پوپ جان کون اور کیا تھے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیرول وجٹیلا کی 1978 بطور پوپ تقرری کو کیتھولک گرجا کی جانب سے ایک انقلابی قدم کے طور پر دیکھا گیا۔ کیرول وجٹیلا پوپ بننے والے پہلے پولش پادری تھے اور صرف 58 برس کی عمر میں بیسویں صدی کے کم عمر ترین پوپ بنے۔ وہ کیتھولک چرچ کے اعلیٰ حلقوں میں بہت تیزی سے شامل ہوئے تھے اور انہیں کراکو کا آرچ بشپ چنا گیا تھا۔ اگرچہ بطور پادری وہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے لیکن ویٹیکن سے باہر انہیں بہت کم لوگ جانتے تھے اور چند ماہرین نے ہی انہیں پوپ جان پال اول کے جانشین کے طور پر پیش کیا تھا۔ پوپ جان پال اول صرف تینتیس دن پوپ کے عہدے پر رہنے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ کیرول وجٹیلا کو سسٹائن چیپل میں منعقدہ پادریوں کے دو روزہ اجلاس کے بعد پوپ منتخب کیا گیا اور انہوں نےجان پال دوئم کا نام اختیار کیا۔ پوپ جان پال دوئم 1920 میں کراکو کے نزدیک پیدا ہوئے۔ انہیں کھیلوں میں نہایت دلچسپی تھی اور وہ فٹ بال اور سکیئینگ میں حصہ لیتے تھے۔ پوپ تھیٹر دیکھنے کے بھی شوقین تھے اور اپنی زندگی کے ایک حصے میں انہوں نے اداکار بننے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔ جنگِ عظیم دوئم میں نازی دور کے دوران پوپ نے مذہبی علوم کا مطالعہ شروع کیا۔ وہ کچھ عرصے روپوش رہے۔ جس کے بعد انہیں 1946 میں پادری بنا دیا گیا۔ پادری بننے کے بعد پوپ نے تیزی سے ترقی کی اور وہ 1964 میں آرچ بشپ جبکہ 1967 میں کارڈینل بنا دیے گئے۔ باہر سے آنے والی شخصیت ہونے کے ناطے پاپائیت کے حصول کے لیے ان کا طریقۂ کار نہایت شاندار تھا۔ روایتی پوپ کی طرح جان پال دوئم نے اپنے آپ کو ویٹیکن کی چار دیواری تک محدود نہیں رکھا۔ پوپ بنائے جانے کے بعد وہ مسلسل سفر میں رہے۔ پوپ بننے کے بعد انہوں نے جلد ہی دنیا بھر میں اپنے آپ کو عیسائیوں کے مذہبی رہنما کے طور پر شناخت کروا لیا۔ پوپ نے 100 سے زیادہ ممالک کا دورہ کیا اور ایک اندازے کے مطابق 27 بار دنیا کے گرد چکر مکمل کیا۔ لوگوں سے قربت کی اس خواہش نے ان کی زندگی کو خطرے میں بھی ڈالا۔ 1981 میں ایک ترک جنونی مہمت علی اگچا نے ان پر سینٹ پیٹرز سکوائر میں گولی چلائی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ صحت یابی کے بعد پوپ نے اپنے حملہ آور کومعاف کر دیا۔ پوپ کی ترقی پسندانہ پالیسیوں کے باوجود ان کے ناقدین کی کمی نہیں تھی اور ان کےطلاق اور اسقاطِ حمل جیسے معاملات پر نظریات پر ناقدین کے کڑی تنقید کی۔ 2001 میں ویٹیکن میں منعقدہ ایک اجلاس میں پوپ جان پال دوئم نے طلاق، اسقاطِ حمل، ہم جنس پرستی اور بنا شادی کے اکھٹے رہنے جیسی معاشرتی اقدار کی مخالفت کی۔ چرچ اور چرچ سے باہر کے کیتھولک رہنماؤں نے پوپ کے اس نظریے کی مخالفت کی اور کہا کہ ایسےنظریات کے پرچار سے اس بدلتی دنیا میں کیتھولک فرقے کے لوگ تنہا رہ جائیں گے۔ حالیہ برسوں میں پوپ جان پال دوئم کی صحت تیزی سے بگڑی۔ 1992 میں ان کی آنتوں سے رسولی نکالی گئی جبکہ 1993 میں ان کا کندھا اتر گیا۔ اگلے ہی برس 1994 میں پوپ کی ران کی ہڈی ٹوٹ گئی جس کے بعد 1996 میں ان کا اپنڈکس کا آپریشن ہوا۔ 2001 میں ہڈیوں کے ایک ڈاکٹر نے ان خدشات کی تصدیق کی کہ پوپ پارکنسنز نامی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ 2003 میں روم کے سینٹ پیٹرز سکوائر میں دنیا بھر سے آئے ہوئے معتقدین کے ہمراہ پوپ جان پال دوئم نے اپنی پاپائیت کی پچیسویں سالگرہ منائی۔ اس کے صرف پانچ ماہ بعد 14 مارچ 2004 کو بطور پوپ ان کا دورِ اقتدار کیتھولک گرجا کی تاریخ کے تیسرا طویل ترین دور بن گیا۔ پوپ نے مئی 2004 میں اپنی چوراسیویں سالگرہ منائی لیکن اپنی خراب ہوتی ہوئی صحت کے باوجود انہوں نے اپنے غیر ملکی دورے اور مصروفیات ترک نہیں کیں اور ستمبر 2003 سے لے کر صحت کی حالیہ خرابی تک ہر بدھ کو ویٹیکن میں اپنے معتقدین سے ملاقات کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||