خیمہ بستیوں میں خارش کا مرض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلہ سے متاثرہ ہزارہ کی خیمہ بستیوں میں رہنے والوں میں خصوصا عورتوں میں خارش کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مانسہرہ میں کڈز بلڈ ڈیزیز آرگنائزیشن (کے بی ڈی او) اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے تعاون سے چلنے والا ایک بڑا ہسپتال متاثرین کے لیے کام کررہا ہے جہاں صرف گزشتہ ایک روز میں خارش کے پندرہ مریض علاج کے لیے آئے۔ کے بی ڈی ہسپتال کے منتظم مشتاق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کے روز پینتیس مریض آؤٹ ڈور میں دکھانے کے لیے آئے جن میں سے پندرہ لوگوں کو جلد میں خارش کی بیماری تھی جنہیں سکیبی تشخیص کیاگئی۔ ان کا کہنا ہے کہ خیموں میں زیادہ لوگوں کا ایک ساتھ رہنا، کھانے پکانے کے لیے آگ جلانا اور سگریٹ پینا اس بیماری کی ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں۔ رضا کاروں کا کہنا ہے کہ جلدی امراض کا شکار خصوصا عورتوں ہورہی ہیں۔ مشتاق احمد نے کہا کہ زلزلہ آئے پونے دو ماہ گزر گئے لیکن اس دوران میں متاثرہ خاندانوں کی عورتیں اور بچے غسل خانے نہ ہونے اور پانی کی فراہمی کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے غسل نہیں لے سکے جس وجہ سے انہیں جلدی امراض ہورہے ہیں۔ کراچی سے مانسہرہ آکر متاثرین کے لیے کام کرنے والی رضاکار ایک لیڈی ڈاکٹر شاہین نے کہا کہ خیموں میں رہنے والی عورتوں کی ہائجین (بدن کی صفائی) نہیں ہے جس وجہ سے انہیں جلد کا انفیکشن ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیموں میں مقیم عورتیں ہسپتال میں آنے سے ہچکچاتی ہیں اور انہوں نے خود قریبی خیموں میں جاکر انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ ہسپتال آئیں جہاں ان کے معائنہ کرنے کا انتظام موجود ہے۔ ڈاکٹر شاہین کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہفتہ پہلے کراچی سے آئیں تھیں اور یہاں اب تک چار حاملہ عورتوں کا طبی معائنہ کرچکی ہیں۔ دیہی علاقہ میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ٹولرنس کی اہلکار بشری سلمان نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں عورتوں کو کئی مسائل کا سامنا ہے لیکن مقامی روایات کے پیش نظر ان پر کھل کر بات چیت نہیں کی جاسکتی۔ بشری سلمان کا کہنا تھا کہ متاثرین کی اکثریت کو سر چھپانے کے لیے ایک کمرے کی جھونپڑی میسر نہیں تو غسل خانے تو دور کی بات ہیں۔ اکثر متاثرہ علاقوں میں اور خیمہ بستیوں میں لیٹرین بھی موجود نہیں۔ کے بی ڈی ہسپتال کے منتظم نے کہا کہ خارش کے مریضوں کو علاج کے لیے ان کا ہسپتال اب تک سکیبیز لوشن کی ہزاروں بوتلیں بانٹ چکا ہے اور جلد ہی کراچی سے امراض جلد کے ماہر ڈاکٹر بھی مانسہرہ میں آکر ایسے مریضوں کا معائنہ کریں گے۔ | اسی بارے میں برفباری میں کھاد کی تقسیم29 November, 2005 | پاکستان خیموں میں سردی کا عذاب30 November, 2005 | پاکستان مانسہرہ: امدادی چیکوں پر جھگڑے30 November, 2005 | پاکستان امدادی پروازیں پھر سے شروع29 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||