BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 June, 2006, 16:41 GMT 21:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں صحافیوں کا احتجاج

یہ احتجاجی جلوس کراچی پریس کلب سے نکالا گیا
جلوس گورنر ہاؤس پہنچا جہاں دھرنا دیا گیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی
صحافی حیات اللہ اور منیر سانگی کے قتل اور صحافی سرمد کنرانی کو دھمکیوں کے خلاف کراچی میں صحافیوں نے احتجاجی جلوس نکالا اور امریکی سفارتخانے اور گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے دیئے۔

کراچی پریس کلب سے یہ احتجاجی جلوس پاکستان فیڈرل یونین آف جنرلسٹس کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس، پریس کلب کے سیکریٹری جنرل نجیب احمد ایوب جان سرھندی اور عبدالحمید چھاپرا کی رہنمائی میں نکالا گیا ۔

جلوس عبداللہ ہارون روڈ اور زیب النساء سٹریٹ سے ہوتا ہوا امریکی سفارتخانے کی طرف روانا ہوا۔

سفارتخانے کے داخلی سڑک پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے صحافیوں کو آگے بڑھنے سے روکا مگر صحافی ان کو دھکیل کر آگے بڑھنے میں کامیاب ہوگئے،اس دوران صحافیوں اور پولیس اہلکاروں میں ہاتھاپائی بھی ہوئی۔

امریکی سفارتخانے کے سامنے موجود رینجرز کے اہلکار آگے بڑھ آئے اور صحافی سفارتخانے کے چند قدم کے مفاصلے پر سٹیٹ گیسٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیکر بیٹھےگئے۔

صاحفی ’شھید تیرے خون سے انقلاب آئے گا‘ ’قاتل قاتل امریکہ قاتل‘ ’انصاف کرو ورنہ کرسی چھوڑ دو‘ ’جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے جو مشرف کا یار ہے غدار ہے‘ کہ نعرے لگا رہے تھے۔

 ’حیات اللہ کے قتل میں بش اور مش دونوں شامل ہیں کیونکہ اس کا تعلق پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیز سے ہے جو دونوں ساتھ ہیں‘
مظہر عباس، پی ایف یو جے

اس موقع پر پاکستان فیڈرل یونین آف جنرلسٹس کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’حیات اللہ کے قتل میں بش اور مش دونوں شامل ہیں کیونکہ اس کا تعلق پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیز سے ہے جو دونوں ساتھ ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہم امریکی سفارتخانے کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے آئے ہیں کہ ہم ان کے اس عمل کی پر احتجاج اور مذمت کرتے ہیں۔ بعد میں جلوس گورنر ہاؤس پہنچا جہاں دھرنا دیا گیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

اس سےقبل پریس کلب میں احتجاجی جلسہ ہوا جس سے عبدالحمید چھاپرا مظہر عباس، نجیب احمد، ایوب جان سرھندی، عامر احمد خان اور دیگر نے خطاب کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پریس پر سینسر شپ پہلے بھی تھی مگر اس کے قوانین موجود تھے مگر آج حکومت بغیر کسی قانون کے صحافیوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت وزیرستان سے صحافت ختم کرنا چاہتی ہے اس لیئے وہاں صحافیوں کو کام کرنے سے روکا جارہا ہے۔

اس سے قبل کراچی کے صحافیوں نے یوم سیاہ منایا اور بازوں پر کالی پٹیاں باندھیں، پیر کے روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس کا بھی بائیکاٹ کیا گیا۔

صحافی حیات اللہصحافی کی موت
گورنر کی صحافییوں کے وفد سے ملاقات
اسی بارے میں
صحافی حیات اللہ کا قتل
16 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد