BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 June, 2006, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سات سکیورٹی اہلکار ہلاک

 پاک فوج
پاک فوج شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک خودکش حملے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

ایک حملہ آور بھی اس حملے میں مارا گیا ہے۔ تاہم فوجی ذرائع چھ افراد اور ایک حملہ آور کی ہلاکت کی تصدیق کر رہے ہیں۔

مقامی طالبان نے پہلے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا اور ان کےترجمان عبداللہ فرہاد نے الزام لگایا تھا کہ حکومت کے اندر چند عناصر ایسے ہیں جو وزیرستان میں امن نہیں چاہتے۔ تاہم اب طالبان کا کہنا ہے کہ ان کے ایک ساتھی نے یہ دھماکہ اپنے دفاع میں کیا۔ یاد رہے کہ یہ حملہ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کی جانب سے ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد ہوا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ حملہ میران شاہ سے تقریباً دس کلومیٹر مشرق میں ایشا چوکی کے مقام پر ہوا جہاں ایک نامعلوم شخص نے سفید رنگ کی گاڑی حفاظتی چوکی سے ٹکرا دی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں فوجی، نیم فوجی ملیشیا اور خاصہ دار فورس کے سات اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ پچیس سے زائد سیکورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیئے بنوں منتقل کیا گیا ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے چھ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ شمالی وزیرستان میں ایشا اور کھجوری وہ چند چوکیاں ہیں جن پر بھاری تعداد میں فوجی، نیم فوجی ملیشیا اور خاصہ دار تعینات ہیں۔

خودکش حملے کا یہ اپنی نوعیت کا شمالی وزیرستان میں تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل دتہ خیل اور بنوں کے قریب دو حملے تقریباً ایک ماہ کے دوران ہوئے ہیں۔

 ہماری اسلحے اور بارود سے بھری گاڑی کو چوکی پر روکا گیا اور سکیورٹی اہلکاروں نے اس میں سوار شخص کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس پر ہمارے ساتھی نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
عبداللہ فرہاد،ترجمان طابان

مقامی طالبان کے ترجمان عبداللہ فرہاد نے شام گئے ایک نئے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں ان ہی کے لوگ ملوث تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اسلحے اور بارود سے بھری گاڑی کو چوکی پر روکا گیا اور سکیورٹی اہلکاروں نے اس میں سوار شخص کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس پر ان کے ساتھی نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

ترجمان کا دعوی تھا کہ وہ احیتاطاً اکثر دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔ مقامی طالبان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ان کے ساتھی نے اپنے دفاع میں اٹھایا جس کا حق اسے حاصل تھا۔

مقامی عسکریت پسندوں کے ترجمان عبداللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کو اب بھی یقین دلاتے ہیں کہ وہ اپنی جنگ بندی کے فیصلے پر قائم ہیں۔ انہوں نے طالبان کے اندر کسی دھڑے بندی سے انکار کیا۔ ان کا موقف تھا کہ حکومت اب تک ان کے خیرسگالی کے جذبے کا کوئی واضح جواب نہیں دے سکی ہے۔ انہیں شکایت تھی کہ گورنر سرحد اور وزیر داخلہ کے بیانات میں بھی تضاد تھا۔

تاہم طالبان نے آج ایک نئے اعلان میں قبائلیوں پر حکومت سے رابطوں پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ عبداللہ کا کہنا تھا کہ قبائلی عمائدین اب کل میران شاہ میں نئے پولیٹکل ایجنٹ فخر عالم کے ساتھ جرگہ منعقد کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس جرگے سے مطالبہ کیا کہ وہ امن کے قیام کی کوشش کریں۔

جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد اس حملے نے صورتحال کافی پیچیدہ بنا دی ہے اور ابھی واضح نہیں ہو رہا کہ اس تازہ حملے کی وجہ مقامی شدت پسندوں کی اندرونی چپقلش ہے یا حکومت کے اندر کوئی اختلاف۔

اسی بارے میں
عارضی جنگ بندی کا اعلان
25 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد