حکومت اور طالبان میں تین معاہدے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں گزشتہ چار سالوں کے دوران حکومت اور مقامی طالبان کے مابین اب تک تین امن معاہدے عمل میں آ چکے ہیں۔ پہلا امن معاہدہ اپریل دو ہزار چار میں اس وقت ہوا تھا جب جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے کمانڈر نیک محمد اور اس وقت کے کور کمانڈر پشاور لفٹیننٹ جنرل صفدر حسین نے شکئی کے مقام پر بغل گیر ہوکر ایک دوسرے کو ہار پہنائے۔ اس موقع پر دونوں جانب سے تحفوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس معاہدے کی رو سے شدت پسندوں نے علاقے میں موجود تمام غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ شکئی کے اس معاہدے کو ملکی اور بین الااقوامی ذرائع ابلاغ میں بڑی کوریج دی گئی۔ تاہم اس معاہدے پر چند ہفتے ہی عمل درآمد کیا جاسکا تھا اور یہ معاہدہ اس وقت ٹوٹا جب سترہ جون دو ہزار چار کو پاکستانی فوج نے مبینہ طور پر امریکی فوج کی مدد سے ایک میزائیل حملے میں نیک محمد کو نشانہ بناکر ہلاک کیا۔ جنوبی وزیرستان میں ہی حکومت اور مقامی جنگجوؤں کے مابین دوسرا معاہدہ سات فروری دوہزار پانچ کو عمل میں آیا۔ یہ امن معاہدہ محسود قبائل کے سربراہ بیت اللہ محسود اور مقامی انتظامیہ کے درمیان جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغا کے مقام پر ہوا تھا۔ اس چھ نکاتی معاہدے کے مطابق بیت اللہ محسود نے سکیورٹی فورسز اور حکومتی املاک پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی جبکہ اس کے بدلے حکومت نے علاقے میں بند تمام تجارتی مراکز کھولنے اور مقامی قبائل کی مراعات دوبارہ بحال کرنے کے وعدے کیئے تھے۔ سراروغا کے مقام پر ہونے والہ یہ معاہدہ تاحال قائم ہے اور اس پر دونوں جانب سے عمل درامد ہورہا ہے۔ منگل کو شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں طے پانے والا تیسرا امن معاہدہ 45 رکنی لوئے جرگہ کی دو مہینوں کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے۔ جبکہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ساتھ ہونے والہ حکومت کا یہ پہلہ معاہدہ ہے۔ اس تازہ معاہدے کے مطابق غیر ملکی شدت پسندوں کو علاقے سے نکلنا ہوگا جبکہ طالبان اور القاعدہ عناصر پر سرحد پار افغانستان جانے پر پابندی ہوگی جواب میں حکومت نے زمینی اور فضائی آپریشن بند کرنے، قبائل کی مراعات بحال کرنے اور اب تک کی کاروائی کے دوران قبضے میں لیا ہوا سامان لوٹانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس معاہدے کی ایک اہم بات ٹارگٹ کلنگ پر پابندی ہے جس کا اس معاہدے میں خصوصی طورپر ذکر کیا گیا ہے۔ اب تک وزیرستان میں ڈیڑھ سو سے زائد قبائلی سردار اور صحافی اس طرح کی ہلاکتوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستان: امریکی فوجی کارروائی17.06.2002 | صفحۂ اول شمالی وزیرستان: اسلحہ پر پابندی01.08.2003 | صفحۂ اول قبائلیوں اور طالبان کے رشتے07 October, 2003 | صفحۂ اول جنوبی وزیرستان کے قبائلی09 October, 2003 | صفحۂ اول وانا: حکومت کی ’ کامیابی‘ پر شبہات30 March, 2004 | صفحۂ اول وزیرستان: چیک پوسٹ پر حملہ03 June, 2004 | صفحۂ اول ’القاعدہ کے ٹھکانوں‘ پر بمباری21 August, 2004 | صفحۂ اول کوئی ہلاک نہیں ہوا:فوجی ترجمان23 May, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||