’سردی بہت ہے اور کیا بتائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سردی بہت ہے اور کیا بتائیں۔ اگر ایک ہی جملے میں پاکستان کے زلزلے سے متاثرہ افراد کی حالت بیان کی جائے تو مظفرآباد کے نزدیک قائم ایک بڑی خیمہ بستی میں سکینہ بی بی نے پوری صورتحال کو ایک جملے میں سمو دیا ہے۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کو اب تقریباً دو ماہ ہورہے ہیں اور زیادہ تر متاثرہ علاقوں میں یا تو موسم سرما کے سخت ترین دنوں کا آغاز ہو چکا ہے یا پھر ہوا ہی چاہتا ہے۔ ایسے میں ان علاقوں کے ہر مکین کی سب سے بڑی خواہش یہی دکھائی دیتی ہے کہ اس کے سر پر اپنی چھت ہو، ایسی چھت جو یخ بستہ راتوں میں کہرے اور برف سے بھی بچائے اور اس کے بیوی بچوں، خود اسے اور اس کے مختصر مال و متاع کو بھی بارش اور موسم کی سختیوں سے محفوظ رکھے۔ مگر زلزلے کے بعد اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ زلزلے کے متاثرین سے جس جگہ بھی بات کی جائے ، ان کا سب سے پہلے شکوہ یہی ہوتا ہے کہ سر چھپانے کو جو خیمے ملے ہیں ان سے شدید سردی کے دن تو کیا، جاڑے کا آغاز بھی گزارنا مشکل ہو رہا ہے۔ مظفرآباد کے نزدیک دریائےنیلم کے کنارے واقع تھوری کیمپ کی خیمہ بستی میں مقیم چودھری علی محمد شہر کے نزدیک ایک مہاجر کیمپ میں رہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ زلزلے کے بعد اسلام آباد چلے گئےتھے جہاں سے انہیں تمام سہولیات مہیا کرنے کے وعدے پر مظفرآباد میں دریائے نیلم کے کنارے اس خیمہ بستی میں منتقل کردیا گیا۔ چودھری علی محمد کو سب سے زیادہ فکر یہ ہے کہ ان کا خیمہ کپڑے کا ہے، سردی اور بارش کے خلاف موثر نہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بچے بیمار پڑ جائیں۔
ایک اور خیمہ بستی میں مشتاق احمد کا بھی مسئلہ یہی ہے لیکن کم از کم بارش کا حل انہوں نے یہ نکالا ہے کہ زلزلے سے تباہ شدہ ایک بڑی موبائل فون کمپنی کے ہورڈنگ سے واٹر پروف پلاسٹک کی لائننگ والا سکرین پرنٹڈ اشتہاری کپڑا اپنے اور زلزلے میں بیوہ ہوجانے والی اپنی بہن کے خیموں پر ڈال دیا ہے لیکن پھر بھی دونوں کو فکر سردی میں زمین سے لگنے والی زبردست ٹھنڈک اور شدید موسم کی ہے کہ کہیں یہ ان کے بچوں کو نمونیے کا شکار نہ کر دے۔ مظفرآباد کی ہی ایک اور خیمہ بستی میں چھٹی جماعت کی طالبہ عشرت نے مجھے بتایا کہ خیمے تو سردی سے کیا بچائیں گے، جو رضائیاں ان لوگوں کو ملی ہیں وہ بھی پتلی پتلی ہیں اور تین تین رضائیوں میں گھس کر بھی سردی سے نجات نہیں ملتی۔ ایک اور خاتون ریشماں کا کہنا تھا خیمے تو سردی کیا روکیں گے لیکن پھر بھی اگر خیموں کے اندر رہتے ہوئے سردیوں کے مناسب کپڑے ہی مل جاتے تو بھی کچھ گزارہ ہوسکتا تھا لیکن امدادی اداروں کے ذریعے ملنے والے زیادہ تر کپڑے کشمیر کی سردی کے لیے بالکل بیکار ہیں۔ رحمت بی بی نام کی ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ خیموں کے اندر غروب آفتاب کے بعد سے ہی اتنی ٹھنڈک ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے دونوں چھوٹے بچوں کو خود سے لپٹا کر بیٹھ جاتی ہیں کہ جسم کی گرمی کے ذریعے ہی بچوں کو نمونیے وغیرہ سے محفوظ رکھا جاسکے۔ بارش اور سردی سے بچاؤ کے قابل خیموں کی کمیابی کے لیے فوج کی طرف سے مظفرآباد ریجن اور وادی نیلم اور جہلم کے علاقوں میں امدادی کاروائیوں کے انچارج بریگیڈئیر سلیم محمود کا کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں منفی دس درجے سینٹی گریڈ تک کی سردی، بارش اور برفباری سے تحفظ دینے والے ہزاروں خیمے چین اور اٹلی سے موصول ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ گنجائش کے ان خیموں کی فراہمی پہلے پانچ ہزار فٹ سے بلند علاقوں میں یقینی بنائی جارہی ہے جبکہ فوجی انجینئیرز اقوام متحدہ کے ماہرین کے ساتھ ملکر بلند علاقوں میں پناہ گاہیں بھی تعمیر کررہے ہیں اور انہیں اعتماد ہے کہ کشمیر میں متاثرہ لوگوں کو بروقت سردی سے تحفظ فراہم کیا جاسکے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کم بلند علاقوں میں بھی اب ترجیح واٹر پروف اور نسبتاً موٹے خیموں اور ہیٹروں کی فراہمی کو دی جارہی ہے اور کشمیر کے مختلف حصوں میں ہنگامی ضرورت کے لیے علیحدہ سے نہ صرف خیموں بلکہ ایندھن، خوراک اور دوسری ضروری اشیاء کا ذخیرہ کیا جارہا ہے۔ اعلیٰ امدادی اہلکاروں کے ایسے پراعتماد بیانات اپنی جگہ، لیکن اگر زلزلہ زدگان کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شدید سردیوں میں انہیں گرمائش ایسے بیانات سے نہیں ملنے والی۔ | اسی بارے میں ’نوّے فیصد خیمے غیر موزوں‘02 December, 2005 | پاکستان ورثاء کیلیے خیمہ، نومولود کو کھلونے02 December, 2005 | پاکستان ’ڈیڑھ لاکھ افراد کو رہائش میسر‘02 December, 2005 | پاکستان جستی چادریں اور کوئٹہ کی انگیٹھی02 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||