عالمی سطح پر پوپ کو خراج عقیدت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی سطح پر پاپائے روم جان پال دوئم کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کے صدر جارج بُش نے جان پال دوئم کو انسانی آزادی کا چیمپین قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے جان پال دوئم کی موت پر غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم امن کے ان تھک سپاہی تھے۔ صدر بُش نے کہا کہ انتقال پا جانے والے پاپائے روم نے لوگوں کو ایک ایسی دنیا کے قیام کی ذمہ داری کا احساس دلایا جس میں طاقتور کمزور کو پناہ دیتا ہے۔ برطانیہ میں ملکہ الزبتھ نے ایک بیان میں جان پال دوئم کی طرف سے امن کے قیام کی کوششوں کو یاد کیا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا دنیا ایک ایسے مذہبی رہنما سے محروم ہو گئی ہے جن کی ہر سطح پر عزت کی جاتی تھی۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک نے کہا مرحوم نے اپنے حوصلے اور عزم سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی تھی۔ اسلامی ممالک عرب لیگ نے کہا ہے کہ جان پال دوئم امن کے پیامبر تھے اور انہوں نے مختلف مذاہب اور قوموں کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی۔ ایران کے صدر محمد خاتمی اور مصر کے صدر حسنی مبارک نے بھی جان پال دوئم کے انتقال پر تعزیت کے پیغامات بھیجے۔ نائجیریا کے صدر نے کہا کہ مرحوم پاپائے روم نے ان کے ملک میں آمریت کے خاتمے میں مدد کی۔ نائجیریا میں پانچ کروڑ کیتھولک رہتے ہیں۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے کہا کہ ’ہم ایک ایسے رہنما سے محروم ہو گئے ہیں جس نے اپنی زندگی امن اور انصاف کے لیے وقف کر رکھی تھی‘۔ برطانیہ میں دی مسلم کونسل آف بریٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جان پال دوئم کی موت سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ غمگین ہوں گے۔ پاپائے روم جان پال دوئم کا آبائی وطن پولینڈ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پولینڈ میں غیر مذہبی لوگ بھی جان پال دوئم کی بہت عزت کرتے تھے۔ پولینڈ کے سابق صدر لیخ ولیسا نے کہا کہ پاپائے روم جان پال دوئم کا کمیونزم کے خاتمے میں اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جان پال دوئم نہ ہوتے تو کمیونزم کے خاتمے میں مزید وقت لگتا اور شاید ایسا خون خرابے کے بعد ہوتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||