خیموں میں سردی کا عذاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقوں کے پہاڑوں پر برف باری کے بعد خیموں میں مقیم زلزے سے متاثرہ افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سرد موسم سے بچاؤ کے لئے ناکافی رہائش کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں ہائپوتھرمیا یعنی شدید سردی کا شکار ہونے والے بچوں اور عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ مظفرآباد میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار کاشف قمر جب تازہ صورتحال جاننے کے لئے شہر کے دو ہسپتالوں میں گئے تو انہیں کئی بچے خواتین اور ایسے عمر رسیدہ افراد ملے جو ریسپریٹری ٹریک انفیکشن ، ہائیپو تھرمیا اور نمونیا جسیے امراض میں مبتلا ہسپتال میں داخل ہیں۔ عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسس ہسپتال مظفرآباد میں جینگ ترانگڑ گاؤں کے رہنے والے محمد رفیق نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ انکے گاؤں میں برف باری شروع ہوچکی ہے اور رات کے وقت خیمے نہایت سرد ہوجاتے ہیں۔ سردی اور طبی امداد میسر نہ ہونے کی وجہ سے ان کے مطابق وہاں اب تک کئی بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے بیچ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع چکوٹی کی نمونیا میں مبتلا ایک چھوٹی بچی خضرہ کے والد نے بتایا کہ سردی بڑھتے ہی ان کے گاؤں کے بیشتر گھروں میں خاندان کے کئی کئی افراد بیمار ہوگئے ہیں۔ اٹھ مقام کی رہنے والی شگفتہ بی بی اپنے بیٹے ندیم کو ہسپتال علاج کے لئے لائیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ انکا بڑا بیٹا گھر کے ملبے تلے دب کر پہلے ہی ہلاک ہوچکا ہے۔ عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسس ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر ، ڈاکٹر بشیر الرحمن نے بتایا کہ اس سردی کی وجہ سے پانچ ہزار فٹ اور اس سے زیادہ بلندی پر واقع مقامات پر سردی سے بچاؤ کے لئے مناسب رہائش نہ ہونے کی وجہ سے خاص طور پر بچے اور بوڑھے شدید ریسپیریٹری انفیکشن کا شکار ہورہے ہیں۔ اور جب سے سردی شروع ہوئی ہے ان کے ہسپتال میں روز تقریبا ڈیڑھ سو بچے ان بیماریوں میں مبتلا ہوکر علاج کے لئے لائے جارہے ہیں۔ کاشف قمر نے بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فوری طور پر اتنے بڑے پیمانے پر ایسی رہائش گاہیں تیار کرنا جن سے سردی اور بارش کے اثرات سے بچا جاسکے تقریبا ناممکن ہے۔ فی الوقت حکومتی اداروں اور امدادی تنظیموں کی یہ کوشش ہے کہ وہ پہلے سے موجود خیمہ بستیوں میں متاثرین کو ایسے اقدامات سے آگاہ کریں جس کی مدد سے وہ اپنے آپ کو سردی سے بچاسکیں۔ ان اقدامات میں لوگوں کو موٹے گدے فراہم کرنا شامل ہے تاکہ ان تک زمین سے سردی نہ پہونچ سکے۔ اس بات پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ بارش سے بچاؤ والے خیمیں مزید فراہم کئے جائیں اور جہاں ایسا نہ ہوسکے تو وہاں پہلے سے موجود خیموں پر پلاسٹک کی چادریں چڑھادی جائیں۔ | اسی بارے میں امدادی پروازیں پھر سے شروع29 November, 2005 | پاکستان برفباری میں کھاد کی تقسیم29 November, 2005 | پاکستان زلزلے کے بعد اب بیماریوں کا حملہ29 November, 2005 | پاکستان خیمہ بستیاں مارچ 2006 تک ختم 28 November, 2005 | پاکستان زلزلہ سے پاکستان کی سیاحت متاثر28 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||