پشاور: ’صحافیوں کوتحفظ دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں کے صحافیوں کی تنظیم نے منگل کو پشاور میں ایک صحافی کی بازیابی اور قبائلی علاقوں میں صحافیوں کو تحفظ دینے کے مطالبات کے حق میں مظاہرہ منعقد کیا۔ ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام یہ مظاہرہ پشاور پریس کلب سے شروع ہوا اور اس میں شریک مظاہرین نے گورنر ہاوس تک پرامن احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرے میں شریک صحافیوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر قبائلی علاقوں میں صحافتی برادری کے لیے حالات بہتر کرنے کے مطالبات درج تھے۔ شرکاء نے نعرہ بازی بھی کی۔ یونین کے صدر سیلاب محسود نے گزشتہ دس ماہ میں قبائلی علاقوں میں تین صحافیوں کے قتل اور کئی پر حملوں اور اغوا کے واقعات کی مذمت کی۔ انہوں نے حکومت سے قبائلی علاقوں میں حالات بہتر کرنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔ مظاہرے میں میر علی سے دو ہفتے قبل لاپتہ ہونے والے صحافی حیات اللہ کے بچوں نے بھی شرکت کی۔ صحافیوں نے حیات اللہ کی بازیابی کے لیے بھی حکومت سے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایک انگریزی اخبار ’دی نیشن’ اور بین القوامی خبر رساں ادارے کے لیے کام کرنے والی شمالی وزیرستان کے صحافی حیات اللہ خان کو پانچ دسمبر کو میر علی بازار سے نامعلوم نقاب پوش افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ تاہم یہ کون لوگ تھے تقریبا دو ہفتے گزر جانے کے باوجود معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ بعد میں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ | اسی بارے میں صحافی کا اغوا، پریس کا احتجاج06 December, 2005 | پاکستان فاٹا کے صحافی برآمد نہ ہوسکے06 December, 2005 | پاکستان صحافی کی گمشدگی کامعمہ11 December, 2005 | پاکستان صحافیوں پر فوج کی نئی پابندی12 December, 2005 | پاکستان پشاور میں تاجروں کا احتجاج30 December, 2004 | پاکستان پشاور میں احتجاجی مظاہرہ12 May, 2005 | پاکستان سرحد، پولنگ میں ملا جلا ردعمل18 August, 2005 | پاکستان پشاور:صحافی کی بازیابی کیلیےمظاہرہ17 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||