BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 November, 2005, 18:29 GMT 23:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امداد کی وجہ سے سامان نہیں بکتا‘

شیریں علی
’تقریباً ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے کہ کہیں سے سامان نہیں لایا کیونکہ دُوکان پر پہلے سے موجود سامان بھی نہیں بِکا‘
آٹھ اکتوبر کے زلزلے نے جہاں ہزاروں لوگوں کی جانیں لیں اور لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا وہیں زلزلے سے تباہ ہونے والے علاقوں کے لوگوں کے کاروبار خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

شانگلا سے تعلق رکھنے والے پینتالیس سالہ شیریں جن کی کریانہ کی ایک دُوکان ہے کا کہنا تھا کہ جس دن زلزلہ آیا اُس کے دو دن بعد سے ٹرکوں میں کھانے پینے کا سامان اُن کے علاقوں میں آ رہا ہے جس کی وجہ سے اُن کی دُکان اور اُن کی طرح کے دوسرے چھوٹے دُکانداروں کا سامان نہیں بکتا۔

زلزلے کا ڈر
 آٹھ اکتوبر کے بعد سے اب تک تقریباً چار سو لوگ جنہوں نے بشام آنا تھا اور میرے ہوٹل میں ٹھہرنا تھا اپنا پروگرام منسوخ کر چکے ہیں
رحیم داد
شیریں علی کا کہنا تھا کہ پہلے وہ ہر دو ہفتوں کے بعد وہ راولپنڈی جاتے تھے اور وہاں سے اپنی دُوکان کے لیے سامان لے کر آتے تھے لیکن اب تقریباً ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے کہ وہ کہیں سے سامان نہیں لائے کیونکہ اُن کی دُوکان پر پہلے سے موجود سامان بھی نہیں بکا۔

بٹگرام کے بازار کے ایک اور دُوکاندار زرجان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر لوگ خیمہ بستیوں میں چلے گئے ہیں اور وہاں لوگوں کو کھانے پینے کا سامان مل جاتا ہے اور کچھ جو اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے وہ دوسرے علاقوں میں چلے گئے ہیں۔

جو لوگ باقی بچے ہیں وہ بھی سڑک کے کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ٹرکوں پر آنے والے سامان سے کچھ نہ کچھ اُن کو مل جاتا ہے اس لیے وہ بھی بازار میں نہیں آتے۔

انہوں نے کہا کہ ’باہر سے جو لوگ ایک دو دن کے لیے آتے ہیں وہ اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان لے کر آتے ہیں اور وہ بھی ہماری دُوکانوں پر نہیں آتے‘۔
بازار میں زیادہ تر سبزی اور مرغی کا گوشت ہی بکتا ہے۔

زلزلے سے صرف چھوٹے دُوکانداروں کا ہی کاروبار متاثر نہیں ہوا بلکہ ہوٹلوں کا کاروبار بھی کافی حد تک متاثر ہوا ہے۔ بشام ضلع شانگلا میں واقع ہے اور ایک تفریحی مقام ہے جہاں اندرونِ ملک اور باہر سے لوگ آتے ہیں۔

بشام کانٹیننٹل ہوٹل کے مالک حاجی رحیم داد کا کہنا تھا کہ زلزلے بعد سے لوگوں نے ہوٹلوں میں ٹھہرنا چھوڑ دیا ہے۔ حاجی رحیم داد کا کہنا تھا کہ آٹھ اکتوبر کے بعد سے اب تک تقریباً چار سو لوگ جنہوں نے بشام آنا تھا اور اُن کے ہوٹل میں ٹھہرنا تھا اپنا پروگرام منسوخ کر دیا ہے۔ اب لوگ صرف کھانا کھانے آتے ہیں۔ رات کو ہوٹلوں میں نہیں ٹھہرتے۔

رحیم داد کا مزید کہنا تھا کہ ’ویسے توگرمیوں میں زیادہ تر سیاح یہاں آتے ہیں لیکن شاہراہ ریشم پر ہونے کی وجہ سے سردیوں میں بھی کافی سیاح یہاں آتے تھے جو اب یہاں نہیں آرہے ‘۔

ایک مقامی صحافی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کے ذہنوں میں بھی ڈر بیٹھ گیا ہے اور وہ بھی پکے چھتوں کے نیچے نہیں سوتے اور باہر سے آنے والوں کے ذہنوں میں تو یقیناً خوف ہوگا۔

عبدالرحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ شمالی علاقوں میں لوگ زیادہ تر تفریح کے لیے آتے تھے اور کئی دوستوں نے ملک کے دوسرے حِصّوں سے فون کر کے اُن سے علاقے کے بارے میں پوچھا جس سے یہ لگ رہا تھا کہ وہ خوف زدہ ہیں اور اُن کے خیال میں یہ خوف ختم ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔

شمالی علاقوں اور خاص طور پر شاہراہ ریشم پر واقع علاقوں کی معیشت کا دارومدار سیاحوں پر ہے اور ایسے حالات میں سیاحوں کے نہ آنے کی وجہ سے علاقے کی معیشت کسی نہ کسی حد تک متاثر ہو رہی ہے۔

66پریشانیوں کی فصل
ناران میں کسان آلو کی فصل نہیں بیچ پا رہے
66امدادی ترجیحات
’تیرہ لاکھ افراد کو خوراک پہنچانا باقی‘
اسی بارے میں
زلزلے کے بعد نئے اکاؤنٹ مشکل
25 November, 2005 | پاکستان
مینٹل ہسپتال میں زلزلہ
24 November, 2005 | پاکستان
’اب ایک اور سانحے کا خدشہ‘
25 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد