BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 November, 2005, 03:28 GMT 08:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی پروازیں پھر سے شروع

موسم کی خرابی کی وجہ سے بعض علاقے برف میں ڈوب گئے ہیں
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں برفباری اور بارش کے باعث معطل ہونے والی امدادی پروازیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے ترجمان ڈیرن بوائزووٹ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ امدادی پروازیں آج پوری طرح شروع کر دی گئی ہیں۔ان کے مطابق یہ پرویزیں اتوار کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں خراب موسم کی وجہ سے معطل کی گئی تھیں۔

ڈیرن بوائزووٹ نے بتایا کہ اس وقت بھی پچہتر فی صد سے زائد زلزلے سے متاثرہ افراد ایسے خیموں میں رہ رہے ہیں جن میں سردی کی شدت برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سردی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی سڑک کے ذریعے ان علاقوں میں خوراک اور کمبل پہنچانے میں تیزی لائی گئی ہے تاکہ لوگ سردی اور برفباری میں خود کو گرم رکھ سکیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورتحال خاصی پیچیدہ ہے اور آئی او ایم نے ہیلی کاپٹروں کے بجائے زمینی راستوں سے ان افراد کو امدادی سامان پہنچانے کے لیے جیپوں کی ایک بڑی تعداد کو کرائے پر حاصل کیا ہے تاکہ سڑکیں بند ہو جانے یا بہہ جانے سے پہلے ان علاقوں میں امدادی سامان پہنچایا جا سکے۔

اس سے قبل بوائزووٹ نے بتایا تھا کہ مظفرآباد، ضلع باغ اور ملحقہ علاقوں میں گزشتہ دو روز سے موسم کی شدت کی وجہ سے ہیلی کاپٹر امدادی پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستانی حکومت اور بین الاقوامی اور مقامی امدادی ادارے موسم سرما کے شروع ہونے کے بارے میں پہلے ہی اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

ادھر پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار اعلی اینڈریو میکلوڈ نے شمالی علاقوں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں برف باری شروع ہونے پر صورت حال کو مزید خراب قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اب موسم کی وجہ سے متاثرین کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اینڈریو میکلوڈ نے کہا کہ گزشتہ روز پہلی تیز برفباری ہوئی ہے اور سو سے زیادہ افراد کو ہسپتالوں میں داخل کروایا گیا ہے۔جبکہ سردی کے باعث کچھ اموات بھی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں یاد رکھنا ہوگا کہ ہمالیہ کی شدید سردی عام حالات میں بھی لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے جبکہ اس وقت حالات زلزلے کی وجہ سے پہلے ہی بہت خراب ہیں۔ متاثرین کو اس سرد ترین موسم میں سخت مشکلات کا سامنا ہوگا۔

اینڈریو میکلوڈ نے مزید بتایا کہ موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ نے ’ونٹر ریس‘ کے نام سے متاثرہ علاقوں میں ایک نیا آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج کے ساتھ مل کر اب تک ساٹھ ہزار ہنگامی پناہ گاہیں تیار کی گئی ہیں جن میں سے بیس ہزار فوج نے، بیس ہزار پاکستانی شہریوں نے اور بیس ہزار انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے تیار کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب بھی ناکافی ہے لہذا ’ونٹر ریس‘ کے تحت ہمیں متاثرین کے لیے ہیٹر، کمبل اور دیگر مطلوبہ اشیاء ان تک پہنچانی ہونگی۔‘ میکلوڈ نے یہ بھی کہا کہ تعمیر نو کی باتیں ابھی قبل از وقت ہیں کیونکہ اس وقت ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لئے مزید رقم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زلزلے کے متاثرین کے لیے کچھ ممالک نے مزید رقم فراہم کی ہے۔ ناروے نے مزید انتالیس ملین ڈالر دیے ہیں جبکہ برطانیہ نے بھی
ایک بڑی رقم فراہم کی ہے۔ ’تاہم یہ بھی ناکافی ہے اور ہمیں مزید لاکھوں ڈالر کی ضرورت ہے۔‘

اینڈریو میکلوڈ نے کہا کہ برف باری کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک رسائی مزید مشکل ہوجائے گی کیونکہ برف ہٹانے کے لئے نیٹو کی مشینری ناکافی ہے۔

66زلزلہ اور تبلیغ
زلزلے والے علاقوں میں مذہبی جماعتوں کی تبلیغ
66’ گئی جند‘
مہربانی ہے خاناں دی: ایک پاگل کی کہانی
66یہ لکڑی کس کام کی؟
چھپڑ بالا کے لوگ چیڑھ کی لکڑی نہیں بیچ سکتے
رضا کار فورس
رضاکار نہیں رضاکاری چاہئے: وسعت اللہ کا کالم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد