BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 October, 2006, 16:23 GMT 21:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملہ ایسے لگ رہا تھا جیسے زلزلہ ہو‘

ہلاک ہونے والوں میں اکثریت طالب علموں کی تھی جن کی عمریں پندرہ سال سے کم تھی۔
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پیر کی صبح دینی مدرسے پر ہونے والے حملے کے بارے میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طیاروں نے تین بار مدرسے کو نشانہ بنایا اور حملے کے وقت سارا علاقہ ایسا لرز رہا تھا جیسے پورے علاقے میں خوفناک قسم کا زلزلہ آیا ہو۔
حملے کے فوری بعد انعام خرو چنگئی پہنچنے والے مقامی صحافی ابراہیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بمباری کی آوازیں تو انہیں گھر میں ہی سنائی دیں جو مدرسے والے علاقے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ بمباری کا نشانہ بننے والے مقام پر پہنچے تو وہاں پر عجیب صورتحال تھی ہر طرف لاشیں پڑی تھیں اور مقامی لوگ انہیں اکٹھا کرنے میں مصروف تھے۔ ’ کئی لاشیں ایسی تھیں جن کے اعضاء الگ ہو گئے تھے اور وہ ٹکڑوں میں بکھری ہوئی تھیں جنہیں مقامی لوگ اکٹھا کر کے چارپائیوں پر رکھ رہے تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت مدرسے میں تراسی طلباء موجود تھے جن میں اسی ہلاک اور تین شدید زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں مدرسے کے مہتمم مولانا لیاقت اور تین اساتذہ بھی شامل ہیں۔

واقعے کے ایک دوسرے عینی شاہد عمران خان نے بتایا کہ انہوں نے دیکھا کہ جہازوں نے ہوا میں ایک سرخ دائرہ بنایا اور پھر ایک ساتھ بمباری کی۔ انہوں نے کہا کہ بمباری کے وقت سارا علاقہ لرز رہا تھا اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے علاقے میں خوفناک قسم کا زلزلہ آیا ہوا ہو۔

کون کون ہلاک ہوا؟
 حملے کے وقت مدرسے میں تیراسی طلباء موجود تھے جن میں اسی ہلاک اور تین شدید زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں مدرسے کے مہتمم مولانا لیاقت اور تین اساتذہ بھی شامل ہیں

’میں نے دو درجن سے زائد ایسی لاشیں دیکھیں جن کے یا تو دھڑ نہیں تھے یا سر نہیں تھے اور اگر سر تھے تو ہاتھ اور پاؤں نہیں تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے ایک ہاتھ دیکھا جس کے ساتھ سر اور دھڑ نہیں تھا۔ زیادہ تر لاشیں ایسی تھیں جیسے کوئی چیز جل رہی ہو اور اس پر پانی ڈال دیا جائے‘۔

باجوڑ ایجنسی سے متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید جنہوں نے آج شام کو اس واقعے کے خلاف بطور احتجاج اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے، نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت طالب علموں کی تھی جن کی عمریں پندرہ سال سے کم تھی۔

’میرا گھر مدرسے سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہاں کوئی غیر ملکی نہیں تھا بلکہ جو اس واقعے میں شہید ہوئے ہیں یہ سب علاقے کے مقامی غریب لوگ تھے۔ اب پندرہ سولہ سال کے طالب علم کیسے دہشت گرد ہوسکتے ہیں‘۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حملہ امریکی طیاروں نے کیا ہے لیکن فوجی ترجمان شوکت سلطان امریکہ کی بندوق اپنے کاندھے پر رکھ کر اس کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں۔

قبائلیباجوڑ پر حملہ
امریکہ مخالف جذبات بھڑکے ہیں:ہارون
باجوڑ: خوش آمدید
ایمن الظواہری آئیں تو فخر ہوگا: مُلا فقیر محمد
باجوڑ سے براہِ راست
حملہ ناقص انٹیلی جنس کا نتیجہ تھا: رحیم اللہ
ڈمہ ڈولہ کی آسیہ
’میری آنکھ میں چھرے لگے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد