بارودی سرنگوں سے68 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں غیرسرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور گزشتہ برس اس سے تقریبا دو سو افراد جان کھو بیٹھے۔ پشاور میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران سپیڈو اور کیمپ نامی غیرسرکاری تنظیموں نے بتایا کہ پاکستان میں اس سال مئی تک اڑسٹھ افراد بارودی سرنگوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ سپیڈو کے رضا شاہ خان اور کیمپ کے نوید احمد شنواری نے اپنی مشترکہ رپورٹ میں کہا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان کے پاک افغان سرحد پر واقعے خطوں میں بارودی سرنگوں کی موجوگی انسانی جانوں کے لیےشدید خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں تین ہزار افراد ان مہلک ہتھیاروں سے متاثر ہوئے جن میں سے چالیس اب تک اپنی جان کھو چکے ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بارودی سرنگوں سے متاثر ہونے والے اکثر بچے ہیں جوکہ کافی تشویشناک پہلو ہے۔ وسیع عالمی صورتحال کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں اس وقت دو لاکھ مربع کلومیٹر کا علاقہ بارودی سرنگوں سے اٹا پڑا ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں اور پاکستان سے بارودی سرنگوں کے استعمال کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ | اسی بارے میں وانا میں چار ہلاک تین زخمی10 August, 2005 | پاکستان لورالائی دھماکہ: 4 افراد ہلاک31 May, 2005 | پاکستان سپین بولدک: پانچ فوجی ہلاک24 May, 2005 | پاکستان وزیرستان: 1 فوجی ہلاک 7 زخمی05 October, 2004 | پاکستان وانا میں چار طالب علم ہلاک01 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||