BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 November, 2005, 03:35 GMT 08:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان کان حادثہ، تین ہلاک

گزشتہ سال مئی میں ایک کان میں میتھین گیس کے دھماکے سے آگ لگ گئی تھی جس سے پندرہ مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔
صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئلے کی ایک کان کی چھت گرنے سے تین مزدور ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ یہاں کوئٹہ سے کوئی ساٹھ کلومیٹر دور جنوب میں پیش آیا ہے۔ مائن انسپکٹر فاروق احمد نے بتایا ہے کہ مارگٹ کول فیلڈ میں مزدور سہ پہر کے وقت کام کر رہے تھے کہ اچانک کان کی چھت گر گئی جس سے جان محمد رجب علی اور جعفر خان ہلاک ہو گئے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ کوئلے کی کانوں میں اکثر حادثے ہوتے رہتے ہیں بعض اوقات میتھین گیس بھرنے سے دھماکہ ہو جاتا ہے جبکہ کان کی چھت سے بڑے پتھر یا چھت گرنے سے بھی ہلاکتیں ہوتی رہتی ہیں۔

گزشتہ سال مئی میں ایک کان میں میتھین گیس کے دھماکے سے آگ لگ گئی تھی جس سے پندرہ مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔

بلوچستان میں دو سو پینتالیس کوئلے کی کانیں ہیں جہاں لگ بھگ ساٹھ ہزار افرد بر سر روزگار ہیں ان میں چالیس ہزار مزدور ہیں جن میں سے بیتر کا تعلق صوبہ سرحد کے علاقے شانگلہ سوات دیر وغیرہ سے ہیں۔

کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے بتایا ہے کہ ان کانوں میں حالات انتہائی ابتر ہیں جہاں ٹھیکیدار مزدوروں کو ایڈوانس رقم دے کر ساری عمر کے لیے کانوں میں کام کرنے کے لیے مجبر کرتا ہے اور اس کو یہاں جوڑی سر کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مالکان کوئلے کی کانوں میں حفاطتی اقدامات نہیں کرتے جس سے ان کانوں میں حادثات کی شرح کافی زیادہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد