کوئٹہ زلزلے کے لیے تیار نہیں: مقررین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں ماہرین اور عوامی نمائندوں نے کہا ہے کہ شہر میں اسی فیصد سے زیادہ عمارتیں بڑے زلزلے برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہیں ان میں زیادہ تر سرکاری عمارتیں اور سکول شامل ہیں۔ انیس سو پینتیس میں کوئٹہ اور اب آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو شمالی علاقوں اور کشمیر میں زلزلوں کے بعد ماہرین نےآئندہ اس طرح کی آفات سے نمٹنے کے لیے تدابیر کرنے پر زور دیا ہے۔ کوئٹہ میں ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن نے ’کیا ہم تیار ہیں؟‘ کے عنوان سے سیمینار منعقد کرایا جس میں سرکاری اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ عوامی نمائندوں نے شرکت کی ہے۔ زرغون ٹاؤن کے ناظم روزی خان نے کہا ہے کہ صرف ان کے ٹاؤن میں اسی فیصد عمارتیں انتہائی خستہ حالت میں جنہیں نوٹس بھجوائے جا رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی شفیق احمد نے کہا ہے کہ اب اگر زلزلہ آیا تو ان سکولوں میں ایک بچہ یا استاد بھی زندہ نہیں رہے گا۔ کوئٹہ میں مئی انیس سو پینتیس میں آنے والے زلزلے کے ایک عینی شاہد سابق گورنر بلوچستان بریگیڈیئر عبدالرحیم درانی نے اس وقت کے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ساتویں کلاس کے طالبعلم تھے اور بابو محلے میں اپنے ماموں کے گھر میں تھے۔ رات تین بجے جب زلزلہ آیا تو انھیں ایسا لگا کے دیواریں ہل رہی ہیں تو انھوں نے خوف کے مارے منہ کمبل میں چھپا لیا۔ اس کے بعد دیواریں گرنے لگیں۔ ان کے قریب دیوار گری لیکن دوسری دیوار پر رک گئی جس کے نیچے سے انھوں نے اپنے بھائی کو نکالا اور سب کو کہا کہ رات کو ہمارے گھر زلزلہ آیا جس سے ہمارا گھر گر گیا ہے۔ تو باہر لوگوں نے کہا کہ تم تو اپنے گھر کی بات کرتے ہو یہاں تو تمام مکان گر گئے ہیں۔ نہ کوئی گلی ہے نہ کوئی بازار اور نہ کوئی مارکیٹ ہے۔ متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی بلقیس سیف سے میں نے پوچھا کہ کیا ہم اس طرح کی آفات کے لیے اب تیار ہیں تو انھوں نے کہا کہ بالکل نہیں یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ انھوں نے صوبہ سرحد میں اپنی حکومت کی تعریفیں کیں اور وفاقی حکومت پر تنقید۔ لیکن بلوچستان میں مجلس عمل اور مسلم لیگ کی مخلوط حکومت کے کردار پر انھوں نے کہا کہ وہ اس حکومت میں ایک حصہ دار ہیں تاہم ان کی حکومت عمارتوں کے بارے میں سروے کر رہی ہے۔ عورت فاؤنڈیشن کے کوئٹہ کے انچارج یونس خالد نے بتایا ہے کہ مقررین نے ایک ایسا ادارہ قائم کرنے پرزور دیا ہے جو ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے اور رضاکاروں کو تربیت دی جائے جو اگلے سال مئی میں تربیت کی مشق کریں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے رکن صوبائی اسمبلی اختر لانگو نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں قرضے اور امداد تو حاصل کی جاتی ہے لیکن یہ امداد حقیقی لوگوں تو نہیں دی جاتی۔ حکمران اپنی عیاشیوں کے لیے یہ امداد حاصل کرتے ہیں۔ آئندہ کے لیے بلوچستان پولیس نے پانچ سو اہلکاروں کو نامزد کیا ہے جنھیں اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کے لیے تربیت دی جائے گی۔ | اسی بارے میں ’آفات سے نمٹنے کا طریق کار بدلیں‘23 November, 2005 | پاکستان بلوچستان کان حادثہ، تین ہلاک22 November, 2005 | پاکستان بارودی سرنگوں سے68 ہلاک 23 November, 2005 | پاکستان خیموں میں آگ، تین بچے زخمی23 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||