BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 January, 2006, 03:38 GMT 08:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملے کا سبب کھانے کی دعوت
 الظواہری
ابتدائی اطلاعات کے مطابق الظواہری ہی امریکی حملے کا اصل ہدف تھے۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ عید کے موقع پر القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کو دی گئی کھانے کی دعوت باجوڑ ایجنسی کا گاؤں ڈمہ ڈولا پر حملے کا باعث بنی۔

جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات ڈمہ ڈولا کے تین مکانوں پر کیے جانے والے امریکی حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایمن الظواہری کو عید کے موقع پر ہونے والی ایک دعوت کے لیے ڈمہ ڈولا مدعو کیا گیا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق القاعدہ رہنماء نے یہ دعوت قبول کر لی تھی لیکن عین موقع پر ڈمہ ڈولا آنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق ایمن الظواہری کی نمائندگی ان کے دو ساتھیوں نے کی تھی۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق تفتیش کار اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ایمن الظواہری کی نمائندگی کرنے والے مقامی القاعدہ رہنما ان گھروں میں تو موجود نہیں تھے جنہیں بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔

دوسری طرف برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستانی کے انٹیلیجنس حکام ان اطلاعات کی بھی چھان بین کر رہے ہیں کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سات غیر ملکی جنگجو بھی شامل تھے جن کی لاشیں مقامی حامی اٹھا کر لے گئے تھے۔

باجوڑ حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

رائٹرز نے ایک اور سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ دو مقامی شدت پسند رہنما جو القاعدہ رہنماؤں کو پناہ دینے کے لیے مشہور ہیں دعوت میں شرکت کے لیے آئے تھے لیکن وہ دونوں حملے سے پہلے ہی چلے گئے تھے۔

پاکستان نے امریکہ سے حملے پر احتجاج کیااور کہا کہ یہ معاملہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ پر مشتمل سہ فریقی کمیشن کے آئندہ اجلاس میں بھی اٹھایا جائے گا۔

دوسری طرف پاکستانی کی مذہبی اور سیاسی پارٹیوں نے باجوڑ ایجنسی میں ہونے والے اس حملے کے خلاف احتجاج کیا ہے اور اسے پاکستان کی سالمیت پر حملہ قرار دیا ہے۔

امریکہ نے ابھی تک باجوڑ ایجنسی میں ہونے والے اس حملے کے بارے میں کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن اتوار کو کئی امریکی سینیٹروں نے حملے کا دفاع کیا۔

باجوڑ میں امریکی حملے سے ہونے والی تباہی

امریکی صدر بش کی ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان مکین نے معصوم انسانی جانیں ضائع ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف امریکی جنگ میں ایسی ہلاکتوں سے بچا نہیں جا سکتا۔

امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں امریکی جانوں کے جانے پر افسوس ہے لیکن امریکی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر وہ قدم اٹھائے گا جو اس کے خیال میں القادہ قیادت کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہوا۔

ڈیموکریٹ سینیٹر ایون بیہہ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کا افغان سرحد کے قریب واقع اس علاقے کو کوئی خاص کنٹرول نہیں ہے جہاں بمباری ہوئی۔

سی این این کے کے پروگرام ’لیٹ ایڈیشن‘ میں گفتگو کے دوران نہوں نے کہا کہ یہ ایک قابل افسوس صورت حال ہے لیکن ہم اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد