باجوڑ حملہ، حکمران جماعت کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ(ق) نے ملک کے قبائلی علاقے باجوڑ میں مبینہ امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ایک قرارداد میں پاکستان کی سرحدوں کی بلاجواز خلاف ورزی پر سخت احتجاج کیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی ان ممالک کی افواج نے کی جن کو پاکستان اپنا دوست اور ساتھی سمجھتا ہے۔ باجوڑ میں امریکی طیارے کے حملے میں اٹھارہ افراد مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ پاکستانی حکومت نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر کو بلا کر اس واقعہ پر احتجاج کیا تھا۔ ادھر امریکی حکام مصر ہیں کہ یہ حملہ ان اطلاعات کی روشنی میں کیا گیا جن کے مطابق اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواہری باجوڑ کے گاؤں ڈمہ ڈولا میں موجود تھے۔تاہم پاکستانی حکام ان اطلاعات کی تردید کر رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے بیان کے مطابق جماعت پاکستان کے تمام لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے باجوڑ پر امریکی حملے کی مذمت کرتی ہے جس میں بے گناہ شہری مارے گئے تھے۔ مسلم لیگ کے مطابق ان بلاجواز اور بلا اشتعال حملوں سے پاکستان، امریکہ اور نیٹو کی دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی مہم پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ حکمران جماعت کی اتحادی جماعتیں اور حزب اختلاف کی سیاسی و مذہبی جماعتیں پہلے ہی اس مبینہ امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کر چکی ہیں۔
اتوار کو پورے ملک میں حزب اختلاف کی دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر ملک کے بڑے شہروں میں باجوڑ حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی منعقد کیے گئے تھے جن میں امریکہ کے ساتھ ساتھ صدر جنرل پرویز مشرف پر بھی شدید تنقید کی گئی تھی۔ منگل کو امریکی عہدیداران کے بیانات سے ملک میں مزید اشتعال پھیل رہا ہے۔ پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل نے امریکی سینیٹر جان مککین کے اس بیان کو بہت نمایاں طور پر خبروں میں جگہ دی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی مذمت تو کرتے ہیں مگر اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ ایسے واقعات پھر رونما نہیں ہوں گے۔ ادھر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انہوں نے لائبیریا جاتے ہوئے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کے خدشات دور کرنے کی کوشش کریں گی مگر ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ القائدہ اور طالبان کے ساتھ نرمی نہیں برتی جا سکتی۔ پاکستانی اخبارات میں یہ خبریں بھی آج صفحہ اول کی زینت بنی ہیں کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری باجوڑ کے گاؤں ڈمہ ڈولا گئے تھے مگر امریکی حملے سے کچھ گھنٹے پہلے وہاں سے چلے گئے تھے۔تاہم اس بارے میں تمام خبریں نامعلوم خفیہ ذرائع کے حوالے سے دی جا رہی ہیں مگر کوئی سرکاری اہلکار اس پر تبصرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||