زلزلے کے بعد نئے اکاؤنٹ مشکل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاہراہ ریشم پر مانسہرہ سے پچاس کلومیٹر دور زلزلہ سے متاثرہ بٹل قصبہ میں نیشنل بینک کے باہر سینکڑوں لوگ پھٹے پرانے کپڑے اور ٹوٹے پھوٹے جوتے پہنے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ دو دو روز سے سطح سمندر سے چھ سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع پہاڑوں میں واقع اپنے دیہاتوں سے نیچے اتر کرکے نیشنل بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ مانسہرہ سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر دور سیریاں گاؤں کے عاشق شاہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت متاثرین کو صرف بینک آف خیبر کے چیک دے رہی ہے جس کی پورے ضلع مانسہرہ میں صرف ایک برانچ ہے جبکہ اس علاقہ میں متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
وادی کونش میں ٹولرنس نامی رضاکار تنظیم کے کارکن طارق لطیف کا کہنا ہے کہ غریب اور ان پڑھ لوگوں کو بینکوں کا طریقہ کار معلوم نہیں۔ ان سے بینک کا فارم پُر کرنے کے لیے بینکوں کے باہر بیٹھے لوگ پچاس روپے فی فارم وصول کررہے ہیں۔ چونکہ زیادہ تر لوگوں کے شناختی کارڈ نہیں ہیں اور وہ دستخط نہیں کرسکتے اس لیے ان کی فوٹو بھی اکاؤنٹ کھولنے کے فارم پر لگائی جاتی ہے جس کے لیے ان لوگوں کو سو روپے خرچ کرکے فوٹو کھِنچوانا پڑتی ہے۔
بینک کے منیجر کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ کھولنے کے فارم پر متعلقہ علاقہ کے پٹواری اور کونسلر کی تصدیق ہونا لازمی ہے۔ باج ترلی گاؤں کے محمد خان کا کہنا تھا کہ وبال یہ ہے کہ ان سب مرحلوں سے گزر کر اکاؤنٹ کھولنے کے لیے حکومت کے دیے ہوئے چیک کے ساتھ ساتھ پانچ سو روپے جمع کرانا بھی لازمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ تباہ و برباد ہوچکے ہیں اور ان کو پانچ سو روپے قرض لے کر اکاؤنٹ کھلوانا پڑتا ہے۔
|
اسی بارے میں نیٹو کی امدادی ٹیم ضلع باغ میں24 November, 2005 | پاکستان نہ میکہ سلامت رہا اور نہ ہی سسرال24 November, 2005 | پاکستان پہاڑوں پر رہ جانےوالوں کی فکر24 November, 2005 | پاکستان باغ: خیمہ بستی اکھاڑنے پر جھگڑا25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||