’حملہ ایسے لگ رہا تھا جیسے زلزلہ ہو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پیر کی صبح دینی مدرسے پر ہونے والے حملے کے بارے میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طیاروں نے تین بار مدرسے کو نشانہ بنایا اور حملے کے وقت سارا علاقہ ایسا لرز رہا تھا جیسے پورے علاقے میں خوفناک قسم کا زلزلہ آیا ہو۔ حملے کے فوری بعد انعام خرو چنگئی پہنچنے والے مقامی صحافی ابراہیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بمباری کی آوازیں تو انہیں گھر میں ہی سنائی دیں جو مدرسے والے علاقے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ بمباری کا نشانہ بننے والے مقام پر پہنچے تو وہاں پر عجیب صورتحال تھی ہر طرف لاشیں پڑی تھیں اور مقامی لوگ انہیں اکٹھا کرنے میں مصروف تھے۔ ’ کئی لاشیں ایسی تھیں جن کے اعضاء الگ ہو گئے تھے اور وہ ٹکڑوں میں بکھری ہوئی تھیں جنہیں مقامی لوگ اکٹھا کر کے چارپائیوں پر رکھ رہے تھے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت مدرسے میں تراسی طلباء موجود تھے جن میں اسی ہلاک اور تین شدید زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں مدرسے کے مہتمم مولانا لیاقت اور تین اساتذہ بھی شامل ہیں۔ واقعے کے ایک دوسرے عینی شاہد عمران خان نے بتایا کہ انہوں نے دیکھا کہ جہازوں نے ہوا میں ایک سرخ دائرہ بنایا اور پھر ایک ساتھ بمباری کی۔ انہوں نے کہا کہ بمباری کے وقت سارا علاقہ لرز رہا تھا اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے علاقے میں خوفناک قسم کا زلزلہ آیا ہوا ہو۔
’میں نے دو درجن سے زائد ایسی لاشیں دیکھیں جن کے یا تو دھڑ نہیں تھے یا سر نہیں تھے اور اگر سر تھے تو ہاتھ اور پاؤں نہیں تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے ایک ہاتھ دیکھا جس کے ساتھ سر اور دھڑ نہیں تھا۔ زیادہ تر لاشیں ایسی تھیں جیسے کوئی چیز جل رہی ہو اور اس پر پانی ڈال دیا جائے‘۔ باجوڑ ایجنسی سے متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید جنہوں نے آج شام کو اس واقعے کے خلاف بطور احتجاج اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے، نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت طالب علموں کی تھی جن کی عمریں پندرہ سال سے کم تھی۔ ’میرا گھر مدرسے سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہاں کوئی غیر ملکی نہیں تھا بلکہ جو اس واقعے میں شہید ہوئے ہیں یہ سب علاقے کے مقامی غریب لوگ تھے۔ اب پندرہ سولہ سال کے طالب علم کیسے دہشت گرد ہوسکتے ہیں‘۔ |
اسی بارے میں ’مدرسے پر حملہ، درجنوں ہلاک‘ 30 October, 2006 | پاکستان باجوڑ ایجنسی: نو مشتبہ قبائلی رہا21 October, 2006 | پاکستان باجوڑ: سرکاری اہلکار پر بم حملہ28 September, 2006 | پاکستان باجوڑ، میرے گھر پر چھاپہ: ملافقیر12 July, 2006 | پاکستان باجوڑ دھماکے میں تین افراد زخمی19 September, 2006 | پاکستان پاکستان حکومت اور طالبان کا معاہدہ05 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||