’برفباری سے زیادہ اثر نہیں پڑا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی ریلیف کمشنر کے ترجمان کرنل بصیر کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں برفباری سے امدادی کارروائیاں زیادہ متاثر نہیں ہوئی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’جب تک سڑک نہیں کھلی تھی ہم ہیلی کاپٹروں پر انحصار کر رہے تھے۔ اب ہم ہیلی کاپٹرضرورتاً استعمال کر رہے ہیں اور امدادی سامان اب سڑک کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے‘۔ اس سوال پر کہ کیا متاثرہ علاقے میں حالیہ برف باری اور شدید سردی سے نمٹنے کے لیے وفاقی ریلیف کمشنر نے کوئی خاص انتظام کیا ہے کرنل بصیر کا کہنا تھا کہ’ ہمیں اس چیز کا احساس تھا کہ موسم سرد ہونے والا ہے اور برفباری ہونے والی ہے۔ اسی لیے ہم نے ہنگامی بنیادوں پر ایک کمرے کے شیلٹر بنانے شروع کیے تھے۔ پانچ ہزار فٹ سے بلند علاقوں میں جہاں برفباری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس علاقے کے لیے ہم نے 20000 شیلٹر بنا لیے ہیں جبکہ 5000 زیرِ تعمیر ہیں۔ یہ وہ شیلٹر ہیں جو وفاقی ریلیف کمیشن نے فوج کے تعاون سے بنائے ہیں‘۔ مظفرآباد میں زلزلہ متاثرین میں ہائیپوتھرمیا (شدید سردی سے موت) کا شکار ہونے کی خبروں پر ترجمان کا کہنا تھا کہ’ ہم نے اس کے لیے دو چیزیں کی تھیں۔ ایک تو خیمے اور دوسرے کاربوریٹڈ شیٹ سے بنے شیلٹر جو نہ صرف گرم رہیں بلکہ برفباری بھی سہہ سکیں۔ برفباری کے خدشے کے پیشِ نظر ہی پانچ ہزار فٹ سے زیادہ کی بلندی پر ہم نے وہ خیمے تقسیم کیے جو سرد موسم برداشت کر سکتے ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ ہم اس سلسلے میں مزید کوششیں کر رہے ہیں۔ جہاں خیمے ہیں وہاں ہم نے اسٹوو پہنچائے ہیں اور گیس برنر فراہم کیے ہیں۔ اگرچہ اس سے خیموں میں آگ لگنے کا خطرہ موجود ہے تاہم اب جو سٹوو فراہم کیے جا رہے ہیں اور کیے جائیں گے ان سے ایسا کوئی خطرہ نہیں‘۔ | اسی بارے میں برفباری اور بارش نے خطرہ بڑھا دیا27 November, 2005 | پاکستان درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گرگیا27 November, 2005 | پاکستان برفباری، مزید جھٹکے، راستے بند 27 November, 2005 | پاکستان ناران میں برفباری، نئی مصیبتیں25 November, 2005 | پاکستان ’نمونیہ سب سے بڑا خطرہ ہے‘20 November, 2005 | پاکستان ایک کمرہ بنا کردیں گے: فاروق11 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||