حملے سے امریکہ مخالف جذبات بھڑکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ کے اس چھوٹے سے گاؤں میں گزشتہ جمعہ کی صبح امریکی حملے نے القاعدہ کے اہم رہنما ایمن الظواہری کی موجودگی کے بارے میں ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ ڈمہ ڈولا کا محل وقوع دیکھ کر یقین کے ساتھ یہ کہنا اب بھی مشکل ہے کہ جس شخص کے سر کی قیمت امریکہ نے ڈھائی کروڑ ڈالر مقرر کی ہے اس گاؤں میں حملے کے وقت موجود ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اب تک ایمن الظواہری کی موت کی تصدیق نہ ہونے سے کم از کم یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ جن خفیہ معلومات کی بنیاد پر امریکی فوجیوں نے یہ کارروائی کی تھیں وہ درست نہیں تھیں۔ باجوڑ میں عام تاثر یہ ہے کہ امریکی فوج کی اطلاعات غلط تھیں جیسا کہ اس سے پہلے افغانستان میں شادی جیسی تقریبات پر بمباری کی صورت میں ہو چکا ہے۔ اس حملے کے بعد کئی ذرائع سے مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے میں تباہ ہونے والے ایک مکان کے مالک نے رات وہاں اپنے چند ’دوستوں’ کو کھانے پر مدعو کیا تھا۔ تاہم یہ ’دوست‘ آدھی رات کے قریب واپس چلے گئے تھے۔ جنگی طیاروں سے تقریباً آدھے گھنٹے دورانیے کا یہ مختصر حملہ تاہم چند گھنٹوں بعد رات تین بجے کے بعد ہوا۔ تباہ شدہ مکانات کے مالکان تاہم اس رات کسی دعوت یا کسی مہمان کے ان کے ہاں ٹھہرنے کی افواہوں کی تردید کرتے ہیں۔ حملے میں ہلاک ہونے والے ایک شخصں کے بھائی شیر اعظم نے بتایا کہ وہ کسی القاعدہ یا ایمن الظواہری کو نہیں جانتے۔ انہوں نے افغانستان میں کسی دوست احباب کی موجودگی یا آنے جانے سے بھی انکار کیا۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کے آس پڑوس میں کسی کے گھر کوئی مشکوک شخص آتے جاتے ہوں یا ٹھہرے ہوں۔’ہم تو زرگر لوگ ہیں تمام دن اپنے کاروبار میں مصروف رہتے ہیں۔ ہمیں کچھ نہیں معلوم‘۔ پاکستان کے باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک قبائلی خطے میں جب سے القاعدہ کا قصہ شروع ہوا ہے آج تک کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس نے کسی غیرملکی کی موجودگی کا اعتراف کیا ہو۔ حکام کہتے ہیں کہ القاعدہ کی موجودگی ان علاقوں میں آج بھی ہے۔ جن مکانات کو نشانہ بنایا گیا وہ کسی کے چھپنے کی مناسب جگہ ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ قدرے گھنے درختوں کے جھنڈ میں یہ مکانات ایک ایسی چھوٹی پہاڑی پر واقعے ہیں جہاں سے ڈمہ ڈولا کو صدر مقام خار بازار سے آنے والے واحد کچے راستے پر نظر باآسانی رکھی جاسکتی ہے۔ یہاں سے افغانستان کا صوبہ کنڑ مغرب میں بیس پچیس کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ سیمنٹ اور سریے سے بنائے گئے قلعہ نما مکانات کسی بھی شخص کے چھپنے کے لئے بظاہر موزوں دکھائی دیتے ہیں تاہم مقامی قبائلیوں کا اصرار ہے کہ یہاں کسی کے لئے چھپنا ممکن نہیں۔ خاندان کے مرد بغیر کسی روک ٹوک کے ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے ہیں۔ باجوڑ القاعدہ کی وجہ سے خبروں میں اتنا نہیں رہا جتنا کہ وزیرستان۔ یہ کافی پرامن علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ مذہبی اعتبار سے یہ علاقہ کافی قدامت پسند تصور کیا جاتا ہے۔ یہ گاؤں خار جیسی شہری آبادی کے بہت قریب واقع ہے اور اس تک رسائی آسان ہے۔ افغانستان میں اتحادی افواج کو جن علاقوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان میں سرحد پار کنڑ کا صوبہ بھی شامل ہے۔اس وجہ سے خیال ہے کہ یہ علاقہ امریکی افواج کی مسلسل نگرانی میں ہوسکتا ہے۔ باجوڑ میں گزشتہ برس چند ’غیرملکیوں‘ کی القاعدہ کے ساتھ روابط کے شک میں گرفتاری اور اسی سلسلے میں انہیں پناہ دینے کے الزام میں مولانا فقیر محمد نامی ایک شخص آج بھی حکومت کو مطلوب ہے۔ ان حالات میں فیصلہ کرنا کہ ایمن الظواہری وہاں تھے عام آدمی کے لئے کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔ امریکی ادارہ سی آئی اے اس فیصلے پر کیسے پہنچا کہ وہ وہاں ہے معلوم نہیں لیکن اس حملے سے امریکہ مخالف جذبات بھڑکے ضرور ہیں۔ خار کے ایک ستر اسی سالہ قبائلی عبدالرحیم نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ آزادی سے قبل جب انگریز علاقے پر بمباری کیا کرتا تھا تو دو دن پہلے علاقے میں پرچیاں گرایا کرتا تھا کہ غیرمتعلقہ افراد علاقہ چھوڑ دیں۔’اب تو بغیر کسی اطلاع کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے‘۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||