پوپ جان پال انتقال کر گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روم سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کیتھولک فرقے کے روحانی پیشوا پوپ جان پال وفات پا گئے ہیں۔ وہ جعمرات سے شدید علیل تھے۔ روم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ پوپ جان پال انتقال کر گئے ہیں ۔ دنیا بھر سے کارڈینل روم پہنچ رہے ہیں تاکہ نئے پوپ کے انتخاب کے لیے تیاری کر سکیں۔ پوپ کے روم کے لیے وکر جنرل نے کہا کہ ’پوپ اور یسوع مسیح ایک ساتھ ہیں۔‘ اس سے قبل ویٹیکن کےترجمان نے کہا تھا کہ پوپ جان پال کو دل کا دورہ پڑا ہے اور ان کی حالت نازک ہے۔ انفیکشن کے باعث پوپ شدید بخار میں مبتلا ہیں۔ پوپ جان پال فروری میں حلق کے آپریشن کے بعد پوری طرح صحت یاب نہیں ہوئے ہیں اور انہیں خوراک ایک نعلی کے ذریعے دی جا رہی ہے جس کے باعث انہیں بولنے میں بھی دشواری ہے۔ ویٹیکن میں ان کی صحت کے بارے میں جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن کی وجہ سے انہیں تیز بخار ہوگیا ہے۔ بیان کے مطابق پوپ نے ہسپتال جانے سے انکار کر دیا اور اب وہ ایک طبی ٹیم کی نگرانی میں ہیں اور ان کا اینٹی بائیوٹک دواؤں سے علاج کیا جارہا ہے۔ پوپ کی عمر چوراسی سال ہے اور وہ کئی سال سے پارکنسن (فالج اور رعشے کے مرض) میں مبتلا ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کیتھولک چرچ کی طرف سے اب وہ مقدس رسومات بھی ادا کی جا چکی ہیں جو انتہائی بیمار یا قریب المرگ آدمی کے لیے کی جاتی ہیں۔ ویٹیکن کے سینٹ پیٹر سکوائر میں پوپ کے معتقدین کی ایک بہت بڑی تعداد جمع ہے جو ان کی صحتیابی کے لیے دعاؤں میں مصروف ہے۔ کیتھولک فرقے کے ایک مذھبی رہنماء کے مطابق تقریباً تیس ہزار لوگ سکوائر میں موجود تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||