہ نہیں جو ہمارا ہے۔ یہاں پر خوشحال خان کے ایک ورس کا ترجمہ لکھ رہا ہوں: ’وہ جب مجھ سے میری پریشانیوں کے بارے میں پوچھتا ہے، تو ویسے ہی میرے زخم پر نمک چھڑکتا ہے، حالانکہ وہ اچھی طرح میرے حال و احوال جانتا ہے۔‘

امجد شریف، آسٹریلیا:
میری عمر تقریبا بائیس سال ہے اور جب میں اپنے ملک سے نکلا تھا اس وقت میری عمر انیس سال تھی۔ میں نے بھی کبھی سوچا نہیں کہ میری زندگی میں کبھی ایسا موڑ آئے گا جب اپنی قومیت یا مذہبی تعصب کا نشانہ بن جاؤں گا۔۔۔۔۔(واضح نہیں)

66آپ کی رائے
مشرق وسطیٰ: غیرملکی ملازمین کی حالت
66عورت کی امامت
عورت نماز کی سربراہی کیوں نہیں کرسکتی؟
66آپ کی رائے
آپ پوپ کو کیسے یاد رکھنا چاہیں گے؟
66آپ کی رائے
اسلام آباد میں مزار پر خودکش حملہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد