کیمرامین کی ہلاکت پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے مخلتف شہروں میں ایک ٹی وی چینل کے کیمرا مین کے قتل کے خلاف صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے کیئے ہیں۔ جبکہ لاڑکانہ اور قمبر میں شہریوں نے رضاکارانہ طور پر اپنا کاروبار بند رکھا۔ سندھی اخبار روزنامہ کاوش اور نجی ٹی وی چینل کے ٹی این کا کیمرا مین منیر سانگی پیر کے روز پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران فائرنگ میں ہلاک ہوگئے تھے۔ منیر سانگی لاڑکانہ کے قریب بقاپور میں انڑ اور ابڑو قبیلے میں تصادم کی کوریج کے لیئےگئے تھے جہاں فائرنگ کے تبادلے میں گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔
کراچی میں پریس کلب میں احتجاجی جلسہ ہوا بعد میں صحافیوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کیا اور دہرنا دیا۔ وہ ملزمان کی گرفتاری اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرو کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقعے پر سرکاری استقبالیہ اور عشائوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھی صحافیوں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں کیونکہ ان میں اکثریت سیاسی طور پر زیادہ باشعور ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ پولیس اور انتظامیہ پر صحافیوں کو کوئی اعتماد نہیں ہے اس کی غیر جانبدرانہ تحقیقات کرائی جائے۔ دوسری جانب حیدرآباد، دادو خیرپور سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی اور تعزیتی جلسے منعقد کئے گئے جس میں ملزمان کی گرفتاری اور معاوضے کا مطالبات کیئے گئے۔ | اسی بارے میں ’مخالف اشتہار بھی شائع کیے جائیں‘ 28 December, 2005 | پاکستان مغوی صحافی کی بازیابی کے لیےمظاہرہ23 December, 2005 | پاکستان پاکستان کا ریکارڈ 149 ملکوں سے برا15 November, 2005 | پاکستان ’ذمہ دار وزارت اطلاعات ہے‘24 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||