BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 December, 2005, 04:35 GMT 09:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں پر فوج کی نئی پابندی

پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا میں کچھ ایسی رپورٹیں آتی رہی ہیں جنہیں فوج کے سینئر حلقوں میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ہے

‏زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جانے والے صحافیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سفر اور منزل کے کوائف فوجی حکام کو بتانے کے پابند ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں فوجی تعلقات عامہ کے اہلکار میجر فاروق کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کے لیے تو یہ پابندی پہلے ہی سے عائد تھی جسے زلزلے کی وجہ سے اب تک نظر انداز کیا جا رہا تھا لیکن اب ان کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہریت رکھنے والے صحافیوں کو بھی متاثرہ علاقوں میں جانے کے لیے آئی ایس پی آر سے اجازت لینا ہو گی۔

میجر فاروق نے کہا کہ غیر ملکیوں پر اس ضابطے کی پابندی لازمی ہے جبکہ پاکستانی شہریت رکھنے والوں کے لیے بھی ’بہتر ہے کہ وہ آئی ایس پی آر کو اپنے سفر کی تفصیل سے آگاہ رکھیں‘۔

شاید سب کچھ بتانا دکھانا نا مناسب محسوس کیا جاتا ہے

سنیچر کو بی بی سی کی رپورٹنگ ٹیم کو، جو پاکستانی شہریت رکھنے والے صحافیوں پر مشتمل تھی، نوسہری سے آگے جانے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ مظفر آباد واپس جا کر آئی ایس پی آر کے حکام سے اجازت نامہ حاصل کریں۔

اس اقدام کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ کچھ افراد خود کو صحافی ظاہر کر کے متاثرہ علاقوں میں آئے لیکن بعد میں ان کی شناخت غلط ثابت ہوئی۔ میجر فاروق نے کہا کہ ایسے لوگ سکیورٹی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو اپنی نقل و حرکت سے آگاہ رکھنا خود صحافیوں کے لیے بھی مفید ہے کیونکہ اگر وہ کسی مشکل میں ہوں تو ان کی فوری مدد کی جا سکے۔

آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد سے دنیا بھر سے صحافی اور امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں آ جا رہے ہیں۔ پاکستانی صحافی اور رضاکار بھی بڑی تعداد میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے رہتے ہیں، اور اس سے پہلے ان میں سے کسی کی آمد و رفت پر پابندی نہیں تھی۔

امدادی کارروائیوں کے حوالے سے پچھلے دنوں پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا میں کچھ ایسی رپورٹیں آتی رہی ہیں جنہیں فوج کے سینئر حلقوں میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ صحافیوں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنے کی ضرورت کو اسی صورتحال سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

66زیادتی کیس کا نیا رخ
ورثا کا کہنا ہے کہ زیادتی نہیں ہوئی: پولیس
66زلزلہ:خواتین کا المیہ
خواتین سے زیادتی کے کئی واقعات کو دبا دیا
66زلزلہ اور معاشرہ
زلزلہ کی نسلی اور طبقاتی دراڑیں
66زلزلہ اور بچے
بچوں کی ذہنیت پر زلزلے کا اثر
66ظفر کا مظفرآباد سفر
پہلے صدر مشرف کو مکمل تباہی کا علم نہ تھا
اسی بارے میں
زلزلہ: دو ماہ بعد بھی وہی حال
08 December, 2005 | پاکستان
آڈیو، ویڈیو زلزلہ
08 December, 2005 | پاکستان
ریپ کیس، ملزم ڈاکٹر گرفتار
07 December, 2005 | پاکستان
زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش
07 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد