تعمیرِنو، بڑا چیلنج ہے: شوکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِاعظم شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستانی قوم پر’وسیع تر تعمیرِ نو کی ذمہ داری آن پڑی ہے‘۔ دولتِ مشترکہ کے اجلاس کے دوسرے دن اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آٹھ اکتوبر کا زلزلہ’ ایک انسانی المیہ تھا‘۔ پاکستانی وزیرِاعظم نے بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک اور تنظیموں نے پاکستان کو چھ اعشاریہ دو بلین ڈالر امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وعدے پاکستانی حکومت پر دنیا کے اعتماد کا مظہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم اس قسم کے ردعمل سے بہت خوش ہیں۔ اس سے ہماری شفاف کوششوں اور حکومت کی جانب سے نقصان اور بحالی کے لیے درکار رقم کے لیے لگائے گئے اندازوں پر اعتماد کا اظہار ہوتا ہے‘۔ شوکت عزیز نےاس بات پر بھی زور دیا کہ دولتِ مشترکہ کے رکن ترقی پذیر اور چھوٹے ممالک کی معیشتوں کی تعمیرِ نو اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے ایک عبوری منصوبہ تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں دولتِ مشترکہ کے رہنما مختلف خیالات اور مفادات کے باوجود باہمی تجارت کے معاملے پر متفق ہونے کی کوشش کریں گے۔ شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ اگر اجلاس کے اختتام پر تجارت سے متعلق نقشۂ راہ فراہم کیا جاتا ہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہوگی۔ پاکستانی وزیرِ اعظم نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ دولتِ مشترکہ کی رپورٹ میں پاکستان میں جمہوریت کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سنہ 1999 میں جنرل مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دولتِ مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کر دی تھی جسے سنہ 2004 میں بحال کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ’سردی ہزاروں کو مار دے گی‘25 November, 2005 | پاکستان ’اب ایک اور سانحے کا خدشہ‘25 November, 2005 | پاکستان ’خوراک ذخیرہ کرنا پہلی ترجیح‘25 November, 2005 | پاکستان ’13 لاکھ افراد کو خوراک پہنچانا ہے‘25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||