چھپڑ بالا کے درخت کس کام کے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع چھپڑ بالا اور شنگری کے لوگ قیمتی چیڑھ کے درختوں کے مالک ہیں لیکن وہ انہیں فروخت کرکے زلزلہ سے منہدم اپنے مکانوں کی تعمیر نہیں کرسکتے کیونکہ حکومت نے اس پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ چیڑھ کے جنگل میں گھرے ہوئے چھپڑ بالا اور شنگری گاؤں مانسہرہ سے تقریبا ستر کلومیٹر دور شاہراہ قراقرم پر سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہیں۔ یہ چنار کوٹ وادی میں سب سے اونچائی پر موجود آبادیاں ہیں اور یہاں پہنچنے کے لیے پہاڑ میں گھومتی ہوئی کچی اور دشوار گزار سڑک پر جیپ سے جانا پڑتا ہے۔ ان دیہات سے ضلع مانسہرہ کی ساری وادیاں اور کشمیر تک کے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ زلزلہ سے جس پہاڑ میں دراڑ پڑ گئی ہے اسے مقامی لوگ ’موسٰی کا مصّلٰی‘ کہتے ہیں۔ چھپڑ بالا اور شنگری میں دسمبر کے اواخر سے لے کر اپریل تک چھ سے آٹھ فٹ برف پڑتی ہے اور آنے جانے کے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں۔ چھپڑ بالا اور شنگری کے پہاڑ پر چنار، اخروٹ، املوک اور جاپانی پھل کے درخت بھی ہیں۔ قیمتی لکڑی اور خشک میوے کے درختوں سے مالا مال ان دیہاتوں کے لوگ پتھروں اور لکڑیوں سے بنے ہوئے سادہ مکانوں میں رہتے تھے، کچھ لوگ ٹماٹر اگاتے تھے اور کچھ شہروں میں جاکر مزدوری کرتے تھے۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلہ نے ان کے مکانوں کو مٹی میں ملادیا اور گاؤں کے مرد شہروں سے مزدوری چھوڑ کر گاؤں آکر کھلے آسمان تلے پڑے اپنے بیوی بچوں کی رکھوالی کر رہے ہیں۔ گاؤں کے ایک رہنے والے گل شاہ نے کہا کہ’بے روزگار بیٹھے ہیں اور اللہ اللہ کرتے ہیں۔گزشتہ سال خشک سالی کی وجہ سے ٹماٹر کی فصل بھی اچھی نہیں ہوئی‘۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ اپنے گزارہ کے لیے کام کاج کیوں نہیں کرتے تو گل شاہ نے کہا ’جب ہمارے بچے اپنی جگہ پر بیٹھے تھے ہمیں تسلی تھی لیکن اب بچے تنگ ہوتے ہیں رات کو ڈرتے ہیں، ڈیڑھ مہینے سے روزانہ زلزلہ کے جھٹکے آرہے ہیں ہم انہیں چھوڑ کر نہیں جاسکتے‘۔
چھپڑ بالا اور شنگری کے بچے صرف ڈرتے ہی نہیں بلکہ شدید سردی سے بیمار بھی ہیں۔ ۔گاؤں میں بوڑھے اور بچوں کو کھانسی اور زکام ہے۔ اس پہاڑی گاؤں کا ایک نوجوان نسیم شاہ کہتا ہے کہ بیمار لوگوں کو علاج کے لیے پہاڑ سے اتر کر قریبی قصبہ میں لے جانا پڑتا ہے جو خاصا مشکل کام ہے۔ پہاڑ پر اب تک کوئی سرکاری یا غیر سرکاری طبی امداد نہیں پہنچی۔ گاؤں کے رہائشی ظفر علی کہتے ہیں زلزلہ سے تیسرے دن ایک فوجی کپتان راشن لائے تھے اس کے بعد سے اب تک حکومت نے یہاں کوئی چیز تقسیم نہیں کی۔ اسلام آباد کی ایک رضاکار تنظیم نے کچھ روز سے یہاں کیبن بنانے کے لیے جستی چادریں پہنچانا شروع کی ہیں۔ چار سو مکانوں پر مشتمل چھپڑ بالا گاؤں میں دور پہاڑ پر موجود ایک چشمہ کے نیچے پانی کی ٹنکی بنائی گئی تھی جس سے پائپوں کے ذریعے پانی گاؤں میں لایا جاتا تھا جو پینے کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا اور زراعت کے لیے بھی۔ گل شاہ کا کہنا ہے کہ زلزلہ سے پانی کی ٹنکی ٹوٹ گئی اور پائپ بھی۔ اب وہ اپنی مقامی زبان میں کہتے ہیں کہ پانی لانے کے لیے لوگ گدھے تاڑتے ہیں یعنی گدھوں پر لاد کر پانی گاؤں تک لاتے ہیں۔ جن کے پاس گدھے نہیں وہ سر پر رکھ کر لاتے ہیں۔ زراعت تو پانی کا نظام تباہ ہوجانے سے فی الحال ختم ہوگئی ہے۔ دوسرا ذریعہ آمدن چیڑھ کے درختوں کی قیمتی لکڑی ہو سکتی ہے۔ حکومت کے ریزرو جنگل کے علاوہ ان لوگوں کی اپنی ملکیتی زمین پر بھی چیڑھ کے درخت لگے ہوئے ہیں لیکن اس آفت کے وقت میں یہ لوگ اپنی ہی ملکیت کی چیز سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ چھپڑ بالا کے معروف شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے درختوں کو علاقہ سے باہر لے جانے پر پابندی لگائی ہوئی ہے اور درختوں سے جو ریزن (بیروزہ) نکالا جاسکتا ہے وہ فرنیچر کے کام میں استعمال ہوتا ہے اور خاصا قیمتی ہے لیکن اسے نکالنے پر بھی پابندی عائد ہے۔ درختوں کو بیچنے پر پابندی لگانے کا یہ نتیجہ نکلا کہ لوگ انہیں فروخت تو نہیں کرسکتے اس لیے وہ چیڑھ کی قیمتی لکڑی کو جلانے کے لیے استعمال کررہے ہیں اور جنگل کی جگہ کھیت بنا کر ٹماٹر کاشت کرنے لگے۔ گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اگر صرف ایک سال کے لیے لوگوں کو محدود پیمانے پر اپنے درخت کاٹ کر بیچنے کی اجازت دے دے تو یہ لوگ اپنی مدد آپ کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ان لوگوں کے سر پر چھت نہ رہی تو اس جگہ رہنا ناممکن ہے جہاں وہ صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ یہاں پر رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ شاہجہان کے دور میں شیراز سے برصغیر میں آئے تھے اور اس وقت سے اس علاقہ میں آباد ہیں۔ | اسی بارے میں ’امداد کی وجہ سے سامان نہیں بکتا‘25 November, 2005 | پاکستان پہاڑوں پر رہ جانےوالوں کی فکر24 November, 2005 | پاکستان جستی چادروں کے گھر22 November, 2005 | پاکستان جانور کی کیا اوقات18 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||