BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 November, 2005, 19:34 GMT 00:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلے کے بعد اب بیماریوں کا حملہ

مریض بچّہ
ہر روز ہسپتالوں میں 150 کے قریب مریض آ رہے ہیں: ڈاکٹر
جیسا کہ خدشہ تھا زلزلہ زدہ علاقوں میں سردی، مستقل بارش اور ٹھنڈک میں شدید اضافے کی وجہ سے بہت سارے ایسے امراض پھیلنا شروع ہو گئے ہیں جن کا براہ راست تعلق سردی سے ہے۔ ان میں سر فہرست نمونیا ہے۔

عباس انسٹٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز مظفر آباد میں بہت سارے بچے، بوڑھے جوان داخل ہیں جو نمونیا، ہائیپوتھرمیا اور اسی طرح کی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

سردی میں سکول
سردی میں سکول
پہاڑوں میں اپنے گاؤں سے ہسپتال پہنچنے والے محمد رفیق نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں شدید سردی ہے اور وہاں برف پڑ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹینٹوں میں بھی سردی ہے اور گزارا نہیں ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علاقے میں ہیضہ، نمونیا اور اس طرح کی دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں جس وجہ سے انہیں شدید پریشانی کا سامناہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گاؤں میں بہت سے ایسے بیمار بچے ہیں جن کو ہسپتال تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ رفیق نے کہا کہ ان بیماریوں کی وجہ سے بچّے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

رفیق نے بتایا کہ ان کا چار ماہ کا بچہ اور بیوی بھی بیمار ہیں لیکن وہ انہیں نہیں لا سکتے تھے۔

انسٹٹیوٹ میں چکوٹھی سے آئے ایک مریض نے بتایا کہ وہاں ایسے بھی گھر ہیں جہاں چار چار لوگ بیمار ہیں جن کو یہاں تک لانا مشکل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی سات سالہ بیٹی خضراء کو کندھے پر اٹھا کر اور تین گاڑیاں تبدیل کر کے چکوٹھی سے مظفرآباد لائے ہیں۔

شگفتہ اٹھ مقاماں سے اپنے بچے ندیم کے ساتھ آئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا اور بیٹی زلزلے سے ہلاک ہو گئے تھے اور اب ان کا دوسرا بیٹا بیمار ہے۔

انسٹٹیوٹ میں ڈاکٹر بشیر الرحمٰان نے بتایا کہ شدید سردی کی وجہ سے وہ علاقے خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں جو پانچ ہزار فٹ سے بلندی پر واقع ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں کے پاس اب سردی سے بچنے کا مناسب بندوبست نہیں ہے۔

ڈاکٹر بشیر نے بتایا کہ سردی سے بچے اور بوڑھے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹینٹ سردی نہیں روک پا رہے۔

انہوں نے بتایا کہ مظفر آباد سے باہر سے بھی نمونیا اور دیگر بیماریوں کے پھیلنے کی اطلاعات مِل رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ادارے میں ہر روز ایک سو سے ڈیڑھ سے کے قریب مختلف بیماریوں میں مبتلا بچوں کو لایا جاتا ہے۔

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے فیلڈ ہسپتال میں ایک خاتون نے بتایا کہ ان کی بیٹی نمونیا کا شکار ہے اور دونوں وادی نیلم سے چار روز میں اس ہسپتال میں پہنچی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سفر کے آغاز کے وقت ان کی بیٹی کی طبعیت اتنی خراب نہیں تھی۔

فیلڈ ہسپتال میں موجود ڈاکٹر نے بتایا کہ گزشتہ دو روز میں بارشوں اور برفباری کے بعد مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے فیلڈ ہسپتال میں روزانہ ایک سو ساٹھ اور ستر کے قریب مریض آتے ہیں۔ انہوں نے دو بچوں کی نمونیا سے ہلاکت کی تصدیق کی۔

ہسپتال میں موجود شکیلہ نے بتایا کہ ان کا چند ماہ کا بچہ سردی سے بیمار ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عارضی رہائشگاہ جس میں وہ رہ رہی تھیں وہاں بستر کے نیچے سے زمین ٹھنڈی تھی جس سے بچے کو سردی لگی۔

اسی بارے میں
’نمونیہ سب سے بڑا خطرہ ہے‘
20 November, 2005 | پاکستان
امدادی پروازیں پھر سے شروع
29 November, 2005 | پاکستان
ناران میں کسانوں کو مشکلات
25 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد