’حملہ ملک کی سالمیت پر تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باجوڑ کے ایک گاؤں میں گزشتہ جمعہ کے روز مبینہ امریکی حملہ میں ہونے والی ہلاکتیں پاکستانی میڈیا میں پچھلے تین روز سے ایک بڑی خبر ہے۔ اخبارات نے اس پر اداریے بھی لکھے ہیں جن میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ ملک کی خود مختاری کے خلاف ہے اور امریکہ کے ایسے حملوں سے ملک میں انتہا پسندوں کو تقویت ملے گی۔ اخباروں نے حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کے باجوڑ میں حملہ کی مذمت کے بیان سمیت پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ(ن) اور مجلس عمل کے مذمتی بیانات بھی شائع کیے ہیں۔ چودھری شجاعت نے برسلز سے بیان جاری کیا ہے کہ اس حملے پر پوری قوم سراپا احتجاج ہے اور یہ ملک کی خود مختاری پر حملہ ہے۔ جنگ نے ہفتہ کے روز اپنی شہ سرخی میں اس واقعہ کو امریکی حملہ لکھنے کی بجائے ’باجوڑ ایجنسی میں دھماکے‘ کے الفاظ استعمال کیے۔ تاہم دی نیشن، ڈیلی ٹائمز، نوائے وقت اور خبریں نے اپنی سرخیوں میں اسے ’میزائل حملہ‘ لکھا۔ اتوار کے روز اخباروں نے باجوڑ کی ہلاکتوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے زیادہ پاکستان کے امریکہ سے احتجاج کو نمایاں جگہ دی۔ دی نیوز نے شہ سرخی لگائی ’ڈاؤن وِد امریکہ‘ (امریکہ مردہ باد) اور امریکہ مخالف مظاہرہ کی تصویر شائع کی۔ جنگ نے حکومت کے امریکہ سے احتجاج کو بڑی سرخی کے طور شائع کیا اور مظاہروں کی نسبتاً چھوٹی خبر لگائی۔ دی نیشن نے اتوار کی اشاعت میں دفتر خارجہ میں امریکی سفیر کی طلبی کو صفحہ اول پر نمایاں جگہ دی اور باجوڑ میں ہونے والی تباہی کی تصویریں بھی شائع کیں۔ پیر کے روز بھی تمام اخباروں نے مجلس عمل اور ایم کیو ایم کے مظاہروں کو صفحہ اول پر تصویروں کے ساتھ شائع کیا ہے۔
اخبارات نے باجوڑ کے واقعہ پر اداریے لکھے ہیں۔ روزنامہ ڈان نے پندرہ جنوری کو اپنے ادارتی نوٹ میں حکومت سے کہا ہے کہ وہ جمعہ کے روز باجوڑ میں ہونے والے واقعہ کے بارے میں تفصیلات سامنے لائے کہ کیا سی آئی اے کے طیارے پاکستان کی فضا میں داخل ہوئے اور انہوں نے میزائل فائر کیے۔ اخبار کہتا ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو حکومت بتائے کہ کیا اس نے امریکہ کو اس کی اجازت دی ہوئی ہے؟ انگریزی روزنامہ دی نیشن پندرہ جنوری کو اپنے اداریہ میں لکھتا ہے کہ ان حملوں سے پاکستان اور مسلمان دنیا میں ہی نہیں بلکہ تمام مہذب ممالک میں امریکہ کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوگا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اگر امریکی ٹیلی وژن اے بی سی کی یہ رپورٹ درست ہے کہ سی آئی اے کے عملہ کے بغیر ’پریڈیٹر‘ جہاز نے میزائل اس لیے برسائے تھے کہ القاعدہ کے دوسرے بڑے رہنما ایمن الظواہری وہاں موجود تھے تو بھی یہ کارروائی پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو کرنی چاہیے تھی، سی آئی اے کو نہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر کی دفتر خارجہ میں طلبی ایک درست اقدام تھا اور امید ہے کہ اس کے مطلوبہ نتائج برآمد ہوں گے۔
دی نیوز نے آج پیر کے روز اپنے اداریہ میں کم و بیش دی نیشن جیسا موقف اختیار کیا ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ امریکہ سے ہماری ’ڈیل‘ میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کرے اور پاکستانی شہریوں کو ہلاک کرے۔ اخبار کہتا ہے کہ باجوڑ جیسے واقعات سے ایک ایسے علاقہ میں جہاں صورت حال پہلے ہی نازک ہے انتہا پسندوں کو ایک بہترین نیا مقصد ہاتھ آجائے گا۔ ڈیلی ٹائمز واحد اخبار ہے جس نے اپنے ادارتی نوٹ میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ باجوڑ میں کارروائی امریکہ اور پاکستان کی مشترکہ کارروائی تھی جس میں پاکستانی ایجنسیوں نے خفیہ اطلاع مہیا کی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس علاقے کی جغرافیائی حالات کے پیش نظر زمینی کے بجائے فضائی کارروائی کرنا مناسب سمجھا گیا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں القاعدہ کے ایک حامی مُلا نے غیرملکیوں کو اپنے گھر مدعو کر رکھا تھا جنہیں حملے میں ان کی موت کے بعد دفن کردیاگیا تاکہ حکام ان کی میتیں نہ لے جاسکیں اور اس طرح اس واقعہ میں مرنے والوں کی تعداد انتیس ہے، اٹھارہ نہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ حکومت وزیرستان، ڈیرہ بگتی اور کوہلو میں پھنسی ہوئی ہے اور اگر اس کا خیال ہے کہ وہ پنجاب پر انحصار کرسکتی ہے تو اسے پنجاب میں اپنے امیج کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت پر نظر ڈالنی چاہیے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||