BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 June, 2006, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافی حیات اللہ کا قتل

حیات اللہ
حیات اللہ کی بازیابی کے لیئے صحافتی تنظیموں نے مظاہرے بھی کیئے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں چھ ماہ قبل اغوا کیئے گئے ایک صحافی حیات اللہ کو نامعلوم افراد نے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس کی گولیوں سے چھلنی لاش آج میر علی کے قریب ملی ہے۔

صحافی کے بھائی احسان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ حیات اللہ کی لاش میر علی کے قریب خیسورہ کے علاقے میں ملی۔ انہیں پیچھے سے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ان کے ہاتھ بھی ہتھکڑیوں سے بندہے ہوئے تھے۔


احسان اللہ نے کہا کہ ان کا بھائی کافی کمزور بھی ہوچکا تھا اور اس کے بال اور داڑھی بھی بڑھی ہوئی تھی۔

تیس سالہ حیات اللہ کی گمشدگی گزشتہ چھ ماہ سے ایک معمہ بنی ہوئی تھی۔ حکومت اور علاقے میں سرگرم عسکریت پسندوں نے جنہیں مقامی لوگ طالبان بھی کہتے ہیں اس اغوا سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

نوجوان صحافی حیات اللہ کو گزشتہ دسمبر کے اوائل میں پانچ نامعلوم افراد نے اسلحے کی نوک پر میر علی بازار سے اغواء کیا تھا۔ تاہم یہ لوگ کون تھے یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق اغواء کار طالبان کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اس کے پیچھے مقامی طالبان کا ہاتھ ہے۔ تاہم بعد میں صحافی کے خاندان کو ایک مقامی عسکریت پسند کمانڈر کی جانب سے بھیجے گئے ایک خط میں اس اغواء سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا تھا۔

خط کی تفصیل بتاتے ہوئے صحافی کے بھائی احسان اللہ نے بتایا کہ خط میں حیات اللہ کو ایک متوازن رائے رکھنے والا شخص قرار دیا۔ علاقے کی انتظامیہ نے بھی اس اغواء کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے جس سے صورتحال مزید گھمبیر اور اہل خانہ کے لیئے تشویشناک بنی ہوئی تھی۔

حیات اللہ میر علی میں ایک مکان پر حکومت کی جانب سے القاعدہ کے خلاف کارروائی کی کوریج کے بعد سے لاپتہ ہوئے گئے تھے۔

حکومت کا بعد میں کہنا تھا کہ مرنے والوں میں القاعدہ کا ایک کمانڈر ابو حمزہ بھی شامل تھا۔ ان ہلاکتوں کی وجوہات اب تک غیرواضح ہیں۔ جس مکان میں یہ ہلاکتیں ہوئیں وہ حیات اللہ کے ماموں کا گھر بتایا جاتا ہے۔

اس واقعے کے بعد حیات اللہ نے اپنی رپورٹوں میں شواہد کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ ہلاکتیں کسی طیارے سے داغے گئے میزائلوں سے ہوئی تھی۔ یہ مؤقف سرکاری بیان کی نفی کرتا ہے جس میں یہ ہلاکتیں مکان میں دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے قرار دی گئی تھیں۔

صحافی کے اہل خانہ نے حال ہی میں صدر جنرل پرویز مشرف اور نئے گورنر سرحد علی جان اورکزئی سے اس مسئلہ پر بات چیت کے لیئے خطوط بھی لکھے تھے۔

تاہم آج صبح بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احسان اللہ نے بتایا کہ انہیں ملاقات کا وقت بھی نہیں دیا گیا ہے۔

اس گمشدگی پر قومی اور بین الاقوامی تنظیمیں حکومت کے خلاف کئی مرتبہ احتجاج بھی کر چکتی ہیں جس میں حیات اللہ کے بچوں نے بھی شرکت کی تاہم ان کا بظاہر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ صحافتی تنظیمیں اسے حکومت کی کمزوری قرار دے رہی ہیں۔

حیات اللہ کے سوگوران میں ایک بیوہ کے علاوہ تین بچے بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد