پاکستان حکومت اور طالبان کا معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ منگل کے روز طے پانے والےمعاہدے کے تحت تمام غیرملکی شدت پسندوں کو علاقے سے نکلنا ہوگا جبکہ طالبان اور القاعدہ عناصر پر سرحد پار افغانستان جانے پر پابندی ہوگی۔ یہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ساتھ طے پانے والا پہلا معاہدہ ہے۔ اس سے قبل حکومت اس قسم کے امن معاہدے جنوبی وزیرستان میں بھی قبائلی جنگجوؤں کے ساتھ کر چکی ہے۔ اس تازہ معاہدے پر شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں گورنمنٹ ڈگری کالج کے فٹبال گراونڈ میں دستخط ہوئے۔ یہ معاہدہ پینتالیس رکنی گرینڈ جرگے کی دو ماہ سے زائد عرصے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس موقع پر حکومت، فوج اور مقامی طالبان کے نمائندے موجود تھے۔ فوج کی جانب سے جی او سی میجر جنرل اظہر علی شاہ، حکومت کی طرف سے پولیٹکل ایجنٹ شمالی وزیرستان ڈاکٹر فخر عالم عرفان اور مقامی طالبان کی نمائندگی محمد آزاد نامی ایک شخص اور طالبان شوری کے کئی اراکین نے کی۔ جرگے کے رکن اور جعمیت علماء اسلام کے مقامی رکن قومی اسمبلی مولانا نیک زمان نے ایک مختصر تقریر میں معاہدے کے اہم نکات کا اعلان کیا۔
جواب میں حکومت نے زمینی اور فضائی آپریشن بند کرنے، قبائلی کی مراعات بحال کرنے اور ان کا کارروائی کے دوران قبضے میں لیا ہوا سامان لوٹانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس معاہدے کی ایک اور اہم بات ’ٹارگٹ کلنگ’ پر پابندی ہے جس کا اس معاہدے میں خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ اب تک وزیرستان میں ڈیڑھ سو سے زائد قبائلی سردار اور صحافی اس طرح کی ہلاکتوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ معاہدے پر حکومت کی جانب سے پولیٹکل ایجنٹ ڈاکٹر فخر عالم عرفان جبکہ شدت پسندوں کی طرف سے محمد آزاد نے دستخط کیئے۔ تقریب کے اختتام سے قبل باجوڑ کے مولانا احمد نور نے دعا پڑھی جس کے بعد فریقین ایک دوسرے سے بغلگیر ہوئے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔ اس تقریب کے دوران فوٹوگرافی پر مکمل پابندی تھی۔ ادھر معاہدے پر دستخط سے قبل ہی حکومت نے اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانا شروع کر دیئے تھے۔ ان میں گرفتار قبائلیوں کی رہائی، قبائلی مراعات کی بحالی اور فوج کو شمالی وزیرستان کے اہم راستوں پر چوکیوں سے ہٹانا شامل ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام علاقے میں امن عامہ کی صورتحال میں بہتری آنے کے بعد اٹھائے جا رہے ہیں تاہم فوج کیمپس میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے تیار رہے گی۔ جن چوکیوں پر سے فوج ہٹائی گئی ہے ان میں میران شاہ بنوں شاہراہ پر ایشا، کھجوری اور بویا جبکہ دیگر علاقوں میں دوسالی، ابلانکی، کلنجر اور شل غالی شامل ہیں۔ تاہم ان چوکیوں پر نیم فوجی فرنٹیئر کور ملیشیا بدستور تعینات رہے گی۔ | اسی بارے میں وزیرستان: گرینڈ جرگے پر پابندی27 July, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: دو فوجی ہلاک27 July, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: مزید قیدی رہا 24 July, 2006 | پاکستان سات سکیورٹی اہلکار ہلاک26 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||