خیمہ بستیاں مارچ 2006 تک ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ متاثرین زلزلہ کے قائم کی گئی خیمہ بستیاں تیس مارچ دو ہزار چھ تک ختم کر دی جائیں گی تاہم اس سے قبل متاثرین کو ان کے علاقوں میں آباد کر دیا جائے گا۔ یہ اعلان صوبائی وزیر بلدیات سردار ادریس نے پیر کو حویلیاں کے قریب بانڈہ صاحب خان کے مقام پر ایک خیمہ بستی کے دورے کے دوران کیا۔ انہوں نے خیمہ بستی میں رہنے والے متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مکانات کی تعمیرنو یا مرمت کا بندوبست کرنے کے بارے میں بھی کوششیں شروع کر دیں۔ مبصرین کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے تیس مارچ کی تاریخ کا اعلان اس لیے بھی کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرین واپسی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں۔ صوبہ سرحد کے پانچ اضلاع آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ ان میں مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹگرام، کوہستان اور شانگلہ شامل ہیں۔ زلزلے کے بعد جگہ جگہ متاثرین کو رکھنے کے لیے خیمہ بستیاں قائم کی گئیں۔ کئی ماہرین کے خیال میں متاثرہ علاقوں میں خراب موسم اور تعمیراتی سامان کی کم دستیابی کی وجہ سے تیس مارچ تک کی ڈیڈلائن شاید قابل عمل نہ ہو۔ | اسی بارے میں ڈونگہ خیمہ تھانہ پولیس پر مقدمہ15 November, 2003 | پاکستان اختلافات کی خبریں، تبدیلی کا پیش خیمہ؟05 April, 2004 | پاکستان بے گھروں کے لیے خیمہ شہر 14 October, 2005 | پاکستان خیمہ بستی: زندگی کا عمل جاری 22 October, 2005 | پاکستان خیمہ بستی منتقلی پر تناؤ22 October, 2005 | پاکستان فوج کو خیمہ بستی بسانے کی تربیت12 November, 2005 | پاکستان باغ: خیمہ بستی اکھاڑنے پر جھگڑا25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||