BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 November, 2005, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: کاروبار کی بحالی کی کوششیں

مظفر آباد میں ایک دوکان کی تعمیرِ نو
مظفر آباد میں ایک دوکان کی مرمت کی جا رہی ہے
چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کا ترقیاتی ادارہ سمیڈا زلزلے سے متاثرہ کشمیر کے لیے حکومت پاکستان سے تیرہ ارب روپے کے پیکج کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت نے کاروباری اور تجارتی نقصانات کا تخمینہ چار ارب روپے لگایا ہے۔

آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں زندگی کے معمول پر آنے کے ساتھ ہی کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کے بحالی کی کوششیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔

چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے ترقیاتی ادارے سمیڈا اور وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان نے وفاقی حکومت کو اس حوالے سے اپنے اپنے منصوبے پیش کیے ہیں۔

سنیچر کو دارالحکومت مظفرآباد میں دونوں اداروں کے زیراہتمام ایک مشترکہ بزنس لیڈرز کانفرنس میں ایوان کے صدر چودھری محمد سعید نے جن کا تعلق خود بھی کشمیر سے ہی ہے، کاروباری اور تجارتی نقصانات کا چار ارب کا تحمینہ بھی پیش کیا اور دعوٰی کیا کہ بحالی کا ایک منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔

چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے ترقیاتی ادارے سمیڈا کے ایک نمائندے سلطان ٹوانہ نے اس موقع پر بتایا کہ ان کا ادارہ حکومت کو تقریباً تیرہ ارب کا ایک پیکج پیش کرچکا ہے جس سے کشمیر میں کاروبار اور تجارت کی بحالی میں مدد ملنے کی امید ہے۔

وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے صدر چودھری سعید نے خواتین کا بطور خاص ذکر کیا اور کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی خواتین اگر اپنی تیار کردہ گھریلو مصنوعات بیرونی دنیا کو بھیجنا چاہیں گی تو ایوان ان کی ہر طریقے سے مدد کرے گا۔

تاہم ان تمام کوششوں کے ساتھ ساتھ مبصرین کو خدشہ ہے کہ کشمیر میں سویلین انتظامیہ اور فوجی حکام کے درمیان کھینچا تانی بحالی اور تعمیرِ نو کے کام کو متاثر کرے گی۔

سنیچر کو ضلع راولاکوٹ میں کچھ مقامی افراد نے علاقے کے ڈپٹی کمشنر کودی گئی ایک درخواست کے ذریعے غیرمہذب رویے اور توہین آمیز سلوک کی شکایت کی ہے اور ایسے واقعات کی تحقیق کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

66نئے بینک اکاؤنٹ
زلزلے کے بعد نئی زندگی کی مشکلات
66پریشانیوں کی فصل
ناران میں کسان آلو کی فصل نہیں بیچ پا رہے
اسی بارے میں
چھپڑ بالا کے درخت کس کام کے؟
26 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد