سات سکیورٹی اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک خودکش حملے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ ایک حملہ آور بھی اس حملے میں مارا گیا ہے۔ تاہم فوجی ذرائع چھ افراد اور ایک حملہ آور کی ہلاکت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ مقامی طالبان نے پہلے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا اور ان کےترجمان عبداللہ فرہاد نے الزام لگایا تھا کہ حکومت کے اندر چند عناصر ایسے ہیں جو وزیرستان میں امن نہیں چاہتے۔ تاہم اب طالبان کا کہنا ہے کہ ان کے ایک ساتھی نے یہ دھماکہ اپنے دفاع میں کیا۔ یاد رہے کہ یہ حملہ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کی جانب سے ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد ہوا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ حملہ میران شاہ سے تقریباً دس کلومیٹر مشرق میں ایشا چوکی کے مقام پر ہوا جہاں ایک نامعلوم شخص نے سفید رنگ کی گاڑی حفاظتی چوکی سے ٹکرا دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں فوجی، نیم فوجی ملیشیا اور خاصہ دار فورس کے سات اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ پچیس سے زائد سیکورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیئے بنوں منتقل کیا گیا ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے چھ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ شمالی وزیرستان میں ایشا اور کھجوری وہ چند چوکیاں ہیں جن پر بھاری تعداد میں فوجی، نیم فوجی ملیشیا اور خاصہ دار تعینات ہیں۔ خودکش حملے کا یہ اپنی نوعیت کا شمالی وزیرستان میں تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل دتہ خیل اور بنوں کے قریب دو حملے تقریباً ایک ماہ کے دوران ہوئے ہیں۔ مقامی طالبان کے ترجمان عبداللہ فرہاد نے شام گئے ایک نئے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں ان ہی کے لوگ ملوث تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اسلحے اور بارود سے بھری گاڑی کو چوکی پر روکا گیا اور سکیورٹی اہلکاروں نے اس میں سوار شخص کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس پر ان کے ساتھی نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ ترجمان کا دعوی تھا کہ وہ احیتاطاً اکثر دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔ مقامی طالبان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ان کے ساتھی نے اپنے دفاع میں اٹھایا جس کا حق اسے حاصل تھا۔ مقامی عسکریت پسندوں کے ترجمان عبداللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کو اب بھی یقین دلاتے ہیں کہ وہ اپنی جنگ بندی کے فیصلے پر قائم ہیں۔ انہوں نے طالبان کے اندر کسی دھڑے بندی سے انکار کیا۔ ان کا موقف تھا کہ حکومت اب تک ان کے خیرسگالی کے جذبے کا کوئی واضح جواب نہیں دے سکی ہے۔ انہیں شکایت تھی کہ گورنر سرحد اور وزیر داخلہ کے بیانات میں بھی تضاد تھا۔ تاہم طالبان نے آج ایک نئے اعلان میں قبائلیوں پر حکومت سے رابطوں پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ عبداللہ کا کہنا تھا کہ قبائلی عمائدین اب کل میران شاہ میں نئے پولیٹکل ایجنٹ فخر عالم کے ساتھ جرگہ منعقد کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس جرگے سے مطالبہ کیا کہ وہ امن کے قیام کی کوشش کریں۔ جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد اس حملے نے صورتحال کافی پیچیدہ بنا دی ہے اور ابھی واضح نہیں ہو رہا کہ اس تازہ حملے کی وجہ مقامی شدت پسندوں کی اندرونی چپقلش ہے یا حکومت کے اندر کوئی اختلاف۔ | اسی بارے میں پانچ فوجیوں سمیت سات ہلاک02 June, 2006 | پاکستان ’طالبان اب ایک بڑا خطرہ نہیں‘04 June, 2006 | پاکستان وزیرستان: فوجی حملےمیں18 ہلاک10 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کا قتل‘ طالبان کا انکار20 June, 2006 | پاکستان فوجی ہیلی کاپٹر ہم نےگرایا: طالبان22 June, 2006 | پاکستان عارضی جنگ بندی کا اعلان25 June, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان سے اچھی خبر26 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||