’حملہ ناقص انٹیلی جنس کا نتیجہ تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈمہ ڈولا پچاس سے ساٹھ گھرانوں پر مشتمل ایک گاؤں ہے۔ اس گاؤں کے تین گھروں کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک مکان جو بخت نورخان کا ہے وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی بادشاہ خان کا گھر ہے وہ بھی تباہ ہو چکا ہے۔ اِسی طرح بخت نور کے بھائی صادق کا گھر بھی تقریباً آدھا تباہ ہو چکا ہے۔ یہ سمینٹ اور پتھروں کے بنے ہوئے بڑے بڑے گھر تھے۔ قریب میں ہی اس گاؤں کا قبرستان ہے جہاں اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کو دفنایا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں بخت نور خان کے خاندان کے گیارہ افراد شامل ہیں۔ وہ خود بھی مارے گئے ہیں۔ بادشاہ خان کے دو بھتیجے مارے گئے ہیں۔ اب تک صرف تیرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ تین افراد کو زخمی حالت میں ہسپتال داخل کرایا گیا ہے۔ پہلے یہ تعداد اٹھارہ بتائی گئی تھی لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ کچھ بچے جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ ہلاک ہو گئے ہیں وہ اپنے گھر واپس آ گئے ہیں۔ ا
لوگوں میں خوف و ہراس بھی پایا جاتا ہے۔ جس رات حملہ ہوا اس رات کافی دور تک بمباری کی آواز سنی گئی اور لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے۔ حملے کی اگلی رات بھی لوگوں کو کچھ طیاروں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ یہ سمجھ کر گھروں سے بار نکل آئے کہ شاید پھر حملہ ہو گیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ شاید انہیں دوبارہ بمباری کا نشانہ بنایا جائے۔ پہلے یہ بھی کہا گیا تھا کہ سکیورٹی اہلکار گاؤں سے پانچ افراد کی لاشیں لے گئے ہیں۔ لیکن ہمیں یہاں آکر معلوم ہوا ہے کہ یہاں کوئی نہیں آیا۔ نہ کوئی امریکی آیا ہے اور نہ ہی پاکستان فوج کا کوئی اہلکار۔ حد تو یہ ہے کہ ہلاک شدگان کی تعزیت کے لیے بھی کوئی سرکاری اہلکار نہیں آیا۔ میرے خیال میں یہ حملہ ناقص انٹیلی جنس کا نتیجہ ہے۔ یہ انٹیلی جنس انسانی ذرائع سے حاصل کی گئی خفیہ معلومات بھی ہو سکتی ہے اور سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی تصویریں بھی۔ اس گاؤں میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے کچھ لوگ رہتے ہیں۔ مُلا فقیر محمد کا گھر بھی اِسی گاؤں میں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کا گھر امریکیوں کا نشانہ ہو لیکن نشانہ خطا گیا اور بے گناہ لوگ مارے گئے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||