| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلیوں اور طالبان کے رشتے
افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے تقریبا دو سال بعد بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکہ مخالف اسلامی تحریک کی حمایت میں بظاہر کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے اندر طالبان کی کسی بھی کارروائی کے لئے انہیں علاقوں کی جانب انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لوگوں نے ہمیشہ قبضے کی کوشش کرنے والی طاقتوں کا مقابلہ کیا ہے۔ اگرچہ تکنیکی اعتبار سے امریکی افواج نے افغانستان میں مشرقی صوبے پکتیکا میں شکن کے علاقے میں اپنا اڈہ قائم کر رکھا ہے لیکن یہ بات سرحد پار پاکستان کے جنوبی وزیرستان کے لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ وہ اسے بھی علاقے پر قبضے کی کوئی کوشش قرار دیتے ہیں۔ ایک قبائلی محمد عمر کا کہنا تھا: ’قبائلیوں نے کبھی کسی غیر کو اپنے علاقے میں قبول نہیں کیا۔ یہ امریکی بھی انہی میں شامل ہیں۔‘ عمر کی نفرت کی انتہا یہ تھی کہ وہ کچھ عرصہ قبل ایمل کانسی کو امریکہ میں سزائے موت پر غصے میں بندوق لیکر امریکیوں کو مارنے نکلا لیکن اس کے ہاتھ کوئی نہیں آیا۔ ایمل نے سی آئی اے کے دو اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد وانا میں دو ماہ سے زائد عرصے تک روپوشی اختیار کی تھی۔ ’وہ ہمارا مہمان تھا۔‘ افغانستان کے ساتھ جنوبی وزیرستان کی تقریبا بہتر کلومیٹر طویل سرحد ملتی ہے جس کے دونوں جانب وزیر قبائل آباد ہیں۔ یہ قبائل اس تقسیم یعنی سرحد کی بندش کو ماننے کو بظاہر تیار نہیں۔ کئی ایک کے مکانات افغانستان میں جبکہ کاروبار پاکستان میں ہیں۔ ایک دلچسپ مثال پاکستانی سرحدی قصبے انگور اڈہ کی بڑی مسجد کے امام ہیں جن کا مکان تو افغانستان میں لیکن مسجد پاکستان میں ہے۔ اس طرح وہ دن میں پانچ مرتبہ سرحد پار کر کے نماز پڑھانے پاکستان آتے ہیں۔
اسی طرح کا حال اس علاقے میں آباد دیگر قبائلیوں کا ہے۔ ان میں ایک سید اللہ بھی ہیں۔ ان کا ایک گھر پکتیکا اور ایک انگور اڈے میں ہے۔ لیکن جب امریکی افغانستان آئے تو وہ یہاں آگئے۔ اس کا کہنا ہے کہ روزانہ آنے جانے والوں کو امریکیوں کے آنے اور سرحد پر سختی سے مشکلات کا سامنا ہے۔ ’لوگ کھانے پینے کا سامان لا یا لے جا نہیں سکتے۔‘ جنوبی وزیرستان کے عام لوگ اس حمایت کو نہیں چھپاتے۔ قانون کے طالب علم اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مقامی صدر علی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ حمایت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ’قبائلی لوگ نرم دل ہیں، جلد مولویوں کی بات میں آجاتے ہیں اس لئے وہ طالبان کو چاہتے ہیں۔‘ ایک ٹیکسی ڈرائیور وحید اللہ کا بھی ماننا تھا کہ چونکہ طالبان اسلام کے لئے لڑ رہے ہیں اس لئے لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں۔ اڈے کے ایک سابق مالک کے نام سے منسوب انگور اڈہ مغربی فلموں میں کاؤ بوائے علاقوں کی طرز کا کوئی علاقہ ہے۔ صدر مقام سے ساٹھ کلومیٹر مغرب میں واقع اس علاقے میں قلعہ نما مکانات دور دور آباد ہیں۔ کسی کا یہاں ایک طویل عرصے تک روپوش ہونا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔ اسے باقی علاقوں سے ملانے کے لئے اب امریکی امداد سے سڑک تعمیر ہو رہی ہے۔ جن مکانات پر چھاپہ پڑا تھا وہ اسی کچی سڑک کے قریب ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ ہفتے ہونے والی کارروائی القاعدہ کے خلاف دوسری بڑی کاروائی تھی۔ اس سے قبل گزشتہ برس اسی ایجنسی کے اعظم ورسک علاقے میں القاعدہ کے ارکان کو پکڑنے کی کوشش میں دس پاکستانی فوجی اور دو مشتبہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وزیرستان کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ کاروائی سے ایک مرتبہ پھر یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہاں طالبان اور القاعدہ موجود ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دو دہائیوں میں القاعدہ کے افراد نے بھی مقامی زبان اور چال ڈھال بھی سیکھ لی ہے جس سے ان کی نشاندہی بھی مشکل ہوگئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||