BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پورے پاکستان میں چار زلزلہ انجینئرز

زلزلے کی تباہی
اگر عمارتیں زلزلے کے اصولوں پر بنائی جاتیں تو کم نقصان ہوتا
حال ہی میں امریکا سے زلزلہ انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کرنے والے پشاور انجینئرنگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر قیصر علی نے بتایا ہے کہ پورے پاکستان میں اس وقت زلزلہ کے چار انجنیئرز ہیں۔

ان چار انجیئرز میں سے دو این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کراچی جبکہ دو پشاور انجینئرنگ یونیورسٹی میں درس و تدریس میں مصروف ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر قیصر نے بتایا کہ انکے علاوہ پشاور انجینئرنگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر نعیم اور این ای ڈی انجینیئرنگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر لودھی اور ڈاکٹر صاحبزادہ رفیقی وہ ماہرین ہیں جو زلزلہ انجینیئرنگ کے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں۔

انکے بقول پاکستان میں اس وقت کم سے کم آٹھ سو زلزلہ انجینیئروں کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر قیصر نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ پاکستان کے انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے نصاب میں زلزلہ سے متعلق مضامین شامل نہیں ہیں جسکی وجہ سے فارغ ہونے والے طلباء کی ڈیزائن کردہ عمارات زیادہ پائیدار نہيں ہوتیں۔ انکے بقول پشاور انجینئرنگ یونیورسٹی بہت جلد زلزلے سے متعلق مضامين نصاب میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ڈاکٹر قیصر علی کی کوششوں سے پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اسلام آباد میں دنیا کے نامور ماہرین کی ایک کانفرنس منعقد کی تھی جنہوں نے زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کیلیئے چار نکاتی سفارشات پیش کی تھیں جسکو آجکل وہ آخری شکل دینے میں مصروف ہیں۔

اسلام آباد کے مارگلہ ٹاورز جو کے زلزلے کے بڑے جھٹکے برداشت نہ کر سکے

ان سفارشات کے متعلق ڈاکٹر قیصر نے بتایا کہ کانفرنس میں ماہرین نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ سب سے پہلے ایک ایسا نقشہ بنایا جائے جس میں درجہ بندی کی جائے کہ مستقبل میں کن علاقوں کو زیادہ اور کن کو زلزلے سے کم خطرہ درپیش ہے۔ نقشے پر چھ سے نو سال لگ سکتے ہیں۔

دوسری سفارش کے مطابق ملک میں سائنسی اور جامع بنیادوں پر بلڈنگ کوڈ(تعمیراتی سفارشات) بننا چاہیے اور کوڈ پاکستان میں موجود تعمیراتی میٹریل کی بنیاد پر بننا چاہیے۔ اسکے علاوہ حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ سفارشات کو عملی جامہ پہاننے کیلیئے نچلی سطح پر عام لوگوں کے علاوہ منتخب نمائندگان کو شامل کیاجائے تاکہ وہ عمارات کی تعمیر کے وقت لوگوں اور ٹھیکیداروں پر کڑی نگاہ رکھیں۔

حکومت کو چوتھی سفارش یہ کی گئی ہے کہ ایک ایسا ادارہ بننا چاہیئے جو زلزلہ کے بعد فوری طور پر نقصانات کے پیمانے کو کم کرنے کیلیئے ایسے زلزلہ پروف ہسپتال اور سکول بنائیں جو ایمر جنسی میں علاج اور پناگاہ کے طور پر استعمال ہوسکیں۔

بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے ادارہ کے سربراہ جنرل زبیر ان سفارشات کی روشنی میں دنیا کے نامور انجینئروں کی ایک ٹاسک فورس بنارہے ہیں جنکا کام زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو کیلیئے قلیل المدت پلان بناناہے۔

ٹاسک فورس کیلیئے ترکی کے بلڈنگ کوڈ بنانے والے مصطفیٰ اردک، سلوانیا کے بلڈنگ کوڈ کے رکن اور دنیا میں اینٹوں کے تعمیرات کے نامور ماہر لپھا ٹومازوچ، کیلیفورنیا کے بلڈنگ کوڈ کے رکن پاکستانی نژاد امریکی انجینئر سیف حسین، اٹلی کے پروفیسر کلوی اور امپیرئل کالج لندن کےپروفیسر جولیان پومر کے نام زیر غور ہیں۔

66پھر زلزلہ آ گیا تو ۔۔۔
کوئٹہ میں خستہ عمارتوں پر تشویش
66زلزلہ پروف سکول
بالاکوٹ میں پری فیبریکیٹڈ سٹیل کا سکول
66کاغان کا غم
کاغان میں گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے
اسی بارے میں
زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر
06 November, 2005 | پاکستان
فوج نے تاخیر کی: اے آر ڈی
31 October, 2005 | پاکستان
ہرجیت سنگھ کا موبائل کلینک
26 October, 2005 | پاکستان
خیمہ بستی منتقلی پر تناؤ
22 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد