BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 November, 2005, 07:48 GMT 12:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رضاکار نہیں رضاکاری چاہئے

پاکستان میں رضا کاروں کو تربیت دینے کا کبھی نہیں سوچا گیا۔
سکول کے پی ٹی ماسٹر سے منسوب سینہ بہ سینہ روایتی داستانوں کے باوجود ستر کی دہائی کے وسط تک کم ازکم میری نسل کے طلبا بوائے اسکاؤٹس تحریک کا حصہ بننے میں فخر محسوس کرتے تھے۔

کیونکہ اس تحریک میں شامل ہونے والے بچوں کو وردی، بوٹ، گلے میں پہننے کا رنگین رومال اور اسکاؤٹس بیجز ملتے تھے۔ہم اپنے اس ساتھی کو جلن اور رشک سے دیکھتے تھے جو قائد اعظم اسکاؤٹس کے تربیتی کیمپ کے لیے منتخب ہوجاتا تھا۔اس کیمپ کی وہی اہمیت تھی جو فوج میں سٹاف کالج کورس کی ہوتی ہے۔

ہمیں لیفٹ رائٹ اٹینشن کے ساتھ ساتھ رسیوں کی گرہیں لگانی کھولنی، پہاڑوں اور جنگلوں میں لکڑیاں جوڑ کر کیمپ بنانے، کم سے کم وسائل میں گزارا کرنےاور ابتدائی طبی امداد کے اصول بتائے جاتے تھے۔ اہم دنوں میں ٹریفک کنٹرول کرنے اور لوگوں کی راہ نمائی کا کام بھی ملتا تھا۔میری نسل کی گرلز گائیڈز کی بھی کم و بیش انہی خطوط پر تربیت ہوتی تھی۔

لیکن آج تیس برس بعد کوئی یہ پوچھے کہ زخمی کو فرسٹ ایڈ کیسے دی جاتی ہے یا لکڑیوں کو رسی کی گرہ لگا کر اسٹریچر کیسے بنایا جاتا ہے تو شاید میں پوچھنے والے کا منہ تکتا رہ جاؤں۔

کیونکہ اسکاؤٹنگ چھوڑنے کے بعد کسی نے مجھے نہیں بتایا کہ ایسی چیزوں کو یاد رکھنے کے لیے ہر کچھ عرصے بعد ریفریشر کورس کتنا ضروری ہوتا ہے۔

اسکاؤٹس ہوں یا گرلز گائیڈز، شہری دفاع کے رضاکار ہوں یا کالجوں کی نیشنل کیڈٹ کور اسکیم، ان سب میں شامل لاکھوں بچوں اور جوانوں پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے لیکن ریفریشر کورسز اور ریکارڈ رکھنے کی روایت نہ ہونے کے سبب یہ تربیت اور سرمایہ خاک میں مل گئے۔

متحدہ ہندوستان کی مسلم لیگ سے لے کر غریب عوام پارٹی تک پچھلے اٹھاون برس میں سینکڑوں سیاسی تنظیمیں ابھریں اور ڈوب گئیں۔ہر پارٹی کو یوتھ ونگ بنانے کا بھی بہت شوق رہا ۔لیکن ان میں سے دوچار کو چھوڑ کر کسی جماعت نے اپنے جوشیلے کارکنوں کو خدمتِ خلق کی تربیت دینے کی زحمت نہیں کی۔

اس ملک میں تقریباً پچیس لاکھ پنشن یافتہ سابق فوجی موجود ہیں۔اگر آج جنگ چھڑ جائے تو ان میں سے کم ازکم ایک ملین فوجیوں کو ضرور کسی نہ کسی خدمت کے لیے طلب کرلیا جائے گا۔

کیا کسی نے قدرتی آفات سے جنگ میں ان فوجیوں کے تجربے اور جذبے سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں کبھی سوچا۔

اب زلزلہ زدگان کی مدد اور تعمیرِ نو کے لیے ایک نئی قومی رضاکار تنظیم کا افتتاح ہوا ہے۔اگر نارنجی رنگ کی جیکٹیں پہننے، رنگارنگ افتتاحی تقریب کی تصاویر ، خبریں اور بڑے بڑے اشتہارات چھپوانے اور ایک دوسرے کو اس تنظیم کے قیام کی مبارکبادیں دینے سے قدرتی آفات کے شکار لوگوں کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے تو یقیناً یہ تنظیم اپنے مشن میں بہت کامیاب رہے گی۔

لیکن کیا اتنی سی بات سمجھنے کے لیے بھی آئن سٹائن کا دماغ چاہئے کہ پاکستان کو اب رضاکاروں سے زیادہ رضاکاری کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
دیکھو بچو ہاتھی آیا
30 October, 2005 | پاکستان
جب کوئی احساس ہی نہ رہے
28 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد