BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 November, 2005, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلے کے بعد نئے اکاؤنٹ مشکل

بینک آف خیبر میں اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے قطار
نئے کھاتے کھلوانے کے لیے نئے سرے سے اپنی شناخت ثابت کرنے کی جہدوجہد
شاہراہ ریشم پر مانسہرہ سے پچاس کلومیٹر دور زلزلہ سے متاثرہ بٹل قصبہ میں نیشنل بینک کے باہر سینکڑوں لوگ پھٹے پرانے کپڑے اور ٹوٹے پھوٹے جوتے پہنے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

ان میں سے کئی لوگ دو دو روز سے سطح سمندر سے چھ سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع پہاڑوں میں واقع اپنے دیہاتوں سے نیچے اتر کرکے نیشنل بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے آئے ہوئے تھے۔

مانسہرہ سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر دور سیریاں گاؤں کے عاشق شاہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت متاثرین کو صرف بینک آف خیبر کے چیک دے رہی ہے جس کی پورے ضلع مانسہرہ میں صرف ایک برانچ ہے جبکہ اس علاقہ میں متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

مانسہرہ سے آگے شاہراہ قراقرم کے دونوں طرف وادی اوگی، وادی کونش اور وادی سرن کے سیکنڑوں دیہات واقع ہیں جن کے رہائشی زیادہ تر نیشنل بینک کی شاخوں میں اکاؤنٹ کھلوا رہے ہیں جس کی اس علاقہ میں زیادہ شاخیں ہیں۔

وادی کونش میں ٹولرنس نامی رضاکار تنظیم کے کارکن طارق لطیف کا کہنا ہے کہ غریب اور ان پڑھ لوگوں کو بینکوں کا طریقہ کار معلوم نہیں۔ ان سے بینک کا فارم پُر کرنے کے لیے بینکوں کے باہر بیٹھے لوگ پچاس روپے فی فارم وصول کررہے ہیں۔

چونکہ زیادہ تر لوگوں کے شناختی کارڈ نہیں ہیں اور وہ دستخط نہیں کرسکتے اس لیے ان کی فوٹو بھی اکاؤنٹ کھولنے کے فارم پر لگائی جاتی ہے جس کے لیے ان لوگوں کو سو روپے خرچ کرکے فوٹو کھِنچوانا پڑتی ہے۔

مانسہرہ میں بینک آف خیبر کے منیجر جمیل خان کا کہنا تھا کہ انیس نومبر سے انہوں نے اپنے بینک کے ایک ایک بوتھ بالاکوٹ، بٹل، مانسہرہ، شنکیاری اور گڑھی حبیب اللہ میں کھول دیے ہیں جہاں دو دو بینک افسر زلزلہ متاثرین کے اکاؤنٹ کھولنے کا کام کررہے ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ بینک آف خیبر میں ایک ہزار سے زیادہ اکاؤنٹ کھولے جارہے ہیں۔

بینک کے منیجر کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ کھولنے کے فارم پر متعلقہ علاقہ کے پٹواری اور کونسلر کی تصدیق ہونا لازمی ہے۔

باج ترلی گاؤں کے محمد خان کا کہنا تھا کہ وبال یہ ہے کہ ان سب مرحلوں سے گزر کر اکاؤنٹ کھولنے کے لیے حکومت کے دیے ہوئے چیک کے ساتھ ساتھ پانچ سو روپے جمع کرانا بھی لازمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ تباہ و برباد ہوچکے ہیں اور ان کو پانچ سو روپے قرض لے کر اکاؤنٹ کھلوانا پڑتا ہے۔

بینک آف خیبر مانسہرہ کے منیجر کا کہنا ہے کہ کوئی ایسا نہیں جس کے پاس پانچ سو روپے نہ ہوں لیکن اگر کوئی بہت مجبور ہو تو وہ اس کا اکاؤنٹ بغیر پیسے لیے بھی کھول دیتے ہیں۔ مانسہرہ میں ایک میدان نما جگہ پر کھولے گئے خصوصی بوتھ کا دورہ کیا گیا تو وہاں پر موجود ہر شخص نے بینک منیجر کے سامنے کہا کہ ان سے پانچ سو روپے لانے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ایک شخص کے پانچ سو روپے گم ہوگئے تو اسے وہاں موجود دوسرے لوگوں نے چندہ جمع کرکے پانچ سو روپے دیے۔
66سنگل کوٹ کی امید
کراچی والے قراقرم کی تباہ حال وادیوں میں
66زلزلہ اور تبلیغ
زلزلے والے علاقوں میں مذہبی جماعتوں کی تبلیغ
66پریشانیوں کی فصل
ناران میں کسان آلو کی فصل نہیں بیچ پا رہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد