| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈونگہ خیمہ تھانہ پولیس پر مقدمہ
پنجاب کے جنوبی شہر بہاولنگر کے نواحی قصبہ ڈونگہ بونگہ میں شہریوں کی ہلاکت پر پولیس اہکاروں اور ڈاکٹر طاہرکےخلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جب کہ مظاہرین اور مقتولین کے ورثاء کے خلاف بھی مقدمات کے درج کیے جانے کے آثار ہیں۔ ضلعی ناظم علی اکبر وینس نے کہا ہے کہ ’شہر کے حالات اب معمول پر آرہے ہیں اور کشیدگی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔‘ جلی ہوئی عمارت کے احاطہ میں ڈونگہ بونگہ تھانہ عارضی طور پرخیموں میں قائم کر دیا گیا ہے۔اور چھ سو مسلح اہکار اس کے ارد گرد تعنات کر دیے گئے ہیں ۔پولیس نے مقامی مسجد میں اعلان کراتی رہی کہ اگر کوئی مقدمہ درج کرانا چاہتا ہے تو تھانہ سے رجوع کرے۔ جس کے بعد تھانہ میں پہلا مقدمہ ایک عورت کے کپڑے پھاڑے جانے کے خلاف اور دوسرا اسی تھانے کے سابق ایس ایچ اور مقامی ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر کے خلاف درج ہوا ہے ۔ نو تعینات شدہ ایس ایچ او انسپکٹر پرویز جتوئی نے بی بی سی ڈاٹ کام کو بتایا کہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے سید محمد یوسف کے والد اور دیگر رشتہ دار ضلعی ناظم کے ہمراہ مقدمہ درج کرانے آۓ تھے اور مقتول کے والد کی تحریری درخواست پر قتل اوراقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’ وقوعہ کے روز ڈکیتی کے دوران قتل ہونے والے الطاف کی نعش لیے سید محمد یوسف اور دیگر افراد احتجاج کر رہے تھے اس دوران انہوں نے مقامی ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر طاہر کو پکڑ لیا لیکن اس وقت کے ایس ایچ او ڈونگہ بونگہ، ڈاکٹر طاہر کو چھڑا کے لے گئے اور اسی غصہ میں ڈاکٹر طاہر اور ایس ایچ او انسپکٹر یوسف نے انتقام لینے کے لیے فائرنگ کی جس سے دو افراد سید محمد یوسف اور ملک ارشد ہلاک ہوۓ۔‘ تھانہ کے نئے ایس ایچ او نے بتایا کہ تا حال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پولیس ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمات درج کرنے پر غور کر رہی ہے۔انسپکٹر پرویز جتوئی نے کہا کہ ’تھانہ ، ہسپتال، ڈاکٹر کا گھر اور فائر بریگیڈ کی گاڑی جلانے کے واقعات بہرحال قانون شکنی ہیں اور ڈاکٹر طاہر نے تھانہ کے نمبر پر فون کر کے انہیں کہا ہے کہ وہ اس مقدمہ کے اندراج کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔ ایس ایچ او نے کہا کہ ان کی درخواست آنے کے بعد افسروں کے حکم کے مطابق مقدمہ درج کر لیا جائے گا۔
ضلعی ناظم علی اکبر وینس نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس مظاہرین کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے پولیس افسران کو منع کیا ہےکہ ایسا کوئی مقدمہ درج نہ کیا جائے کیونکہ اس سے حالات پھر خراب ہو سکتے ہیں تا ہم ان کی رائے تھی کہ مقدمہ کے اندراج کا فیصلہ پولیس افسرن نے کرنا ہے اور قواعد کے مطابق وہ انہیں نہیں روک سکتے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس عام طور ایسے واقعات کا مقدمہ ہلاک ہونے والے یا متاثرہ فریق کے خلاف درج کر لیتی ہے جس کے بعد ایف آئی آر سیل کر دی جاتی ہے تاہم معاملہ ٹھنڈا ہو جانے کے بعد ان مقدمات کی فائل کھول لی جاتی ہے اور متاثرہ فریق کے اہلِ خانہ کو گرفتار کرکے پولیس کے خلاف درج مقدمہ میں صلح کے لیے دباؤ ڈالا جاتاہے۔ وزیر اعلی پنجاب نے ڈی آئی جی کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ یہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ آخر کیا عوامل تھے کہ ایک ڈکیتی قتل کا معاملہ اس حد تک بگڑ گیا؟
ضلعی ناظم علی اکبر وینس کا کہنا تھا کہ حالات کے پس پردہ سیاسی عوامل بھی ہو سکتے ہیں جو بہرحال انکوائری کے نتیجہ میں بے نقاب ہو جائیں گے۔ قبل ازیں ڈونگہ بونگہ میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیریرین اور مسلم لیگ نون کے زیر اہتمام ایک جسلہ عام ہوا جس سے حزب اختلاف کی مذکورہ جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مقامی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیااور کہا کہ ان کے علم میں آیا ہے کہ شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے ایسا کوئی اقدام کیا تھا تو وہ جیل بھرو تحریک شروع کر دیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||