’نوّے فیصد خیمے غیر موزوں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فراہم کیے گئے نوّے فیصد خیمے شدید سرد موسم اور برفباری کو برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اسلام آباد میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی ایجنسیوں کے عہدیداران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں برفباری کے بعد لوگوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے ترجمان ڈیرن براؤزیورٹ کا کہنا ہے کہ اس سے قبل خیال تھا کہ پچھتر فیصد خیمے سردی اور برفباری کی شدت برداشت نہیں کر پائیں گے مگر تازہ ترین سروے کے مطابق یہ اوسط نوّے فی صد ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی او ایم ان علاقوں میں بارہ دسمبر تک پانچ ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر رہنے والے افراد کو دس ہزار عارضی پناہ گاہیں اور تعمیری کٹس فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ شدید سردی سے بچاؤ کے خیمے پوری دنیا میں بہت کم دستیاب ہوتے ہیں اور اقوام متحدہ نے وہ تمام خیمے حاصل کر لیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں آپریشن کے انچارج جان وینڈا موٹیل نے اس موقع پر کہا کہ زلزلے کو آٹھ ہفتے گزر جانے کے بعد بھی متاثرہ علاقوں میں صورتحال بدستور سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ تمام متاثرہ علاقوں میں خیمے پہنچا دیے گیے ہیں مگر اس کے ساتھ بری خبر یہ ہے کہ وہ موسم کی شدت کو برداشت کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سب سے زیادہ ضرورت ٹین کی چھتوں کی ہے تاکہ لوگوں کو سردی سے بچانے کے لیے عارضی گھر بنا کر کے دیے جا سکیں۔ اقوام متحدہ کے عہدیدار کے مطابق ان علاقوں میں خوراک پہنچائی جا چکی ہے اور تعلیمی سرگرمیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی امیونائزیشن بھی کر دی گئی ہے مگر سردی سے ہونے والی سانس کی بیماریاں اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باوجود کسی کو بھی اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ صورتحال ٹھیک ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کو اب تک عالمی برادری سے کی گئی اپیل کے تحت ایک سو ساٹھ ملین ڈالر مل چکے ہیں اور پینسٹھ ملین ڈالر مزید دینے کے وعدے کیے گئے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ سرحد میں زلزلے کی سرگرمیوں کی نگران اقوام متحدہ کی عہدیدار کرسٹین ذات نے بتایا کہ ان علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے بجائے اب خچروں پر انحصار کیا جا رہا ہے کیونکہ نہ تو پاکستانی فوج اور نہ ہی اقوام متحدہ کے پاس ایسی سہولیات موجود ہیں کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے امداد برفباری کے باوجود ان علاقوں میں پہنچائی جا سکے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لوگ سردی کے عادی ہیں اور انہوں نے خود امدادی ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ اس سردی کو برداشت کر سکتے ہیں اور وہ اس وقت تک نیچے کے علاقوں میں نہیں آئیں گے جب تک صورتحال انتہائی سنگین نہیں ہو جاتی۔ |
اسی بارے میں خیموں میں سردی کا عذاب30 November, 2005 | پاکستان خیمہ بستیوں میں خارش کا مرض01 December, 2005 | پاکستان مانسہرہ میں روزانہ دو اموات02 December, 2005 | پاکستان جستی چادریں اور کوئٹہ کی انگیٹھی02 December, 2005 | پاکستان امداد کے لیے، سب سے بڑی اپیل01 December, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||