حیات اللہ کا قتل‘ طالبان کا انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سرگرم مقامی طالبان نے صحافی حیات اللہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ یہ وضاحتی بیان کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر اپنے آپ کو شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان کا ترجمان ظاہر کرتے ہوئے ایک شخص نے کی۔ لیکن اس ترجمان نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے امیر نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ ترجمان نے اس قتل پر صحافی کے اہل خانہ کو ’شہادت‘ کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا وہ اس معاملے سے لاتعلقی کا پہلے بھی اظہار کر چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس بہیمانہ قتل میں مقامی شدت پسند ملوث ہیں جوکہ بقول ان کے درست نہیں۔ مقامی طالبان نے بھی اس قتل کا الزام پاکستانی خفیہ ایجنسیوں پر ڈالا۔ ’اس میں ایجنسیوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔’ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حیات اللہ کے قتل کی وجہ اس کی یہ کوشش ہوسکتی ہے جس میں اس نے القاعدہ کے خلاف ایک حملے میں امریکیوں کے ملوث ہونے کی بات کی تھی۔ ترجمان کے بقول حیات اللہ کی طرف سے حکومتی موقف کے برعکس بات کر رہے تھے۔ مقامی طالبان نے واضح کیا کہ ان کی جانب سے صحافیوں کے وزیرستان میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں۔ ’وہ اگر حق کی بات کرنا چاہتے ہیں تو ان کے آنے پر کوئی بندش نہیں۔’ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کی ترجمانی اکثر عبداللہ فرہاد کیا کرتے ہیں۔ تاہم یہ واضع نہیں کہ کسی اور کی جانب سے یہ مذمتی بیان دینے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ مبصرین کے خیال میں اس کی ایک وجہ مقامی طالبان کا ابھی بھی مختلف چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہونا ہوسکتی ہے۔ | اسی بارے میں صحافی کا قتل، ’عدالتی‘ تحقیقات18 June, 2006 | پاکستان ’حکومت پرائم اکیوزڈ ہے‘ گورنر19 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے قتل پر ملک گیر یومِ سیاہ19 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے قتل پر احتجاج17 June, 2006 | پاکستان کراچی میں صحافیوں کا احتجاج19 June, 2006 | پاکستان کرم ایجنسی، پانی پر تنازع19 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||