BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 December, 2005, 23:55 GMT 04:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ زدگان وارڈ میں لڑکی کا ریپ

حالیہ برسوں میں پاکستانی خواتین ریپ اور ایسے دیگر مسائل کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں
لاہور کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال ’میو‘میں قائم زلزلہ زدگان وارڈ میں داخل ایک کشمیری لڑکی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سنگین جرم کا الزام اسی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر پر عائد کیا گیا ہے۔

لاہور کی سٹی ڈویژن کے سپرنٹنٹڈنٹ پولیس عمر فاروق بھٹی نے بتایا کہ پولیس نے اس بارے میں مقدمہ درج کر لیا اور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

سپرنٹنٹڈنٹ پولیس عمر فاروق بھٹی نے بتایا کہ انہوں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب میو ہسپتال میں جاکر لڑکی کا بیان قلمبند کیا۔

مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی بیس سالہ لڑکی مظفرآباد کی رہائشی تھی اور زلزلے میں زخمی ہونے کے بعد لاہور کے میو ہسپتال منتقل کر دی گئی تھی جہاں زلزلہ متاثرین کے لیے ایک الگ وارڈ قائم کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق دو روز پہلے ہڈی وارڈ کے ڈاکٹر مقصود حسین ایکسرے کے بہانے لڑکی کو اپنی وارڈ کے ایک کمرے میں لے گیا اور مبینہ طور پر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

سپرنٹنٹڈنٹ پولیس عمر فاروق بھٹی نے بتایا کہ میو ہسپتال کی انتظامیہ نے پہلے اپنے طور پر انکوائری کی اور دو روز بعد پولیس کو اطلاع کی۔

ہسپتال کے ڈیوٹی ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عباس علی چودھری نے بتایا کہ میو ہپستال کے زلزلہ زدگان وارڈ میں مجموعی طور پر تین سو اکیس مریضوں کو داخل کیا گیا تھا جن میں سے اب صرف پچاس رہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اس ایک واقعہ نے ہماری اس نیک نامی کو متاثر کیا ہے جو ہم نے زلزلہ زدگان کی دن رات خدمت کرکے کمائی تھی۔‘ ڈاکٹر عباس نے کہا کہ ہپستال کی انتظامیہ کو ملزم سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ خود کو پولیس کے حوالے کر دیں۔

ہسپتال کی انتظامیہ نے تاحال لڑکی اور اس کے خاندان کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملنے نہیں دیا ہے تاہم ہسپتال کی انتظامیہ نے یہ ضرور بتایا ہے کہ یہ لڑکی اکیلی نہیں ہے اور اس کے اہل خانہ بھی اس کی دیکھ بھال کے لیے لاہور میں موجود ہیں۔

66زلزلہ زدگان کاامتحان
زلزلے کے بعد اب سردی کی بیماریوں کا حملہ
66 کاروبار ٹھپ ہیں
سنار کہتے ہیں کہ زلزلے کے بعد سونا لوٹ لیا گیا
66’سردی بہت ہے‘
خیمے بستوں کے مکین شدید سردی سے پریشان
اسی بارے میں
کیمپوں میں خسرہ پھیل گیا
04 December, 2005 | پاکستان
’ہم خود کو زندہ جلا لیں گے‘
05 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد