BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 November, 2005, 16:41 GMT 21:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برفباری میں کھاد کی تقسیم

زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں برف باری کے بعد بچے سکول جا رہے ہیں۔
زلزلہ سے تباہ شدہ قصبہ بٹل میں صوبہ سرحد کا محکمہ زراعت لوگوں میں گندم کا بیج اور کھاد مفت تقسیم کررہا ہے جبکہ سارے علاقہ میں دو روز سے برف پڑنا شروع ہوچکی ہے اور فصل کی بجائی کا موسم ایک ماہ ہوئے ختم ہوچکا ہے۔

اتوار اور پیر کے روز ضلع مانسہرہ کے پہاڑی علاقوں میں بارش کے بعد ہلکی برفباری ہوئی جس سے لوگوں کے خیموں میں پانی ٹپکا اور پہاڑی علاقوں میں کئی راستے دوبارہ بند ہوگئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چھ سات ہزار فٹ بلندی پر واقع پہاڑی علاقوں میں تین سے چار انچ برف پڑی ہے جبکہ پانچ ہزار فٹ تک واقع دیہاتوں میں گھنٹہ آدھ گھنٹہ برف پڑی۔

بٹل میں ایک کاشتکار ذکااللہ نے کہا کہ سرن اور کونش کی وادیوں اور پکھل کے میدان میں گندم کی بجائی کا موسم اکتوبر میں ختم ہوجاتا ہے اس کے بعد گندم کی بجوائی نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے بیج پر دوا لگی ہوئی ہے اور وہ کھانے کے استعمال میں نہیں آسکتی صرف بجائی کے لیے ہے۔

ذکااللہ نے کہا کہ حکومت ایک یوریا اور ایک ڈی اے پی کھاد کی بوری بھی لوگوں میں مفت تقسیم کررہی ہے لیکن وہ سردی کے اس موسم میں کسی استعمال میں نہیں آسکتیں بلکہ اس موسم میں پڑے رہنے کے بعد نمی کے باعث خراب ہوجائیں گی اور کروڑوں روپے ضائع ہوجائیں گے۔

دوسری طرف، اتوار اور پیر کے روز ہونے والی بارش اور برفباری سے امدادی کام بھی متاثر ہوا ہے۔ بٹل میں ایک شہری سعیدالحسن نے کہا کہ کچھ دیہات میں نجی رضاکار تنظیمیں جستی چادریں بانٹ رہی تھیں لیکن برفباری کے باعث تین روز تک ادروں کی تقسیم کا کام نہیں ہوسکا۔

بٹل، بفہ ، چنار کوٹ اور گردو نواح کے علاقوں میں برف باری کے باعث اسکول دوبارہ بند ہوگئے ہیں کیونکہ بچے اسکولوں کی عمارتیں گرنے کے بعد کھلے میدانوں میں بیٹھ کر پڑھ رہے تھے۔ تاہم شاہراہ ریشم پر شنکیاری میں اسکول کھلے رہے۔

غیرسرکاری تنظیم سنگی فاؤنڈیشن کی مانسہرہ میں اہلکار شازیہ اسلم نے کہا کہ بارش اور برفباری سے خیموں میں پانی کھڑا ہوگیا ہے جبکہ کہرا پڑنے سے جو برف جم گئی ہے وہ بہت پھسلن والی ہوتی ہے جس سے گر کر لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

شازیہ اسلم نے کہا کہ اس بار برفباری کچھ پہلے شروع ہوگئی ہے اور محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی ہے کہ اس بار پہلے سے زیادہ برفباری ہوگی جبکہ گزشتہ سال بھی معمول سے زیادہ برف پڑی تھی۔

چنار کوٹ کے ظہیر شیرازی کے مطابق سنہ انیس سو ستاسی کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ نومبر کے اواخر میں برف پڑ گئی ورنہ یہ ہر سال دسمبر کے وسط میں پڑنا شروع ہوتی تھی۔

بٹل کے سعیدالحسن کہتے ہیں کہ لوگوں کو اس وقت سردی، برفباری اور تیز ہوا سے بچنے کے لیے جستی چادروں اور گرم کمبلوں کی ضرورت ہے جبکہ سرحد حکومت بیج اور کھاد پر پیسہ ضائع کررہی ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ جب ان علاقوں میں اپریل میں بیج اور کھاد کی ضرورت ہوگی تو حکومت کیا بانٹے گی؟

66پریشانیوں کی فصل
ناران میں کسان آلو کی فصل نہیں بیچ پا رہے
66یہ لکڑی کس کام کی؟
چھپڑ بالا کے لوگ چیڑھ کی لکڑی نہیں بیچ سکتے
66تیرہ ارب کا پیکج؟
زلزلے کے بعد کاروبار کی بحالی کی کوششیں
رضا کار فورس
رضاکار نہیں رضاکاری چاہئے: وسعت اللہ کا کالم
66خیمہ بستی کی گلیاں
’خمیہ بستی کی تنگ گلیوں میں دم گھٹتا ہے،
اسی بارے میں
’اب ایک اور سانحے کا خدشہ‘
25 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد