مغوی صحافی کی بازیابی کے لیےمظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے اغواء ہونے والے صحافی حیات اللہ کی بازیابی کے لیے جمعہ کوصحافیوں نے اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور جلوس نکالا۔ جلوس اور مظاہرے میں قبائلی علاقہ جات کےصحافیوں کے علاوہ مقامی صحافی بھی شریک تھے۔ قبائلی علاقہ جات کے صحافیوں کی تنظیم کے سربراہ سیلاب خان محسود نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت، قبائلی سردار اور مولویوں نے صحافت کو قید کردیا ہے اور قبائلی علاقوں میں صحافت مفلوج ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ حیات اللہ کو کسی حکومتی ادارے نے اغواء نہیں کیا لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ حیات اللہ ’سرکاری مہمان‘ ہے۔ اس موقع پر فوزیہ شاہد، کمال اظفر اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور بتایا کہ گزشتہ ایک برس کے اندر قبائلی علاقہ جات میں تین صحافیوں اللہ نور، میر نواب اور نصیر احمد آفریدی کو قتل کیا گیا ہے جبکہ ان کے مطابق مختلف مواقع پر ہونے والے حملوں میں مجیب الرحمان اور محمد انور شاکر زخمی ہوئے اور دلاور خان وزیر بم دھماکے میں بال بال بچ گئے۔ سیلاب خان اور دیگر مقررین نے کہا کہ حکومتی ادارے، قبائلی سردار اور طالبان کے حامی مسلسل صحافیوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق دھمکیوں کے باعث چار صحافی وزیرستان سے نقل مکانی کرگئے ہیں۔ صحافیوں کے آٹھ رکنی وفد نے بعد میں اقوام متحدہ کے دفتر میں ایک یادداشت نامہ بھی پیش کیا جس میں قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والی | اسی بارے میں فاٹا میں صحافی کا اغواء05 December, 2005 | پاکستان صحافی کا اغوا، پریس کا احتجاج06 December, 2005 | پاکستان فاٹا کے صحافی برآمد نہ ہوسکے06 December, 2005 | پاکستان صحافی کی گمشدگی کامعمہ11 December, 2005 | پاکستان صحافیوں پر فوج کی نئی پابندی12 December, 2005 | پاکستان بی بی سی صحافی کےگھرکےباہردھماکہ 16 December, 2005 | پاکستان پشاور:صحافی کی بازیابی کیلیےمظاہرہ17 December, 2005 | پاکستان پشاور: ’صحافیوں کوتحفظ دیں‘20 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||