’خیموں میں بے پردگی ہوتی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلع شانگلہ اور پہاڑوں پر بسنے والے افراد کا جو پہاڑوں سے نیچے آنے کے لیے تیار نہیں، خیال ہے کہ بچوں اور گھر والوں کو خیمہ بستیوں میں بسانا ایسے ہے جیسے انہیں لاہور اور کراچی لے کرجانا۔ ضلع شانگلہ کے رہائشی حسین علی اور باون سالہ سطان باچہ کراچی میں کام کرتے ہیں، آٹھ اکتوبر کے بعد واپس اپنے گاؤں آئے ہوئے ہیں۔ حسین علی کراچی جا کر روزی کمانے کو مجبوری کہتے ہیں لیکن وہ کسی بھی مجبوری کی صورت میں زلزلے سے تباہ شدہ گھروں کو چھوڑ کر نیچے میدان میں لگی خیمہ بستی میں آنے کو تیار نہیں ہیں۔ پہاڑ پر واقع برباٹ کوڑ کے گاؤں کی آبادی تقریباً چار ہزار افراد پر مشتمل ہے اور یہ سب کے سب آپس میں کسی نہ کسی حوالے سے رشتے دار ہیں اور ان میں کوئی بھی پہاڑ کے دامن میں آباد خیمہ بستی میں آنے کو تیار نہیں۔ کچھ لوگ اپنے مال مویشیوں کو چھوڑ کر آنے کے لیے تیار نہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ ان خیموں کو ایسے لگایا گیا ہے جیسے شہر میں تنگ تنگ گلیاں ہوتی ہیں اور ان خیموں میں ان کا دم گُھٹتا ہے اور بے پردگی ہوتی ہے اور کچھ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے رسم و راوج کو نہیں توڑ سکتے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ جہاں ہماری خواتین ہوں وہاں غیر مرد بھی آتے جاتے ہوں۔ حسین علی اور سلطان باچہ کا اس بارے میں کہنا تھا کہ بچوں اور گھر والوں کو پہاڑ سے نیچے لگی خیمہ بستی میں لا کر بسانا ایسے ہے جیسے ان کو لاہور اور کراچی لے کر جانا ہے ۔ ’ہم پہاڑ پر پیدا ہوئے ہیں اور وہیں رہیں گے، یہاں میدانوں یا شہروں میں ہم لوگ نہیں رہ سکتے‘۔ برباٹ کوڑ میں بسنے والوں کی خواہش ہے کہ جلد از جلد زلزلے سے تباہ ہونے والے ان کے گھروں کی تعیمر کا کام شروع کیا جائے تاکہ وہ آنے والے مہینوں میں شدید سردی سے بچ سکیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انکے گاؤں کا سروے ہو چکا ہے۔ لیکن شاید حکومت کے لیے پہاڑوں پر برفباری شروع ہونے سے پہلے ان گھروں کی مرمت یا تعمیر کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ ایسی صورت میں جب پہاڑوں پر برفباری شروع ہو جائے گی اور سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو جائے گا تو ان پہاڑوں پر بسنے والوں کو اپنی اور اپنے بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے شاید اپنا فیصلہ بدلنا پڑے۔ | اسی بارے میں درد کا رشتہ، کیوبا کے ڈاکٹر18 November, 2005 | پاکستان میرا کا ’فور سٹار‘ کیمپ18 November, 2005 | پاکستان شانگلہ میں خیموں کی ضرورت13 October, 2005 | پاکستان کوٹ گلہ مکمل تباہ ہو گیا14 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||