 |  پاپائے روم جان پال دوئم |
عیسائیوں کے کیتھولِک فرقے کے روحانی پیشوا پاپائے روم جان پال دوئم سنیچر کی شام مقامی وقت کے مطابق نو بج کر سینتیس منٹ پر وفات پاگئے۔ انہیں بیسویں صدی کے عظیم مذہبی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں جہاں مادیت گزشتہ چند صدیوں سے عروج پر ہے پوپ کے پیروکاروں کی کمی نہیں ہے۔ دنیا میں پوپ جان پال دوئم کے ماننے والوں کی تعداد اس وقت ایک بلین سے بھی زائد ہے۔ جان پال دوئم نے اپنے آپ کو ویٹیکن کی چار دیواری تک محدود نہیں رکھا۔ پوپ بنائے جانے کے بعد وہ مسلسل سفر میں رہے۔ پوپ نے 100 سے زیادہ ممالک کا دورہ کیا اور ایک اندازے کے مطابق 27 بار دنیا کے گرد چکر مکمل کیا۔ پوپ کی ترقی پسندانہ پالیسیوں کے باوجود ان کے ناقدین کی کمی نہیں تھی اور ان کےطلاق اور اسقاطِ حمل جیسے معاملات پر نظریات پر ناقدین کے کڑی تنقید کی۔ 2001 میں ویٹیکن میں منعقدہ ایک اجلاس میں پوپ جان پال دوئم نے طلاق، اسقاطِ حمل، ہم جنس پرستی اور بنا شادی کے اکھٹے رہنے جیسی معاشرتی اقدار کی مخالفت بھی کی۔ آپ پوپ کو کیسے یاد رکھنا چاہیں گے؟ اب یہ فورم بند ہوچکا ہے اور قارئین کی آراء سےایک انتخاب نیچے درج ہے۔
محمد ندیم، ٹورانٹو: ہر شخص اپنے مذھب اور اس مذھب سے متعلق اپنے رہنماؤں کو بہتر جانتا ہے۔ پوپ کے بارے میں ہم مسلمانوں کی جانکاری محدود ہے۔ جولوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پوپ نے یہ اچھا کیا یا وہ برا کیا، غلط کہہ رہے ہیں کیونکہ ان لوگوں کا پوپ کے مذھب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔شہزاد، لندن: پوپ کو بھی اسی انداز میں یاد رکھیں گے جس انداز میں بش اوران کے حمائیتوں کو یاد رکھا جائے گا بلکہ افسوس تو پوپ پر ہوگا کہ انہیں اپنے مذھب کو یادگار بنانے کے لیے جو کرنا چاہیے تھا انہوں نے نہیں کیا۔اتنی طاقت رکھنے کے باوجودانہوں نےمسلمانوں کے خلاف ظلم روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انس ملک، ٹورانٹو: پوپ پال ایک بلین لوگوں کے مذھبی رہنما تھے۔ قطع نظر ان کی تعلیمات کے،میں مسلمانوں کی طرف سے ان کے پیروکاروں سے تعزیت کرتا ہوں۔ہم سب کو ایک دوسرے کی تعلیمات کا احترام کرنا چاہیے اور جب کوئی مذھبی رہنما مر جائے تو اپنے تفرقات کو ایک طرف رکھ کر دوسروں کے دکھ میں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ انسانیت مذھب سے پہلے آتی ہے۔
 | بےاختیارامن پسند  پوپ پال، کوفی عنان وغیرہ جیسے بے اختیار لوگ عموماً امن پسند ہی ہوا کرتےہیں، مگر ان بے چاروں کی سنتا کون ہے؟دنیا میں امن تو اسی وقت ہو گا جب بااختیار لوگوں کو بھی امن کی افادیت کا انداذہ ہو گا۔  جولین ولفورڈ، سیالکوٹ |
سجاد اصغر، فیصل آباد: ایک پروٹسٹنٹ عیسائی ہونے کے ناطے میرا ردعمل وہ نہیں ہو سکتا جو کہ ایک کیتھولک عیسائی کا ہوگا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پوپ صدی کے عظیم لوگوں میں سے تھے نہ صرف ایک روحانی پیشوا تھے بلکہ امن کے علبردار اور ایک سوشل ورکر بھی۔مظفرڈوگر، جرمنی: وہ درحقیقت ہمارے دور کے عظیم آدمی تھے۔ انہوں نہ ہمیشہ غریبوں کی بات کی۔ رانا فیاض، ہیوسٹن، امریکہ: پوپ مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے لیے محترم تھے کیونکہ انہوں نے حق کی بات کی چاہے اس سے مسلمانوں کا فائدہ ہو یا کسی اور مذھب کا۔ درحقیقت انہوں نے ہمیشہ انسانی حقوق کی بات کی۔ پرویز اختر، مسقط: وہ ایک عظیم انسان تھے، نہ صرف عیسائیوں کے لیے بلکہ ساری دنیا کے لیے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: ان کو امن کا نوبل پرائزدیا جانا چاہیے تھا۔ ان کی یہ بات کیسے بھول سکتے ہیں کہ جیل جا کر انہوں نے ان پر حملہ کرنے والے کو گلے لگا لیا۔ لالو کپور، انڈیا: جب وہ بھارت آئے تھے تو پوپ ہندو بن جانا چاہتے تھے لیکن وہ بذدل ثابت ہوئے۔ شاہجہاں جانی، سیالکوٹ: بالکل ویسے ہی تھے جیسے جان پال اول۔۔ متعصب صلیبی۔ انہوں نے ہر کام مسلمانوں کے خلاف کیا اور ہم سے پوچھ رہےہیں کہ وہ کیسے تھے! جولین ولفورڈ، سیالکوٹ: پوپ پال، کوفی عنان وغیرہ جیسے لوگ بے اختیار لوگ عموماً امن پسند ہی ہوا کرتےہیں، مگر ان بے چاروں کی سنتا کون ہے؟دنیا میں امن تو اسی وقت ہو گا جب بااختیار لوگوں کو بھی امن کی افادیت کا انداذہ ہو گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امن پسندوں کو بااختیار بنائے یا بااختیار لوگوں کو امن پسند۔ شاہد سید، شکاگو: کاش وہ سچائی کو پہچان لیتے اور دین حق کو قبول کر لیتے جس کی حقیقت انجیل میں بھی موجود ہے۔ امن کے لیے انہوں نے کچھ زیادہ نہیں کیا ورنہ عیسائیوں کے ہاتھوں دنیا بھر میں مسلمانوں کے قتل عام پر ان کی خاموشی چہ معنی دارد؟ عیسیٰ محمد اچکزئی،چمن، پاکستان: میرا خیال ہے کہ وہ بہت بہادر انسان تھے۔ وہ عیسائیوں کے سب سے کم عمر پوپ بنے۔ ایک اور بات یہ کہ انہوں نے اس ترک شخص کو معاف کیا جس نے ان پر قاتلانہ حملہ کیا تھا جس کا مطلب ہے کہ وہ بہترین انسان تھے۔ میاں بلال، فیصل آباد: پوپ کے بارے میں کچھ زیادہ تو نہیں جانتا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ وہ اٹھاون سال کی کم عمر میں ہی بہت بڑے لیڈر بن گئے تھے لیکن امن کے بارے میں ان کی کوششوں کے بارے میں نہیں جانتا۔
 | خلاف جہالت  وہ نیک انسان تھے اور میں ان کو پسند کرتا تھا کیونکہ وہ جہالت اور شدت پسندی کے خلاف لڑتے تھے۔  ندیم مہر، پاکستان |
ندیم مہر، نواب مشکور ٹاؤن، پاکستان: وہ نیک انسان تھے اور میں ان کو پسند کرتا تھا کیونکہ وہ جہالت اور شدت پسندی کے خلاف لڑتے تھے۔ خدا ان کی روح کو سکون بخشے۔عمر عزیز، ڈسکہ، پاکستان: پوپ کو میں اچھے الفاظ میں ہی یاد کروں گا کیونکہ وہ ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے امریکہ کے افغانستان پر حملے کے خلاف موثر بیان دیا تھا۔ احمد سومار، کراچی: ہمارے عیسائی بھائیوں کے عظیم شخص کی موت ہم سب کےلیے بڑا نقصان ہے۔ہمیں امید ہے کہ نئے پوپ بھی مختلف مذاہب کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کریں گے۔ عاصم سعید، پاکستان: یہ ایک اچھا موقع ہے کہ عیسائیت اور عورت کی آزادی کے علمبردار اپنے لیے ایک عورت کومذہبی رہنما چنیں۔ اب کہاں ہیں حقوق نسواں کے لیے لڑنے والے؟
 | محدود کوششیں  پوپ صاحب نے جو کچھ بھی کیا وہ امریکہ اور یورپ تک محدود تھا۔ باقی دنیا کے لیے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔  عقیل احمد، کراچی |
عقیل احمد، کراچی: پوپ صاحب نے جو کچھ بھی کیا وہ امریکہ اور یورپ تک محدود تھا۔ باقی دنیا کے لیے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ مسلمانوں کے لیے انکے منہ سے ہم نے دو لفظ بھی نہیں سنے۔ ایسے پوپ کوکون یاد کرے اور کیوں؟ محمد سعیدخان، سعودی عرب: پوپ بہت اچھے انسان تھے لیکن انہوں نے امریکہ کو عراق پر حملے سے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ شعیب طارق، واہ کینٹ: طلاق اور اسقاط حمل کی مخالفت سے لگتا ہے کہ وہ صاحب عقل انسان تھے، مگر دکھ کی بات ہے کہ ان کی عقل کا زیادہ حصہ مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال ہوا۔ صلیبیوں کے لیے وہ عظیم رہنما تھے لیکن ھلالیوں کے لیے اس دشمن سے زیادہ نہ تھے جو کہ نادان دوست سے بہتر ہوتا ہے۔ سید عباس رضا کاظمی، گوجرانوالہ: پوپ پال نام ہے ہمت کا، حق کا اور امن کا۔ انہوں نے آخر دم تک عیسائیوں اور مسلمانوں کو امن کا درس دیا۔ تنویر رزاق، فیصل آباد: جان پال ایک عظیم انسان تھے۔ جو شخص اپنے دشمن کو معاف کر سکتا ہے جس نے اس پر گولی چلائی ہو، یہ ان کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرہاد کاظمی، پاکستان: وہ ایک اثرو رسوخ والے شخص تھے۔ ان کی آواز میں بہت اثر تھا لیکن کبھی بھی انہوں نے ظلم کی مخالفت نہیں کی، نہ کوئی انسانی خدمت کی۔  | صاحب عقل لیکن!  طلاق اور اسقاط حمل کی مخالفت سے لگتا ہے کہ وہ صاحب عقل انسان تھے، مگر دکھ کی بات ہے کہ ان کی عقل کا زیادہ حصہ مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال ہوا۔  شعیب طارق، واہ کینٹ | عدنان وحید، ٹورانٹو: پوپ جان پال ایک عظیم رہنما تھے، انہوں نے کیتھولِک لوگوں کے لئے بہت کام کیے مگر امن کی کوششوں میں وہ کافی پیچھے تھے۔۔۔۔سارہ خان، پشاور: ایک بااثر شخص ہونے کے ناطے انہوں نے افغانستان، عراق، فلسطین، کشمیر، بوسنیا، کروشیا وغیرہ میں امن لانے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ افسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی امریکہ کو سچی بات بتانے کی جرات نہیں کرسکے۔ باقی رہی موت کی بات تو سب کو ایک دن جانا ہے، انسان کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ نعیم احمد، دوبئی: انہوں نے عیسائیت کی خدمت نہیں کی۔ نجم الحسن کھوسہ، ڈیرہ غازی خان: رہتی دنیا تک پوپ کی انسانیت کے لئے خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ پوپ نہ صرف پوپ تھے بلکہ وہ ایک عظیم انسان تھے، مظلوموں کے ہمدرد تھے۔ مسعود احمد، بحرین: پوپ بڑے رہنما تھے لیکن ان کے اقدامات کچھ محدود تھے۔ بابر خان، راولپنڈی: بی بی سی والے بھی حد کرتے ہیں، آپ کن لوگوں سے پوپ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ ننانوے فیصد کو تو شاید پوپ کا اصل نام بھی معلوم نہیں ہوگا، رائے دینا تو دور کی بات ہے۔ محمد اشفاق، لاہور: وہ عیسائیوں اور یورپ کے گریٹ رہنما تھے۔ انہوں نے عیسائیوں کے لئے بہت کام کیا۔ پوپ کی موت پر میں اپنے اہل کتاب سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
 | کیسی امن پسندی!  اگر اتنے ہی امن پسند ہوتے تو عراق میں ہونے والےظلم کو رکوانے کی کوشش کرتے اور ضرورت پڑنے پر خود عراق جاتے  عامر رفیق، لندن |
طاہر چودھری، کینیڈا: پوپ جان پال دوئم ایک اچھے انسان تھے۔ کئی سماجی مسائل کو حل کرنے کے لئے انہوں نے کافی کام کیے، بالخصوص غیرفطری مسائل جیسے ہم جنس پرستی، اسقاط حمل وغیرہ۔ انہوں نے عراق میں جنگ کے خلاف آواز اٹھاکر بڑا کام کیا۔ لیکن انہوں نے بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والوں کے خلاف کچھ نہیں کہا۔لیلی، سیالکوٹ: پوپ اگر مسلم ہوتے تو اچھا ہوتا۔ اگر انہوں نے اچھا کام کیا ہے تو آخرت سنور جاتی۔ اللہ باقی لوگوں کو ہدایت دے۔ عامر رفیق، لندن: اگر اتنے ہی نیک اور امن پسند ہوتے تو عراق میں ہونے والی ظلم کو رکوانے کی کوشش کرتے اور ضرورت پڑنے پر خود عراق جاتے تاکہ امریکہ وہاں گولہ باری کرکے بےگناہوں کا قتل عام نہیں کرتا۔ فضل خان، ریاض: بہت لوگ رو رہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اچھے ہی ہوں گے۔ عمران بھٹ، اِلفرڈ، لندن: وہ ایک عظیم رہنما تھے اور ایک اچھے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں تینوں مذاہب کے درمیان ڈائیلاگ کی کوششیں کی۔ مجھے خود مذہب میں یقین نہیں ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ امن کی کوششوں کے لئے انہیں یاد رکھنا چاہئے۔ محمود نواز، بہاول نگر: وہ اچھے شخص تھے، دنیا میں ہمیشہ امن چاہتے تھے، وہ جنگ نہیں چاہتے تھے۔ وہ صداقت کی بات کرتے رہے۔ منظور احمد بنیان، اسلام آباد: وہ حق پر چلنے والے انسان تھے۔ لیکن وہ جو کچھ کرسکتے تھے انہوں نے کیا نہیں۔ لیکن میں ان کی وفات کی خبر سن کر افسوس میں ہوں۔ دنیا سے ایک عظیم رہنما چلے گئے۔ سعید احمد، فیصل آباد: وہ امن چاہتے تھے اور جدید دنیا کے لئے رول ماڈل تھے۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: ایک عظیم اور مذہبی رہنما کی حیثیت سے ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان سب سے بالاتر ہوکر دیکھا جائے تو ان کی دنیا کے لئے امن و امان کی کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا لیکن میرے خیال میں جیسا کہ ان کے پاست پاور تھی اس لحاظ سے امن کے لئے وہ اور کوشش کرسکتے تھے۔ کیوں کہ ان کی بات شاید سنی جاتی، ہمارے کرسچین بھائی بہنوں کے دکھ میں شریک ہوں، سب کو ان کی امن کی تعلیمات پر عمل کرنی چاہئے۔ یاور خان، یو کے: بظاہر تو بہت اچھے اور سچے انسان معلوم ہوتے ہیں مگر اسلام کو نہیں پہچان سکے جو اصل سچائی ہے۔ سید فرمان علی: پوپ دوئم کی موت کا سن کر افسوس تو ہوا لیکن جس حساب سے کچھ سیاسی لیڈر انہیں دنیا میں امن پھیلانے والے واحد شخصیت بتا رہے ہیں تو میری ان لوگوں سے گزارش ہے کہ مذبہی یا ملکی تعصف سے کام لینے کے بجائے حق اور سچائی سے کام لیں اور جنابِ پوپ سے پہلے ان لوگوں کے نام لیں اور لوگوں کو امن کے ایوارڈ سے نوازیں کہ جو ان سے پہلے پیغمبر گزر چکے ہیں۔ امجد شیخ، سویڈین: آپ ہم سے اتفاق کریں گے کہ وہ ایک عظیم شخص تھے، وہ سیاست میں نہیں تھے، اور انہوں نے عالمی امن اور رومن کیتھولِک عقیدے کے لئے وقف کردیا۔ منور علی، لاڑکانہ: وہ ایک عظیم مذہبی اسکالر تھے۔ کاشف یعقوب، اسلام آباد: پوپ ایک عظیم شخص تھے، اور ان کی وفات سے ہر ایماندار شخص کو صدمہ پہنچا ہے، بالخصوص عیسائی مذہب کے ماننے والوں کو۔ ان کا مذہب کوئی بھی رہا ہو، انسانیت کے لئے ان کی خدمت بالخصوص مظلوم قومو کے لئے، ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اور انہیں یاد رکھنے کا بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ دنیا میں ان کی امن کی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ ذوالفقار گونڈل، بارسلونا: میں پوپ کی موت پر افسوس کرتا ہوں۔ گو کہ وہ مسلمان نہیں تھا لیکن دنیا میں ایک اچھے انسان کی کمی ہوگئی۔ شعیب، بنوں: بےشک پوپ بہت عظیم رہنما تھے، لیکن امن کے لئے ان کی کوشش کم تھی۔ عفاف اظہر، کینیڈا: پوپ جان پال ایک مذہبی لیڈر ہونے کی حیثیت سے ایک اچھے انسان تھے اور ان کی وفات سے کرسچین لوگوں کو جو نقصان ہوا ہے میں اس کے لئے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔ راحیل جعفری، کراچی: ایک مضبوط عقیدہ رکھنے والے، ایک ثابت قدم رہنا تھے۔ ندیم رانا، بارسلونا: کل اس دنیا نے ایک عظیم رہنما کو کھودیا جس نے ہمیشہ اپنی زندگی میں سچائی کی بات کی، ایک ایسا رہنما جو ایک بلین لوگوں کی نمائندگی کرتا تھا۔ اس نے اس دنیا کو صحیح راستہ دکھایا، وہ ایک عظیم رہنما تھا، ایک عظیم شخص تھا، وہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔
|